خیبرپختونخوا، جاں بحق ہونے والوں کی تعداد سب سے زیادہ، متاثرین اچانک بڑھ گئے

خیبرپختونخوا، جاں بحق ہونے والوں کی تعداد سب سے زیادہ، متاثرین اچانک بڑھ ...

  

طورخم کی پاک افغان سرحد پر آٹو میٹک تھرمل اسکینر نصب، آنے والوں کی چیکنگ

اگرچہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں زیادہ تیزی نہیں ہے لیکن آہستہ آہستہ یہ ملک کے طول و عرض میں پنجے گاڑ رہا ہے، خیبرپختونخوا میں تو گزشتہ دو تین روز سے یہ مہلک وبا کچھ زیادہ ہی تیز دکھائی دے رہی ہے، 24 گھنٹے کے دوران اس صوبے میں سب سے زیادہ اموات ہوئیں اور کورونا کے نئے کیسز بھی سامنے آئے۔ سرکاری طور پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان بھر میں ہونے والی 189 ہلاکتوں میں سے ابتک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں 74 افراد کا انتقال اس وائرس کی وجہ سے ہو چکا ہے۔ سندھ میں 61، پنجاب میں 42، بلوچستان میں 6 جبکہ گلگت بلتستان اوراسلام آباد میں تین، تین افراد اس مہلک وائرس کے باعث ہلاک ہوئے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں متاثرین کورونا کی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور بعض علاقوں میں تو ہلاکتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، شہر کی جدید بستیوں میں بھی صورت حال خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے، دو روز قبل ملنے والی تفصیلات کے مطابق گلبہار، یکہ توت میں دو دو، کاک شال، متھرا، چمکنی، ناصر باغ، اکیڈیمی ٹاؤن، دلازاک روڈ، حیات آباد میں ایک ایک فرد کے جان کی بازی ہار جانے کی اطلاعات ملی ہیں اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان میں سے کسی ایک کی بھی ٹریول ہسٹری نہیں ہے، جس سے یہ بات جاننا بڑا آسان ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے اسباب کیا ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ خیبر میں کرونا وائرس سے 12 ڈاکٹرز سمیت 20 سے زائد طبی عملہ بھی متاثر ہو گیا، پشاور میں سب سے زیادہ سات ڈاکٹر اس وبا کی لپیٹ میں آ گئے ہیں،حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں اب تک تین ڈاکٹروں میں کرونا کی تصدیق ہوئی ہے۔ینگ ڈاکٹرز کے مطابق صوبہ بھر میں کرونا وائرس سے 12 ڈاکٹر، ایک پیرا میڈیکل اہلکار اور 8 نرسز متاثر ہوئے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ وفاقی نے حکومت نے کرونا وائرس کے باعث بیرون ممالک پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کیلئے طور خم اور چمن بارڈر کو ہفتے میں 2 دفعہ کھولنے کا اعلان کیا ہے اور اس حوالے سے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے بتایا ہے کہ 500 پاکستانی طورخم بارڈر اور 300 چمن بارڈر کے ذریعے لائے جائیں گے۔

اس مقصد کے تحت پاک افغان سرحد طور خم بارڈر پر جدید آٹو میٹک تھرمل اسکینر بھی نصب کر دیا گیا، دو روز قبل 400 افراد کو افغانستان سے پاکستان داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔ تھرمل اسکینرز کی مدد سے پاکستان میں داخل ہونے والوں کو چیک کیا جائے گا۔ اسکینر بخار اور فلو کے مریض کی شناخت کرتا ہے۔ اس تناظر میں ملنے والی ایک اطلاع کے مطابق افغانستان سے تین روز قبل آنے والے 195 پاکستانی ٹرانسپورٹرز میں سے 108 ٹرانسپورٹرزکے کرونا لیبارٹری ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 23 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوگئی، ڈی سی محمود اسلم نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ افرادٹرانسپورٹرز ہیں،تین روز قبل طورخم سرحد کے ذریعے افغانستان سے آئے تھے، جنہیں ضلع خیبر میں قرنطینہ کردیا گیا تھا، وائرس متاثرین کا تعلق ملک کے مختلف علاقوں سے ہے۔ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ اجمل خان وزیر نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع خیبر میں افغانستان سے واپس آنے والے افراد کے لیے سات قر نطینہ سنٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں تقریبا 1500 افراد کی گنجائش موجود ہے، اب تک افغانستان سے 713 افراد آئے ہیں جو کہ قرنطینہ سنٹرز میں ہیں۔ افغانستان سے آنے والے افراد کو پہلے قرنطینہ سنٹرز پھر آئسولیشن اور اس کے بعد ہائی ڈ یپنڈنسی یونٹس میں رکھا جائے گا.ابھی تک صوبہ بھر میں کرونا کے 1137 مثبت کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں 226 افراد صحتیاب ہوچکے، جبکہ 74 افراد کی کرونا کی وجہ سے اموات ہوئی ہیں۔ شاہ کس قرنطینہ سنٹر میں 319 افراد موجود ہیں جن میں 108 مرد اور 211 خواتین شامل ہیں. اجمل وزیر نے کہا کہ جمرود فورٹ میں 300 بندوں کی گنجائش کا قرنطینہ سنٹر قائم کیا گیا ہے جس کو بطور ماڈل آئسولیشن ویلج استعمال کیا جائے گا جس میں اٹیچیڈ واش رومز ہیں اور یہ مکمل طور پر ائسولییٹڈ ہیں. افغانستان سے آنے والے افراد بشمول امارات سے آنے والے لوگوں کے لیے بھی خصوصی انتظامات کر چکے ہیں. ہم اپنے بھائیوں کو تمام تر سہولیات ان قرنطینہ سنٹرز میں فراہم کر رہے ہیں جبکہ جلال آباد قونصلیٹ میں بھی کیمپ آفس قائم ہے وزیر اعلی محمود خان تمام اقدامات اور سہولیات کی خود مانیٹر نگ کر رہے ہے اور انھوں نے مختلف اضلاع کے دورے بھی کئے ہے۔

کورونا وائرس کے آفٹر شاکس کے حوالے سے ہر شخص پریشان ہے جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی اس سوچ میں غلطا ہیں کہ حالات معمول پر آنے کے بعد معیشت کو سنبھالا کیسے دیا جائے گا، اب صوبائی محکمہ ترقیات اور منصوبہ بندی نے اپنی رپورٹ میں جویہ انکشاف کیا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن میں 45دن کی توسیع کی گئی تو صوبے میں 13لاکھ افراد اپنی نوکریوں سے محروم اور بیروزگار ہو سکتے ہیں، یہ کس قدر خوفناک ہے اور رپورٹ میں کرونا وائرس کے معیشت پر ممکنہ طور پر مرتب ہونے والے اثرات کا جو جائزہ پیش کیا گیا ہے اسے پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے، رپورٹ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر اُجرت کمانے والے، دیہاڑی دار افراد اور گلی محلوں میں اشیا فروخت کرنے والے افراد کے کرونا وائرس سے زیادہ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے اور ساڑھے 4لاکھ سے زائد دیہاڑی دار افراد فوری بیروزگار ہو سکتے ہیں۔ رواں سال وائرس کے سبب خیبر پختونخوا حکومت کی شرح نمو کم ہو کر 2.9فیصد تک آ سکتی ہے جہاں 2019 میں یہ شرح 3.73فیصد تھی۔صوبائی حکومت کی جی ڈی پی بھی 12لاکھ 35ہزار 942ملین روپے سے کم ہو کر 13لاکھ 16ہزار 160ملین روہے ہونے کا اندیشہ ہے۔ 45روزہ لاک ڈاؤن میں 13لاکھ افراد نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان ٹرانسپورٹ اور اسٹوریج کے شعبے میں ہونے کا اندیشہ ہے جہاں 3لاکھ 59ہزار 393افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ تعمیرات، مینوفیکچرنگ اور ہول سیل کے شعبے بھی انتہائی متاثر ہو سکتے ہیں، جس میں بالترتیب 2لاکھ 95ہزار 594، 2لاکھ 58ہزار 664 اور 2لاکھ 16ہزار 252 افراد کے نوکریوں سے محروم ہونے کا امکان بھی ہے۔ زراعت کے شعبے پر اس کے اثرات انتہائی کم مرتب ہوں گے۔ اس رپورٹ کے دیگر مندرجات میں بھی ہمیں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بعد از کورونا معاملات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا اور اس کا کوئی فوری، ٹھوس حل نہ نکالا گیا تو خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے فاقہ کشی پر مجبور ہوں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -