کرونا پرانٹرنیشنل میڈیا کیا لکھ رہا ہے؟

کرونا پرانٹرنیشنل میڈیا کیا لکھ رہا ہے؟
 کرونا پرانٹرنیشنل میڈیا کیا لکھ رہا ہے؟

  

دنیا بھر میں تالہ بندی کی جا رہی ہے، وہ جگہیں جہاں دن اور رات کا فرق کرنا مشکل ہوتا تھا آج بھوتوں کے قصبے معلوم ہوتے ہیں، بازار بند ہیں، سکول بند ہیں، سفری پابندیاں ہیں تو بڑے اجتماعات کو جان لیواتصور کیا جا رہاہے۔کسی بھی بیماری کو ایسا گلوبل ریسپانس کبھی نہیں دیا گیاکیونکہ اب کوئی بھی جزیروں میں نہیں رہ سکتا ہے، ہر کوئی عالمی برادری کا حصہ ہے، اگر ایک کو یہ وبا لگتی ہے تو ہرایک کو لگ سکتی ہے۔اس لئے مشکوک لوگوں کے ٹیسٹ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ انسانوں کواگلے دو سال تکایکدوسرے سے 6فٹ کی دوری پر رہنا سیکھناہوگا!

سب سے بڑا مسئلہ یہ بنا ہواہے کہ اس صورت حال سے نجات کا راستہ کیا ہوسکتا ہے؟ بتایا جا رہا ہے کہ اس سے نجات کے تین راستے ہیں، کوئی ویکسین تیار ہو جائے، دوسرا یہ انفیکشن اس قدربڑی تعداد میں ہوجائے کہ انسانوں کے اندر خود بخود ایک انبوہی قوت مدافعت (herd immunity) پیدا ہو جائے اور تیسرا یہ کہ سوسائٹی مستقل طور پر سماجی فاصلے کے ایک نئے ڈھب سے جینا سیکھ لے۔ ویکسین کو12سے 18ماہ لگیں گے، اگر انبوہی قوت مدافعت (herd immunity)سے کام چلانا ہے تو دنیا کی کل آبادی کے 60سے 80فیصد کو اس وبا کا شکار ہونا پڑے گا اور اس کے لئے 2سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ واضح رہے کہ خناق کی بیماری کے لئے 75فیصداور خسرے کی بیماری کے 91فیصد لوگوں کو انفیکشن ہونے کے بعد انبوہی قوت مدافعت (herd immunity)پید اہو سکی تھی۔

کروناوائرس کے خلاف گوریلا جنگ لڑنا پڑے گی۔ وائرس آپ کے گھر کی دہلیز کے باہر گھات لگائے بیٹھا ہے۔یہ توقع نہیں لگانی چاہئے کہ زندگی جلد ہی نارمل روٹین کی طرف پلٹ آئے گی کیونکہ پابندیاں ہٹانے کا مطلب یہ ہے کہ نئے سرے سے وبا کو پھیلنے کا موقع دیا جائے۔یاد رہے کہ 2009میں H1N1نزلے کی وبا پھیلی تھی جسیس سوائن فلو کا نام دیا گیا تھا۔ جون 2009ء میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اسے ایک وبا قرار دیا تھااور ستمبر 2009ء کے وسط تک اس وائرس کے تدارک کے چار ویکسین کی منظوری دی گئی تھی جنھیں اکتوبر میں لوگوں کو لگانا شروع کردیا گیا تھا اور دسمبر کے آخر میں جا کر اس ویکسین کے عام استعمال کی اجازت دی گئی تھی جبکہ اگست 2010ء میں اس وائرس پر قابو پایا گیا تھا۔

امریکہ میں گزشتہ ہفتے ایک شخص کو ایک تجرباتی کرونا وائرس ویکسین دی گئی ہے جس کے لئے ریسرچ کرنے والوں کو اجازت دی گئی تھی کہ وہ جانوروں پر تجربہ کرنے کے مرحلے سے گزرے بغیر کسی انسان کو یہ تجرباتی ویکسین دے سکتے ہیں، ابھی تک نتیجے کا انتظار ہے۔ اس وقت ریسرچر انسانوں اور جانوروں پر متعدد ویکسینوں کے تجربات کر رہے ہیں۔ عمومی طور پر ریسرچروں کوایک نئی ویکسین تیار کرنے میں ڈیڑھ سے دو سال لگتے ہیں۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ موسمی نزلے کی طرح کرونا وائرس ایک مقامی بیماری کی طرح ہر سیزن میں پھوٹ پڑا کرے گی تا آنکہ اس کی ایک کارگر ویکسین تیار کرلی جاتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر مسئلہ ہوگا کہ کم سے کم وقت میں دنیا بھر کے لئے اس ویکسین کی تیاری ممکن ہو سکے۔ یاد رہے کہ ریسرچر گزشتہ 40برس سے ایچ آئی وی کے لئے ویکسین بنانے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ 2020ء کے ایک بڑے حصے میں کرونا وائرس کے چیلنج کا بنی نوع انسان کوسامنا رہے گااور 2021ء میں انسان اس صفحے کو الٹنے کے قابل ہو سکے گا، تب تک اس کے خلاف کوئی ویکسین تیار ہو سکے گی اور انسان کو اس بیماری کے خلاف درکار تجربہ دستیاب ہوگا۔

آمرانہ طرز حکومت کے حامل ممالک جیسے کہ چین میں نقل و حرکت پر کڑی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، نگرانی کے کڑے اصول لاگو کئے جا سکتے ہیں، گھر گھر میں بخار چیک کیا جا سکتا ہے، لوگوں کو زبردستی قرنطینوں میں ڈالا جا سکتا ہے اور کاروباری اور رائے عامہ کے دباؤ کو پس پشت ڈالا جاسکتا ہے۔ صرف اسی صورت میں اس وائرس کی روک ٹوک کی جاسکتی ہے، لیکن دوسرے ممالک کے لئے یہ آسان کام نہیں ہے، خاص طور پر غریب ممالک کے لئے تو معاشی نقصانات اٹھانا بھی ممکن نہیں ہے جو طویل بندشوں کے نتیجے میں سہنا پڑتے ہیں، خاص طور پر جب ان ممالک میں صحت سے متعلق انفراسٹرکچر کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے۔ زندگی کا پہیہ دوبارہ سے تبھی رواں ہوسکتا ہے اگر کل آبادی کا 90فیصد کرونا وائرس کے ٹیسٹ سے کامیابی سے گزر جائے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹربروس آئل ورڈکا کہنا ہے کہ چین نے ووہان میں تین ماہ کا سخت لاک ڈاؤن کیا تو نارمل حالات کی طرف پلٹ رہا ہے۔ ان کے مطابق افریقہ اور بر صغیر میں ابھی اس وباء کی ابتدا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے نبردآزما ہونے میں چھے ماہ لگیں گے۔ جتنے زیادہ شٹ ڈاؤن ہوں گے، اتنی ہی زیادہ مہلت میسر ہوگی کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ یقینی بنائے جاسکیں۔ اٹلی میں زیادہ اموات اس لئے ہوئیں کہ جاپان کے بعد اٹلی دوسرا ملک ہے جہاں بوڑھوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس کے باوجود 10فیصد مریضوں کی تعداد ایسی ہے جو 20، 30اور 40کے پیٹے میں ہیں۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ کہیں یہ کم آمدن والے ملکوں میں نہ پھیل جائے جہاں صحت کی سہولتوں کا بھی فقدان ہے۔

مزید :

رائے -کالم -