دیر کی مہربان…………جمعہ کو یوم توبہ و رحمت!

دیر کی مہربان…………جمعہ کو یوم توبہ و رحمت!

  

لاک ڈاؤن میں نرمی، لاہوریوں نے معمول کی زندگی شروع کر دی

شہباز شریف کو پیش ہونے کا نوٹس،مسلم لیگ(ن) کی تنقید، انتقام کا الزام

وسیم اکرم پلس اِن ایکشن، روزانہ دو سے تین شہروں کے دورے، غفلت کے مرتکب حکام کے خلاف کارروائی

دیر آید درست آید کے مصداق یہ فیصلہ خوش آئند ہے کہ پرسوں (جمعتہ المبارک) ملک بھر میں یوم توبہ اور رحمت منایا جائے گا، اسلامیانِ پاکستان نمازِ جمعہ کے بعد گناہوں سے تائب ہونے، اللہ سے گناہوں کی بخشش اور رحمت کی دُعائیں مانگیں گے۔ اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عنایت فرمائے، تاہم حکومت اور علماء کرام کے درمیان جو20نکاتی معاہدہ طے پایا اس کے مطابق مساجد میں اجتماع معمول والے نہیں ہوں گے، اِس لئے یہ بہتر تجویز ہے کہ آئی ٹی کے اس جدید دور میں یہ اہتمام کیا جائے کہ ہر بڑے شہر کی مرکزی مسجد میں دُعا کا اہتمام ہو اور اس کا رابطہ شہر بھر کی جامع مساجد سے ہو۔ یوں بیک وقت دُعا ہو، اس کے لئے علماء کرام ہی کی مشاورت سے یہ بھی اہتمام کیا جا سکتا ہے کہ دعا پورے ملک میں بیک وقت ویڈیو لنک سے ہو، اس کے لئے پی ٹی وی سے بھی تعاون لیا جا سکتا ہے۔بہرحایل آج دُنیا جس قسم کی برائیوں میں مبتلا ہے اُن کو اللہ سے جنگ قرار دیا گیا ہوا ہے، فسق فجور کے علاوہ جھوٹ، فریب اور دغا بازی کا چلن عام ہو چکا، ملاوٹ، بددیانتی اور لوٹ مار عام ہے اور ہمیں کوئی امر بھی سیدھے راستے پر نہیں لاتا، اب اس ”کورونا وبا“ نے دہلا دیا ہے اور اندر سے دِل کانپتے ہیں،اِس لئے یہ عمل کہ توبہ کی اور رحمت مانگی جائے درست ہے۔ اللہ ہمیں معاف فرمائے اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عنائت فرمائے۔

کورونا وائرس نے گزشتہ دو ماہ سے زندگی مفلوج کر رکھی ہے، اور اس سے بچاؤ کے لئے لاک ڈاؤن سے بے روزگاری کے عمل میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، صنعتیں اور کاروبار بند پڑے ہیں، تعلیمی ادارے بھی بند ہیں اور یوں پورے پورے گھرانے گھروں میں رہنے پر مجبور ہوئے،اس سے دیہاڑی دار تو متاثر ہوئے، ساتھ ہی ساتھ صنعت کار اور بڑے تاجروں کے ساتھ چھوٹے کارخانہ دار اور دکاندار بھی مشکلات کا شکار ہو گئے۔ بڑے صنعتکار اور تاجر تو سرمایہ داروں کی فہرست میں ہیں،وہ تو منافع کا نقصان برداشت کر رہے ہیں، تاہم چھوٹے کارخانہ دار اور دکاندار اپنی جمع پونجی ختم کر بیٹھے ہیں یہ ایسے افراد ہیں جن کی گذر بسر ہی روزانہ کام سے ہوتی تھی، اب یہ بھی مشکل مرحلے میں داخل ہو گئے کہ حقیقی سفید پوش ہیں اور ہاتھ نہیں پھیلا سکتے اور نہ ہی ان کے لئے ابھی تک کسی امداد کا پروگرام بنایا گیا ہے۔

جہاں تک لاک ڈاؤن میں نرمی کا تعلق ہے تو یہ بھی ایک اچھا فیصلہ ہے،لیکن اس کے لئے قومی مزاج کو مدنظر نہیں رکھا گیا، ہم بحیثیت قوم نظم و نسق اور قانون و قواعد کی پابندی کے عادی نہیں ہیں،اِس لئے لازم تھا کہ نرمی کا فیصلہ کرتے وقت یہ امر ملحوظ خاطر رکھا جاتا اور اپیلوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی اہتمام کیا جاتا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے کہ یہ قومی زندگی کا سوال ہے اور خود شہریوں کا اپنا ہی فائدہ ہے۔ افسوس ایسا نہ ہوا، جونہی نرمی کا اعلان ہوا، شہری معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آئے، سڑکوں پر ٹریفک بڑھ گیا، بازاروں میں ہر نوع کی دکانیں کھل گئیں اور سماجی فاصلے بھی مٹ گئے،مارکیٹوں اور بازاروں میں بھی بھیڑ ہو گئی۔ خصوصاً پرانے لاہور کے تنگ بازاروں کی دوکانیں کھل جانے سے تو باقاعدہ بھیڑ ہو گئی۔ بڑی چھوٹی سڑکوں کے چوراہوں پر بھکاری برآمد ہو گئے اور معمول کے مطابق بھیک کے سابقہ طریقہ بھی بحال ہو گئے انتظامیہ کو پھر سے پورے معاملے پر نظرثانی کرنا ہو گی تاکہ کورونا کی وبا کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

کورونا اور اس سے متاثرہ معمولات اپنی جگہ تاہم اس وبا نے بھی ہماری سیاست کو متاثر نہیں کیا۔حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی محاذ آرائی جاری ہے اور فریقین الزام جواب الزام کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔لاہور نیب بھی متحرک ہے کہ اس کی طرف سے قائد حزبِ اختلاف محمد شہباز شریف کو طلب کیا گیا۔انہوں نے خود جانے کی بجائے جواب بھجوا دیا اور کورونا کے باعث حاضری سے معذرت کر لی، اب پھر سے ان کو نوٹس جاری کر دیا گیا،اس پر مسلم لیگ(ن) کی طرف سے احتجاج کیا جا رہا ہے۔ لاہور نیب کی طرف سے بھی یقین دلایا گیا کہ کورونا سے تحفظ کا پورا اہتمام کیا جائے گا، ان کو آج(22اپریل) کے لئے بلایا گیا ہے، دیکھئے کہ وہ پیش ہوتے ہیں یا نہیں۔

کپتان کے وسیم اکرم پلس کے لئے بھی کورونا کی پریشانی قدرے نعمت ثابت ہوئی کہ وہ فارم میں آ گئے اور یکایک متحرک ہو گئے۔ انہوں نے بڑی تیزی سے ثابت کرنا شروع کیا کہ کسی سے کم نہیں ہیں۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نہ صرف اب روزانہ اجلاس بُلا کر فیصلے کر رہے ہیں، بلکہ انہوں نے ہنگامی طور پر مختلف اضلاع کے دورے بھی شروع کر رکھے ہیں،ہر روز دو تین شہروں، تحصیلوں میں جا کر حالات کا جائزہ لیتے اور موقع پر احکام جاری کرتے ہیں۔انہوں نے سی ای او ہیلتھ اوکاڑہ کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور یہ بھی کہا کہ کام کرنے والے ہی رہیں گے، جو کام نہیں کرے گا، نتیجہ بھی بھگتے گا۔

لاہور کے شہریوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا جو فائدہ اٹھایا، اس سے یہ سب مذاق بن کر رہ گیا ہے،اب تو بہتر یہ ہو گا کہ بتدریج وہ فیصلہ کیا جائے، غور کر کے اور حفاظتی انتظامات موثر کر کے کاروبار کی تو اجازت دے دی جائے۔ یوں بھی پرسوں رمضان کا چاند ہو جائے گا،لوگوں نے روزے رکھنا ہیں، پھر عید کے لئے بھی فروخت و خرید کا اہتمام لازم ہے،اس لئے حفاظتی اقدامات کو زیادہ موثر کر کے لاک ڈاؤن میں مزید نرمی ضروری ہے۔ حکومت اور انتظامیہ نے ہر بار کی طرح اب پھر خبردار کیا کہ مہنگائی اور بلاضرورت ذخیرہ اندوزی برداشت نہیں کی جائے گی،لیکن اثرات مرتب نہیں ہوئے۔اشیاء خوردنی و ضرورت کے نرخ بتدریج بڑھ رہے ہیں،برائلر مرغی اور مٹن کے نرخ بھی بڑھا دیئے گئے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -