شاعر مشرق مسلمانوں کے عظیم محسن، نوجوانوں کو فکر اقبال ؒ سے روشناس کرانا ہوگا: رفیق تارڑ

  شاعر مشرق مسلمانوں کے عظیم محسن، نوجوانوں کو فکر اقبال ؒ سے روشناس کرانا ...

  

لاہور(لیڈی رپورٹر، این این آئی) علامہ محمد اقبالؒ مسلمانان برصغیر کے عظیم محسن ہیں، انہوں نے نامساعد حالات میں بھی مسلمان قوم کو امید، خودی اور جہد مسلسل کا درس دیا اور اسی پر چل کر مسلمانان برصغیر نے اپنے لئے علیحدہ ملک حاصل کر لیا، کلام اقبالؒ آج بھی ہماری رہنمائی کر رہا ہے اور موجودہ نامساعد حالات میں بھی ہمیں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے،علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کو غیر اسلامی نظریات سے مرعوب نہ ہونے اور اپنے دین‘ ثقافت اور اقدار سے گہری وابستگی کے ذریعے نشأۃ ثانیہ کی راہ دکھائی،پاکستانی نوجوانوں کو فکرِ اقبالؒ سے روشناس کرایا جائے جس کی بنیاد قرآنی تعلیمات اور اسوہئ حسنہ پر ہے،نئی نسل کلام اقبالؒ کا نہ صرف مطالعہ کرے بلکہ اسے صحیح معنوں میں سمجھنے کی بھی کوشش کرے،موجودہ حالات سے نبردآزما ہونے کے ضمن میں افکارِ اقبالؒ ہماری موثر رہنمائی کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے شاعر مشرق، حکیم الامت، مفکر پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ کے یوم وفات کے موقع پر منعقدہ ”یوم اقبالؒ“ کی خصوصی آن لائن تقریب کے دوران کیا۔ تقریب کی کارروائی سوشل میڈیا پر دکھائی گئی۔ تقریب کاباقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک‘ نعت رسول مقبولؐ اور قومی ترانہ سے ہوا۔حافظ محمد عمر اشرف نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ الحاج اختر حسین قریشی نے بارگاہِ رسالت مآبؐ میں نذرانہئ عقیدت پیش کیا۔معروف نعت خواں حافظ مرغوب احمد ہمدانی، سرور حسین نقشبندی اور سید محمد کلیم نے خوبصورت انداز میں کلام اقبالؒ پیش کیا۔ آن لائن تقریب کی نظامت کے فرائض نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے انجام دیے۔تحریک پاکستان کے مخلص کارکن،سابق صدر مملکت اور چیئرمین نظریہئ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ نے ہمیں زندگی میں جہد مسلسل اور مشکلات کے مقابلے میں عزم و استقامت کا درس دیا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ آزمائش کی اس گھڑی میں فکر اقبالؒ سے رہنمائی حاصل کریں اور بارگاہ رب العزت میں توبہ و استغفار کرتے ہوئے اعمال صالحہ اختیار کریں۔سابق جج سپریم کورٹ آف پاکستان اور وائس چیئرمین نظریہئ پاکستان ٹرسٹ جسٹس(ر) خلیل الرحمن خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس فکر اقبالؒ کی صورت میں بہت بڑی دولت موجود ہے۔ علامہ اقبالؒہمارے قومی شاعر ہیں اور انہوں نے قومی یکجہتی اور قومی ہم آہنگی کا درس دیا۔ علامہ محمد اقبالؒکے کلام کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں، ان کے افکاروخیالات سے نسل نو کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ وائس چیئرمین نظریہئ پاکستان ٹرسٹ میاں فاروق الطاف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئیے عہد کریں کہ ہم کلام اقبال کو وہی اہمیت دیں گے جو قیام پاکستان سے قبل دے رکھی تھی۔علامہ محمد اقبالؒ کی بہو جسٹس(ر) ناصرہ جاوید اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ علامہ محمد اقبالؒ قناعت پسند انسان تھے۔ انہوں نے ساری عمر کوئی گھر نہ بنایا اور جاوید منزل میں کرایہ پر رہتے تھے۔ چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان مجیب الرحمن شامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال ہم یوم اقبالؒ انتہائی غیر معمولی حالات میں منا رہے ہیں، پوری دنیا کورونا وبا کی زد میں ہے اور انسان کا انسان سے رابطہ مشکل ہو گیا ہے، ایسے میں احتیاط ضروری ہے۔کورونا وائرس نے دنیا کا منظر بدل دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ کے کلام اور ان کے افکار کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگا لیں کہ ایک بار قائداعظمؒ نے کہا تھا کہ اگر مجھے ایک مملکت کی سربراہی یا کلام اقبالؒ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو میں کلام اقبالؒ کو ترجیح دوں گا۔اس سے آپ بانی پاکستان کے نزدیک کلام اقبالؒ کی اہمیت کا اندازہ لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں خلوت نصیب ہے اور سرگرمیاں، مصروفیات اور مشاغل سے نجات ملی ہوئی ہے۔ کورونا وائرس نے ہمیں گھروں تک محدود کر دیا ہے تو ہمیں کلام اقبالؒ پر غور کرنے کا موقع میسر آیا ہے، ہم کلام اقبالؒ کو پڑھیں سمجھیں اور عہد کریں کہ ہم کی گئی غلطیوں کا ازالہ کریں گے۔علامہ اقبالؒ نے کہا تھا ”جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود، کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا“۔ ہمیں نئے جہان پیدا کرنے کیلئے تحقیق، تخلیق و جستجو کی عادت کو اپنانا چاہئے۔ چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیا شاہد،گروپ ایڈیٹر روزنامہ نئی بات پروفیسر عطاء الرحمن،علامہ اقبالؒ کے پوتے سینیٹر ولید اقبال،معروف ادیبہ و شاعرہ بیگم بشریٰ رحمن،خانوادہئ حضرت سلطان باہوؒ صاحبزادہ سلطان احمد علی،ممتاز سیاسی وسماجی رہنما بیگم مہناز رفیع،کنوینر مادرملتؒ سنٹر پروفیسر ڈاکٹر پروین خان،بیگم خالدہ جمیل اورشاہد رشید نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔

رفیق تارڑ

مزید :

صفحہ آخر -