لاہور ہائیکورٹ انتظامی کمیٹی ممبران کے اختیارات کا تعین، نظرثانی شدہ نوٹیفکیشن جاری

لاہور ہائیکورٹ انتظامی کمیٹی ممبران کے اختیارات کا تعین، نظرثانی شدہ ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ اور ضلعی عدالتوں کے امور چلانے کے لئے عدالت عالیہ کی انتظامی کمیٹی کے جسٹس صاحبان کے اختیارات کی تقسیم کا نظر ثانی شدہ نوٹیفکیشن جاری کردیاگیاہے،نوٹیفکیشن چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان کی منظوری کے بعد جاری کیاگیا جس میں چیف جسٹس سمیت کمیٹی کے ساتوں ارکان کے اختیارات کا تعین کیا گیاہے،نوٹیفکیشن کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات سماعت کے لئے مقرر کرنے، ججزروسٹر اور کاز لسٹوں کے بارے میں فیصلے کریں گے، چیف جسٹس ہائیکورٹ کے ججز کے میڈیکل بلوں کے سوائے تمام امور کے متعلق احکامات جاری کر سکیں گے، چیف جسٹس ضلعی عدلیہ کے جوڈیشل افسران کے تقرر و تبادلوں کے معاملات کی نگرانی بھی کریں گے، وہ جوڈیشل افسروں کی ترقی، انضباطی امور، بیرون ملک رخصت سمیت دیگر معاملات بھی دیکھیں گے، چیف جسٹس ضلعی عدلیہ کے ججوں کی جنرل ٹریننگ اور لیکچرز دینے کی اجازت دینے سے متعلق احکامات جاری کریں گے، وہ ہائیکورٹ کے گزٹیڈ افسران کی تقرری، ترقی، تبادلے، انضباطی کارروائی، 21 روز کی ایکس پاکستان رخصت کی منظوری سمیت دیگر امور بھی دیکھیں گے، ہائیکورٹ کے ججوں کو سرکاری گاڑیوں اور رہائشگاہوں کی الاٹمنٹ کے امور پر بھی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ احکامات جاری کریں گے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان سپریم کورٹ کی وکالت کے لائسنس کے لئے فٹنس سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والی کمیٹی کے علاوہ پی جے ڈی ایف کمیٹی، صوبائی جسٹس کمیٹی اور پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے بھی سربراہ ہوں گے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے انتظامی امور کے علاوہ لاہور ہائیکورٹ اور ضلعی عدلیہ ہیومن ریسورس مینجمنٹ کے امور کی بھی نگرانی کریں گے،انتظامی کمیٹی کے دوسرے رکن اور لاہورہائی کورٹ کے سینئر ترین جج مسٹرجسٹس محمد امیر بھٹی کولاہور ہائیکورٹ اور ضلعی عدلیہ کی عمارات کی تعمیر، تزین و آرائش کے امور پر احکامات جاری کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے، وہ جوڈیشل افسروں کو این او سی اور 21 روز کی ایکس پاکستان رخصت کی منظوری دینے کے مجاز ہوں گے،جسٹس محمد امیر بھٹی کو ماتحت عدلیہ کے ڈسپلنری معاملات پر احکامات جاری کرنے کا بھی اختیار ہو گا، جسٹس محمد امیر بھٹی دوسرے صوبوں کو بھجوائے جانے والے کیسز پر منظوری کا اختیار رکھیں گے، سیشن ججوں اورماتحت عدالتوں کی دیگرافسروں کی 15روز سے 4ماہ تک کی چھٹیوں کے معاملات بھی جسٹس محمد امیر بھٹی دیکھیں گے،وہ اوتھ کمشنرز مقرر کرنے کی منظوری بھی دیں گے، وہ صوبائی عدلیہ ترقیاتی فنڈ کمیٹی کے ممبر کے فرائض بھی انجام دیں گے، جسٹس محمد امیر بھٹی انسداد دہشت دہشت گردی اور احتساب عدالتوں کے انتظامی اور مانیٹرنگ جج بھی ہوں گے، انتظامی کمیٹی کے تیسرے رکن مسٹرجسٹس ملک شہزاد احمد خان اینٹی کرپشن، سیشن اور سول عدالتوں کے انتظامی ومانیٹرنگ جج ہوں گے،ان کی ذمہ داریوں میں فیملی عدالتوں سے متعلق امور کی نگرانی بھی شامل ہو گی، وہ لاہورہائی کورٹ کی گاڑیوں کے معاملات بھی دیکھیں گے، جسٹس ملک شہزاد احمد سپریم کورٹ کی وکالت کے لائسنس کیلئے فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے والی کمیٹی کے بھی ممبر ہوں گے،انتظامی کمیٹی کی چوتھی رکن جج جسٹس عائشہ اے ملک ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے ججوں کے میڈیل بلوں کی ادائیگوں کے امور دیکھیں گی، وہ ماتحت عدلیہ کے آڈٹ کے معاملات کی نگرانی بھی کریں گی، جسٹس عائشہ اے ملک آئین کے آرٹیکل 202 کے تحت رولز آف پروسیجر سے متعلق امور کی نگرانی کریں گی، جسٹس عائشہ اے ملک کو ماحولیاتی ٹربیونل، انٹلکچوئل پراپرٹی ٹربیونل اور چائلڈ پروٹیکشن کورٹس کی انتظامی و مانیٹرنگ جج بھی ہوں گی،وہ ہائیکورٹ میوزیم کے امور کی نگرانی کریں گی، انتظامی کمیٹی کے پانچویں رکن مسٹر جسٹس شجاعت علی خان بینکنگ، ایف آئی اے، کسٹمز اور اینٹی سمگلنگ عدالتوں کے انتظامی ومانیٹرنگ جج ہوں گے،وہ لاہور ہائیکورٹ کے آڈٹ کے امور کی نگرانی کریں گے، فاضل جج ہائیکورٹ اور سول عدالتوں کے بینکنگ اور فنڈز کے معاملات بھی دیکھیں گے،جسٹس شجاعت علی خان مال خانہ اورمخصوص اکاؤنٹس کے امور کی نگرانی بھی کریں گے، وہ ہائیکورٹ اسٹیبلشمنٹ کی رجسٹرار کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت بھی کریں گے۔لاہور ہائیکورٹ انتظامی کمیٹی کے چھٹے رکن مسٹرجسٹس شاہد وحید لاہور ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے سکیورٹی انتظامات کی نگرانی کریں گے، وہ عدالتی ریکارڈ کی دیکھ بھال، تحفظ اور اسے تلف کرنے انتظامات کو دیکھیں گے، وہ لوکل کمیشنز کی تقرری کی منظوری بھی دیں گے، مجسٹریٹس اور سول عدالتوں کے ججوں کو اختیارات تفویض کرنے کی ذمہ داریاں بھی جسٹس شاہد وحید انجام دیں گے، انہیں لائیو سٹاک ٹربیونل، پنجاب اپیلٹ ریونیو ٹربیونل، ایل ڈی اے ٹربیونل،لیبر کورٹس اورفیملی عدالتوں کا انتظامی جج بھی مقررکیا گیاہے۔جسٹس شاہد وحید ہائیکورٹ کے ریسرچ سنٹرز کے امور کی مانیٹرنگ کریں گے، لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کے ساتویں رکن مسٹرجسٹس علی باقر نجفی ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے آئی ٹی کے امور دیکھیں گے،وہ پنجاب کی جیلوں، ڈرگ کورٹس، انسداد منشیات اور صارف عدالتوں کے انتظامی مانیٹرنگ جج جبکہ عدلیہ پرچیز کمیٹی کے سربراہ بھی ہوں گے، وہ ایک لاکھ روپے یا اس سے زائد مالیت کی اشیاء کی خریداری کی اجازت دینے کے مجاز ہوں گے، جسٹس علی باقر نجفی ضلعی عدلیہ کی طرف سے توہین عدالت کے موصول ہونے والے کیسز کے امور بھی انجام دیں گے، جوڈیشل افسروں اور گریڈ 19 سے زائد کے ہائیکورٹ افسروں کے پاسپورٹس اور ویزوں کیلئے این او سی بھی جسٹس علی باقر نجفی جاری کریں گے۔

ججز،اختیارات

مزید :

صفحہ آخر -