عمران خان سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ کا آغاز کریں

عمران خان سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ کا آغاز کریں

  

سیاسی جماعتیں مل کر ”میثاق معیشت“ کریں،

راشن اور امداد کی تقسیم، عوام محروم اور احتجاج کر رہے ہیں

چینی قونصلیٹ کے لاکھوں ماسک کہاں؟ کراچی میں بلیک میں بک رہے ہیں

ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

وفاق پاکستان اور سندھ حکومت کورونا وائرس بحران پر باقاعدہ سیاسی اکھاڑہ گرم کرچکی ہیں، دونوں کے درمیان لڑائی کی وجہ تلاش کرنا آسان اور مشکل بھی ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ ایک فریق یہ تاثر دے رہا ہے کہ ہم عوام کو بچانا چاہتے ہیں خاص طور پر سندھ حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ ہم عوام کو وائرس سے محفوظ رکھنے کی بات کررہے ہیں اور وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں۔ وفاقی حکومت کا موقف یہ ہے کہ ہم بیماری کے ساتھ ساتھ بھوک سے بھی بچانے کی بات کررہے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ دونوں کا دعویٰ عوام کی بہتری کیلئے ہے، لیکن دونوں میں سے کوئی غلط کیسے ہوسکتا ہے۔ ترجیحات کے تعین میں آخر کیا رکاوٹ ہے۔ کیا مفادات کا ٹکراؤ دونوں کو مل کر کام کرنے سے روکے ہوئے ہے۔

سندھ حکومت جب لاک ڈاؤن کا آغاز کررہی تھی تو وفاقی حکومت اس وقت بھی عوام کے بھوک سے مرنے کے خوف سے لاک ڈاون کی حمایت سے گریزاں تھی۔ اسی وقت وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا تھا کہ ہم 20لاکھ گھرانوں کو گھر گھر راشن پہنچائیں گے۔ جس پر انہوں نے داد تحسین حاصل کی اور عوام کا ایک گروپ ان کی حمایت کرنے لگا کہ دیکھیں یہ لیڈرشپ جو گھر گھر راشن پہنچانے کا اعلان کررہی ہے۔ ہم لوگ کسی کو بھوکا مرنے نہیں دیں گے۔

اب چاہیے تو یہ تھا کہ گھر گھر راشن پہنچ جاتا، کم از کم 20لاکھ گھرانوں کو تو ملنا چاہیے تھا۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ لوگ سندھ حکومت کے راشن کا انتظار کرتے کرتے تھک گئے۔ باخبر ذرائع نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کو دو دو کروڑ روپے راشن کی مد میں دینے کی تجویز تیار کی گئی اور گھرانوں کی لسٹ بھی تیار تھی۔ لیکن ڈپٹی کمشنرز نے صوبائی حکومت کو آگاہ کیا کہ اتنی کم رقم پر فی خاندان چند سو روپے بھی نہیں دیئے جاسکتے۔ اس کے بعد کراچی کے کسی ضلع سے سندھ حکومت کے راشن بیگ تقسیم ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ البتہ ٹنڈو جام اور سانگھڑ کے اضلاع سے پرانی اشیائے خوردونوش جن کی استعمال کی مدت ختم ہوچکی تھی، کی تقسیم عمل میں آئی جسے میڈیا فوراً منظر عام پر لے آیا۔ جس پر متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے زیادہ سنجیدہ نہیں لیا۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اتنی پرانی اشیاء گوداموں میں کیوں کر موجود تھیں۔ فوڈز کمپنیوں کی پالیسی اسی حوالے سے کس قدر کمزور ہے کیا مدت ختم ہونے کے بعد اشیاء کی واپسی کا طریقہ کار موجود نہیں۔ کمپنیوں کے نظام کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضی وہاب نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے فلاحی اداروں کو راشن تقسیم کرنے کیلئے ٹاسک دیا ہے۔ فلاحی اداروں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سندھ حکومت کی طرف سے انہیں کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کی گئی۔ اب آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ عوام کو راشن کون دے رہا ہے۔ چند مخیر حضرات، بہت سے دردِ دل رکھنے وا لے لوگ جو فلاحی اداروں کی مدد کے ساتھ ساتھ خود بھی ضرورت مندوں کی مدد کررہے ہیں۔وفاقی حکومت نے جب ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کیا تو صوبائی حکومت سندھ نے نام کے اعتراض کے سواان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی بات کی تھی۔ اب تعاون سے انکار کرتے ہوئے مقابلے میں پیپلز فورس بنانے کا اعلان کردیا ہے۔

وفاقی حکومت کی طرف سے احساس پروگرام کے تحت فی کس `12000 روپے عوام کو ملنے شروع ہوگئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب سندھ حکومت اور وفاقی حکومت راشن تقسیم ہی نہیں کررہے تو کسی قسم کی فورس بنانے کا جواز ختم ہوجاتا ہے۔ یہ ایک دوسرے کے خلاف سیاسی چال چلنے کے علاوہ اس کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا۔

کراچی میں چائنا قونصلیٹ نے سندھ حکومت کو N95 اور سرجیکل ماسک لاکھوں کی تعداد میں دیئے، ان ماسک کی تقسیم بھی منصفانہ نظر نہیں آئی، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے لوگ کسی اور ذرائع سے حفاظتی ماسک حاصل کررہے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کراچی میں N95ماسک کم از کم 200روپے بلیک میں دستیاب ہے۔ اب اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس شہر میں بیماری سے لڑنے میں کتنی سنجیدگی پائی جاتی ہے۔

سپریم کورٹ نے جب ریلیف پیکج پر تفصیلات طلب کیں تو سوشل میڈیا پر چلنے والے تمام دعوے دھرے رہ گئے۔ صدر مملکت یا وزیراعظم کو ضرور براہ راست بات کرنی چاہیے۔ اس سے سوشل میڈیا پر چلنے والے پیغامات بھی دم توڑجائیں گے جس میں چند لوگ یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ پیپلز پارٹی احتساب میں سہولت حاصل کرنے کیلئے مخالفانہ انداز اپنائے ہوئے ہے۔ اس وقت جبکہ ملک بحران کا شکار ہے سندھ اور وفاق کے درمیان رسہ کشی بھی چل رہی ہے، لیکن پارٹی سربراہ آصف علی زرداری کی طرف سے مکمل خاموشی ہے۔ ان کی صحت کے حوالے سے بھی متضاد اطلاعات ہیں۔ وفاق اور تمام صوبائی اکائیوں کو مل کر کام کرنے کی طرف راغب کرنا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی ذمہ داری ہے۔

دنیا اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہونے کے بعد بحالی کا سفر شروع کرنے والی ہے، پاکستان تعمیرات کی صنعت کو کام کی اجازت دے چکا ہے۔ اس وقت خام تیل 15ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا ہے۔ قرضوں کو منجمد ہونے کے بعد پاکستان کی معیشت کو سنبھلنے کاموقع مل جائے گا۔اس حوالے سے تمام سیاسی پارٹیوں کو بحالی معیشت میثاق کرنا چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں، پورا پاکستان اس بحرانی صورت میں واپسی کے سفر کو خوش آمدید کہے گا۔ احتساب کے عمل سے حکومت خود کو علیحدہ رکھے اور بحالی معیشت میں سب مل کے چلنے کا عہد کریں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -