ملزم ضمانت پر رہا، شناخت پریڈ نہ کروانے پر ایس پی کی سرزنش

ملزم ضمانت پر رہا، شناخت پریڈ نہ کروانے پر ایس پی کی سرزنش

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ پولیس کی ناقص تفتیش کی وجہ سے ملزم چھوٹ جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ عدالتیں ملزموں کو چھوڑ رہی ہیں، مسٹر جسٹس اسجد جاوید گھرال نے یہ ریمارکس ڈکیتی کیس کے ملزم کی شناخت پریڈ نہ کروانے پر ایس پی انویسٹی گیشن صدر ڈویژن لاہورمنصور قمر کی سخت سرزنش کر تے ہوئے دیئے۔ فاضل جج نے درخواست گزار ملزم کومل شہزاد کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے ایک لاکھ روپے کے مچلکہ کے عوض رہا کرنے کاحکم بھی دے دیا، عدالتی حکم پر ایس پی انویسٹی گیشن صدر منصور قمر پیش ہوئے اور تسلیم کیا کہ قانون کے مطابق شناخت پریڈ نہ کروا کر پولیس نے کیس کی تفتیش میں کوتاہی کی ہے، اس کوتاہی کے مرتکب تفتیشی افسر کیخلاف کارروائی کی جائیگی، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پولیس ناقص تفتیش کرتی ہے جس سے ملزم چھوٹ جاتے ہیں، تفتیشی افسرنے شناخت پریڈ نہ کروا کر کیس کا بیڑا غرق کر دیا۔ ملزم پولیس کی غفلت سے چھوٹ جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ عدالتیں ملزموں کو چھوڑ دیتی ہیں، ایس پی انویسٹی گیشن نے کہا کہ یہ کیس میری تعیناتی سے پہلے کاہے، اس کیس کی تفتیش سی آئی اے پولیس کر رہی تھی، متعلقہ تفتیشی کے خلاف کارروائی کریں گے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیا کارروائی کرینگے؟ ایک دن معطل کر کے دوسرے دن بحال کر دیں گے،پولیس نے اپنی کوتاہی چھپانے کانیا طریقہ سیکھ لیا ہے، جو کیس میں بھی دیکھیں، پولیس افسر کہتا ہے کہ کیس میری تعیناتی سے پہلے کا ہے، پولیس کا یہی حال رہا تو پھر یہ سسٹم نہیں چلنے والانہیں۔

سرزنش

مزید :

پشاورصفحہ آخر -