میر شکیل کے جسمانی ریمانڈ کے دوران تحقیقات کی رپورٹ عدالت میں جمع

  میر شکیل کے جسمانی ریمانڈ کے دوران تحقیقات کی رپورٹ عدالت میں جمع

  

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت میں قومی احتساب بیورو نے غیرقانونی پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں گرفتار جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کے خلاف گزشتہ جسمانی ریمانڈ کے دوران کی گئی تحقیقات کی رپورٹ جمع کروا دی ہے، رپورٹ میں کہا گیاہے کہ میر شکیل الرحمن کے مختار عام کی شناخت اور تصدیق کرنے کیلئے لوکل کمیشن ملک بشر نے محمد علی کے وارثان کے شناختی کارڈز پر انحصار کیا۔ میر شکیل کے مختار عام پر عملدرآمد کیلئے لوکل کمیشن ملک بشیر کا کوئی ایڈریس ریکارڈ پر موجود نہیں۔ جس کی انکوائری کرنا باقی ہے۔ نیب تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق میر شکیل کو مختار عام دینے والے محمد علی کے قانونی وارث سرور علی کی تصدیق اور شناخت کے وقت اس کا شناختی کارڈ ہی موجود نہیں تھا۔ میر شکیل کو محمد علی سے موصول مختار عام کی شناخت کے وقت گاؤں کا کوئی نمبردار یا کونسلر موجود ہی نہیں تھا، نیب تحقیقاتی رپورٹ میں عدالت کو آگاہ کیاگیاہے کہ ملزم میر شکیل کے جسمانی ریمانڈ کے دوران اس وقت کے ڈائریکٹر لینڈ ایل ڈی اے بشیر احمد کا پتہ لگا کر اسے طلب کیا گیا، تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر لینڈ بشیر احمد کا بیان 14 اپریل کو قلمبند کیا گیا ہے، تحقیقاتی رپورٹ میں بشیر احمد نے اپنے بیان کہاہے کہ میر شکیل کو جوہر ٹاؤن میں پلاٹ الاٹ کرنے کی سمری اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کو بھجوائی گی، اورمیاں نواز شریف نے ڈی جی ایل ڈی اے کی موجودگی میں دوران میٹنگ میر شکیل کی درخواست پر فوری اور رعایت کیساتھ کارروائی کی ہدایات دیں۔ ڈائریکٹر لینڈ بشیر احمد نے اس وقت کے ایل ڈی اے ملازمین سے مشاورت اور اس وقت کی یادیں تازہ کرنے کیلئے ایک ہفتے کا وقت مانگا ہے، رواں ہفتے تفصیلی بیان قلمبند کروائیں گے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق8 اپریل 1978ء کو وفاقی حکومت نے 600 گز سے زائد پلاٹ پر تعمیراتی پلان کی منظوری نہ دینے کی پابندی لگائی تھی۔عدالت نے ملزم میر شکیل الرحمن کو دوبارہ 28 اپریل کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔احتساب عدالت کے جج جوادالحسن اس کیس کی سماعت کرہے ہیں۔

رپورٹ جمع

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت کے منتظم جج جوادالحسن نے غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ سکینڈل میں گرفتار جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کے جسمانی ریمانڈ پر5صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کردیاہے،تحریری فیصلے میں کہا گیاہے کہ ڈائریکٹر لینڈ میاں بشیر نے میر شکیل کے معاملے پر میاں نواز شریف اور ڈی جی ایل ڈی کی میٹنگ کا بیان دیا، میاں نواز شریف کا میر شکیل الرحمن کی درخواست پر ڈی جی ایل ڈی اے کو ہدایات دینے سے متعلق ڈائریکٹر لینڈ میاں بشیر کا بیان میٹنگ کے اہم پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔یقینی طور پر انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے یہ کھوج لگانا ضروری ہے کہ کس نے میر شکیل الرحمن کیلئے سکیم کا نقشہ تبدیل کیا۔ قانون کے مطابق اس کی کھوج لگانا بھی ضروری ہے کہ کس شخص نے میر شکیل الرحمن کیلئے گلیوں کو رہائشی پلاٹوں کا درجہ دیا۔ اس امر کا تعین کرنا بھی ضروری ہے کہ کیا حکومت یا مجاز حکام نے قانونی طور پر میر شکیل الرحمن کو خصوصی رعایت دی؟ اس لئے ملزم میر شکیل کے جسمانی ریمانڈ میں 28 اپریل تک توسیع کی جاتی ہے، تفتیشی افسر آئندہ سماعت پر سچائی سامنے لانے کیلئے حقیقی بنیادوں پر تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرے۔

تحریری فیصلہ

مزید :

صفحہ آخر -