قومی ورثے پر سندھ پولیس قابض محکمہ آثار قدیمہ بے بس

  قومی ورثے پر سندھ پولیس قابض محکمہ آثار قدیمہ بے بس

  

کراچی(این این آئی)سیاسی وسرکاری سرپرستی میں قبضہ مافیا ہرگزرتے دن کیساتھ سندھ کی ہزاروں سال پُرانی تاریخ مٹانے میں سرگرم ہے اور اس بہتی گنگا میں سندھ پولیس نے بھی ہاتھ دھونا شروع کردئے ہیں سیہون میں آثار قدیمہ کے ریسٹ ہاؤس، میوزیم، کینٹین پرجام شورو پولیس نے قبضہ کیا ہوا ہے، محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل منظور احمد کناسرو کے مطابق سیہون قلعے پر قائم125سال پرانی عمارت جو محکمہ آثار قدیمہ کی ملکیت ہے اس عمارت کو میوزیم بنانے کیلئے مرمت کا کام بھی کرایاگیا تھا مگر اب اس عمارت پر ایک پولیس آفیسر نے قبضہ کیاہوا ہے،اس عمارت میں میوزیم بنانے کا مقصداس قلعے پر تحقیق کیلئے آنیوالوں کیلئے سہولت پیدا کرنا تھا، انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر ثقافت و نودرات نے بھی سندھ پولیس کے اعلی افسران کو خطوط لکھے ہیں جبکہ محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے متعدد خطوط لکھے جانے کے باوجود ہم تاحال اس میوزیم کا قبضہ حاصل نہیں کرسکے ہیں انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ ثقافت سندھ کے فوک آرٹ اینڈ کرافٹ میوزیم کی کینٹین پربھی ایس ایس پی جامشورو کا کیمپ آفس قائم کیا ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سیہون میں آثار قدیمہ کے ریسٹ ہاؤس، میوزیم ابھی تک پولیس افسربراجمان ہے،ذرائع کے مطابق سات سال پہلے اس وقت کے ڈی ایس پی سمیع ملک زبردستی اس عمارت پر قابض ہوا تھا جب سے یہ قدیم و تاریخی عمارت سندھ پولیس کے قبضے میں ہے جبکہ جامشور وپولیس نے محکمہ ثقافت سندھ کے فوک آرٹ اینڈ کرافٹ میوزیم کی کینٹین پر ایس ایس پی جامشورو کا کیمپ آفس قائم کیا ہوا ہے، جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہیکہ اس عمارت میں ڈی ایس پی سیہون نے ہی رہائش کی ہوئی ہے اگر پولیس کا قبضہ ختم کرادیا جائے تو یہاں مزید سیاح یہاں آئینگے جس سے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئینگے جبکہ اس معاملے پر بات کرنے کیلئے ڈی ایس پی سیہون بشیر کھونہارو سے رابطہ کیا تو انہوں نے مدعہ سنتے ہی فون منقطع کردیا جبکہ ایس ایس پی جامشورو امجد شیخ نے بھی فون نہیں اٹھایاعوام کا مطالبہ ہیکہ جب وزارت ثقافت و نوادرات سندھ کے خطوط کا اعلی حکام جب جواب ہی نہیں دے رہے اور کوئی کاروائی بھی نہیں کی جارہی ہے تو اب عدالت سے رجوع کرنا ہی رہ گیا ہے اسطرح کے قبضوں کی وجہ سے سندھ کے اہم تاریخی ورثے اپنی اہمیت و افادیت کھوتے جارہے ہیں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -