ہم بھی پاکستانی ہیں،2 سال سے مصری بندرگاہ پر پھنسے افراد کی دہائی

ہم بھی پاکستانی ہیں،2 سال سے مصری بندرگاہ پر پھنسے افراد کی دہائی

  

قاہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک)2 سال سے مصری بندرگاہ پر پھنسے پاکستانیوں کو تاحال واپس نہ لایا جا سکا، بحری جہاز کے کپتان نے وطن واپسی میں مدد کے لیے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کردی۔خیال رہے کہ 2 سال قبل مصری بندرگاہ سفاگا پر لنگرانداز مرچنٹ شپ (تجارتی جہاز) ’سی ہارس ٹو‘ کو اس کے مالک کی جانب سے محصولات نہ ادا کرنے پر ریڈ سی اتھارٹی نے تحویل میں لے لیا تھا۔ جہاز کے مالک پر پہلے سے بھی مقدمہ درج تھا اور محصولات کے تنازعے کے بعد اس نے معاملے سے ہاتھ اٹھالیے اور تب سے پاکستانی عملہ سفاگا کی بندرگاہ پر بے یار و مددگار ہے۔

جہاز پر کل 6 پاکستانی محصور تھے تاہم بعد ازاں 3 گزشتہ سال وطن واپس آنے میں کامیاب رہے جبکہ باقی تین افراد تاحال جہاز میں موجود ہیں جن میں کپتان، چیف انجینئر اور چیف آفیسر شامل ہیں۔ جن کی سفری دستاویزات بھی ریڈ سی اتھارٹی کے قبضے میں ہیں۔جہاز کے کپتان رحمان فضل نے ویڈیو پیغام میں وزیراعظم سے وطن واپسی میں مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم دو سال سے بغیر تنخواہ کے جہاز پر محصور ہیں، ہمارے خاندان قرضوں میں ڈوب چکے ہیں، خدارا ہمیں واپس لائیں۔

مزید :

علاقائی -