عالمگیر فتوؤں کے باوجود ہمارے علماء مساجد کو معمول پر لانے کے لئے مصر!

عالمگیر فتوؤں کے باوجود ہمارے علماء مساجد کو معمول پر لانے کے لئے مصر!

  

جنوبی پنجاب میں ٹڈی دل جوان ہو گیا، کپاس اور آم کی فصلوں کا نقصان ہو گا

بارشوں سے گندم کی خریداری کا سلسلہ متاثر ہوا، آٹے کے بحران یا قلت کا خطرہ نہیں، افواہیں غلط ہیں!

ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

رمضان المبارک میں اجتماعی عبادات کیلئے سرکاری اور مذہبی رہنماؤں میں 20نکات پر گو مشروط اتفاق ہوچکا ہے لیکن فیصلے میں سعودی علماء کونسل اور مفتی اعظم مصر (جامعہ الازہر) کے ان اعلانات کو اہمیت نہیں دی گئی جس میں نہ صرف اپنے ملک بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ تمام مسلمان لاک ڈاؤن کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے مذہبی فرائض گھروں میں ادا کریں لیکن ہمارے علماء ذاتی اور اجتماعی طور پر اس ہدایت کو ماننے کو تیار نہیں ہین وہ عالمی وبا کے دنوں میں حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کو مساجد کی بندش سے تعبیر کررہے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں مذہبی فرائض کی ادائیگی سے روکا جارہا ہے اس حوالے سے نہ صرف وفاقی بلکہ صوبائی حکومتیں بھی بارہا یہ اعادہ کرچکی ہیں کہ جیسے ہی وبا کی شدت کم ہوگی تومساجد میں نماز کی ادائیگی کو نہیں روکا جائے گا اب جبکہ پاکستان میں وبا کا شدید اثر آنے والا ہے تو ایسی صورت میں چاہیے تھا کہ مذہبی رہنما اس کے پھیلاؤ اور عوام کے بچاؤ کیلئے حکومت کے ساتھ کھڑے ہوتے لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ مذہب میں فرقہ بندی اور پوائنٹ سکورنگ کے رحجان نے عوام کا اجتماعی نقصان کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا ہے اللہ خیر کرے مگر اس کیلئے بھی ضروری ہے کہ خود اپنی حفاظت کا بندوبست بھی کرلیا جائے گا ادھر وفاقی حکومت نے ملک میں چینی، آٹا اورگندم سمیت دوسری ضروری اجناس کی سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے لئے سخت سزاؤں کا صدارتی آرڈیننس جاری کیا ہے جس کے تحت سمگلنگ پر 14سال قید جبکہ ذخیرہ اندوزی پر 3سال قید کے ساتھ بھاری جرمانہ اور آدھا ذخیرہ ضبط بحق سرکار ہوگا ایک اچھا اقدام ہے لیکن یہ واضح رہے کہ یہ تو آرڈیننس ہے اس سے پہلے ان معاملات کی روک تھام کیلئے مختلف قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوپاتا اس کی بنیادی وجہ نہ صرف حکومتی عہدیداروں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کو بھی معلوم ہے کہ بوجوہ ہر معاملے کا کیس اس قدر الجھادیا جاتا ہے کہ اول تو یہ عدالت تک جانے سے پہلے ہی اپنی موت آپ مرجاتا ہے اور اگر عدالت تک پہنچ بھی جائے تو دھائیوں تک اس کا فیصلہ نہیں ہوپاتا، اب جبکہ پوری دنیا ایک عالمی وبا کی لپیٹ میں ہے اور اس کے دوران اور بعد کے حالات بالکل مختلف ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس آرڈیننس کی روح پر من وعن عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے باعث ملک میں نہ صرف مہنگائی پر قابو پایا جاسکے جبکہ دوسری ان اشیاء کی عوام کیلئے مارکیٹس میں دستیابی کو یقینی بنایا جاسکے اگر حکومت سرکاری مشینری کے ذریعے اس پر قابو پالیتی ہے تو اس کی بڑی کامیابی ہوگی کیونکہ اس وقت وزیراعظم عمران خان سمیت چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا اعادہ کررہے ہیں جو پورا ہونا چاہیے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ تعمیراتی شعبہ کو صنعت کا درجہ دینے اور اس پر کام شروع کرنے سے روزگار میں اضافہ وگا یہی وجہ ہے کہ ایک طرف تو اس شعبہ پر عائد مختلف ٹیکسوں کی مدد میں کمی کی گئی ہے جبکہ دوسری طرف اس میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، اب عالمی کساد بازاری میں یہ کس طرح ہو پائے گا اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا لیکن دوسری طرف وزیر خارجہ نے احساس ایمرجنسی پروگرام کو تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکیج قرار دیا ہے جو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر تقسیم کیا جارہا ہے ملتان میں ایک ارب 56کروڑ سے زیادہ رقم اب تک تقسیم ہوچکی ہے یہی وجہ ہے کہ امدادی رقوم تقسیم کرنے کے حوالے سے ملتان اس وقت صوبے میں سرفہرست ہے، اب اس بارے میں ان کا یہ دعویٰ کس حد تک درست ہے یہ تو امداد کے منتظر اصل حقدار ہی بتا سکتے ہیں جو آج بھی بوجوہ اس سے محروم ہیں ان کو امداد کس طرح پہنچے گی اس کیلئے کوئی راہ تلاش کرنی ہوگی، دوسری طرف حکومت کی تمام تر توجہ وبا ء اور لاک ڈاؤن کی طرف ہونے سے ٹڈی دل کی افزائش پر دھیان نہیں دی گئی ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جو محکمے اس عفریت کو کنٹرول کرنے کے ذمہ دار تھے انہیں پابند رکھا جاتا کہ وہ پہلے حملے کے بعد اس کی افزائش کے پیریڈ پر نظر رکھتا اور جن علاقوں میں اس کی افزائش کیلئے موافق موسم تھا وہاں کڑی نگرانی کی جاتی اور مروجہ اصولوں کے تحت اس کے انڈوں کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کئے جاتے لیکن متعلقہ محکمے اس دوران مجرمانہ طور پر خاموش رہے اور اب جو اطلاعات آرہی ہیں اس کے مطابق جنوبی پنجاب کے متعدد اضلاع میں اس کی تعداد میں خطرناک حدتک اضافہ ہوچکا ہے چونکہ اب کپاس اور دوسری اجناس کی کاشت ہونی ہے آم کے باغات ہرے ہورہے ہیں پھل بڑا ہورہا ہے تو ایسی صورت میں وہی محکمے وارننگ دے رہے ہیں جو اس کی افزائش کے ذمہ دار ہیں کہ کپاس اور آم سمیت چارے کی فصل کو نقصان کا شدید خطرہ ہے کیونکہ ٹڈی دل لشکر کے حملے کا موسم شروع ہوچکا اب اس پر پنجاب حکومت اور اس کے سربراہ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کیا کہتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ادھر جنوبی پنجاب میں بارشوں کے باعث گندم کی خریداری کا سلسلہ متاثر ہوا ہے لیکن اس سے صوبے کے اندر گندم کی کمی یا پھر آٹے کی قلت کا کوئی امکان نہیں اب بھی منڈیوں کے کچھ کھلاڑی یہ افواہ پھیلا رہے ہیں کہ بارشوں کے باعث گندم کی خریداری مہم سست ہونے سے آٹے کی قلت کا خطرہ ہے لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہاں البتہ وہ یہ افواہیں پھیلا کر مارکیٹ اور کسانوں سے بغیر پرمٹ گندم خریداری میں مصروٖف ہیں جو وہ ہر سال کرتے ہیں اور لاکھوں ٹن گندم ”گول“ کر جاتے ہیں جوبعدازاں سمگلنگ کے ذریعے افغانستان پہنچادی جاتی ہے لاک ڈاؤن کی وجہ سے حکومت کے پاس بڑا اچھا موقع ہے کہ وہ مناسب انتظامات اور مانیٹرنگ کرکے اس کو روک سکتے ہیں اگر چاہیں تو…… کیونکہ حکومتی مشینری کی ان کو آشیر باد رہی تو پھر ان کی افواہ سچ ثابت ہوسکتی ہے۔ خدانخواستہ ……!!

مزید :

ایڈیشن 1 -