ایمبولینسزکا مجرمانہ استعمال، پولیس حکام کا محکمہ داخلہ کو خط لکھنے کا فیصلہ

  ایمبولینسزکا مجرمانہ استعمال، پولیس حکام کا محکمہ داخلہ کو خط لکھنے کا ...

  

کراچی(کرائم رپورٹرع): فلاحی اداروں کی آڑ میں ایمبولینسوں میں غیر قانونی سرگرمیوں کے واقعات کا پولیس حکام نے سختی سے نوٹس لیا ہے، ان وارداتوں کی روک تھام کیلئے محکمہ داخلہ کو خط لکھا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں فلاحی اداروں کی ایمبولینسوں کے مجرمانہ استعمال کے انکشاف کے بعد کراچی پولیس نے محکمہ داخلہ کوخط لکھنے کا فیصلہ کرلیاہے۔اس حوالے سے پولیس ذرائع نے بتایاکہ4فلاحی اداروں کے لائسنس کینسل کرانے کیلیے محکمہ داخلہ کو خط لکھا جائے گا، گزشتہ کئی ماہ سے ایمبولینسوں کے ذریعے کروڑوں روپے کی اسمگلنگ کی گئی ہے۔اس کے علاوہ ایمبولینسوں کے ذریعے کرونا لاک ڈاؤن کی سنگین خلاف ورزیاں بھی کی گئیں،پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ گڈاپ،موچکو، شاہ لطیف اور نیپئر تھانے میں اس حوالے سے چار مقدمات درج ہوئے۔پولیس ذرائع کے مطابق دو روز قبل کروڑوں روپے مالیت کا بھارتی گٹکا ایک ایمبولینس کے ذریعے بلوچستان سے کراچی اسمگل کرنے کی کوشش کی گئی تھی جسے پکڑ لیا گیا۔پولیس کے مطابق تھانہ نیپئر کی حدود میں فلاحی ادارے کی ایمبولینس کے ذریعے چھالیہ اسمگل کرنے کی کوشش کی گئی، گڈاپ اور شاہ لطیف کے علاقوں میں ایمبولینس کو مسافر کوچ بنا دیا گیا۔اس سلسے میں ایک ایمبولینس ڈرائیور کا انکشاف بھی سامنے آیا، ڈرائیور نے پولیس کو بتایا کہ بلوچستان سے کراچی اور بلوچستان جانے کے 6ہزار روپے ملتے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق معاملے کی روک تھام اور ملوث افراد کیخلاف مربوط قانونی کاروائی کیلئے پولیس کی جانب سے جلد محکمہ داخلہ سندھ کو خط لکھا جائے گا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -