حافظ نعیم الرحمن کی کراچی بار کے صدر سے ملاقات، موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال

    حافظ نعیم الرحمن کی کراچی بار کے صدر سے ملاقات، موجودہ صورتحال پر تبادلہ ...

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے وفد کے ہمراہ کراچی بارکونسل کے صدر منیر احمد ملک،جوائنٹ سکریٹری ندیم منگی و دیگر ذمہ داران سے ملاقات کی اور ملک کی موجودہ صورتحال،کورونا وائرس اور لاک ڈان کے باعث شہری مسائل کے حوالے سے تفصیلی تبادلہئ خیال کیا گیا۔ملاقات میں کراچی بار کے سابق صدر نعیم قریشی ایڈوکیٹ،نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، پبلک ایڈ کمیٹی کراچی کے صدر سیف الدین ایڈوکیٹ،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری،جے آئی یوتھ کراچی کے صدر ہاشم ابدالی ودیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔اس موقع پر حافظ نعیم الرحمن نے جے آئی یوتھ کی جانب سے کراچی بار کے صدر منیر احمد ملک کو وکلاء برادری کے لیے ماسک، سینیٹائزر اور دیگر طبی حفاظتی سامان بھی فراہم کیا گیا۔جے آئی یوتھ کے رضاکاروں نے کراچی بار کی تمام عمارتوں میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے جراثیم کُش اسپرے بھی کیا۔کراچی بار کونسل کے صدر منیراحمد ملک نے حافظ نعیم الرحمن کاکراچی بار میں آمد پر خیر مقدم کیا اور کہا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت ہمیشہ آفات کی گھڑی میں عوام کے مسیحا بنے ہیں،آج بھی کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باعث عوام پریشان ہیں،عوام کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے لیکن حکومت سوائے زبانی جمع خرچ کے کوئی اقدامات نہیں کررہی۔حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باوجود سندھ حکومت کی جانب سے ڈبل سواری پر پابندی لگانا غیر دانشمندانہ اور احمقانہ فیصلہ ہے،بجائے اس کے کہ عوام کو ریلیف دی جاتی عوام کو پریشان کیا جارہا ہے، احساس پروگرام میں لمبی لمبی لائنیں لگا کر عزت نفس مجروح کی جارہی ہے، المیہ یہ ہے کہ ایک ہی ملک میں دوقانون چلائے جارہے ہیں،پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں چھوٹے بڑے تجارتی مراکز کھول دیے گئے ہیں لیکن سندھ میں اب تک مکمل لاک ڈاؤن ہے، عوام پریشان حال ہیں،کیا کوروانا وائرس صرف سندھ میں ہی ہے جس کی وجہ سے یہاں کے تاجروں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کیا جارہا ہے،سندھ حکومت ایس اوپی بنائے جس میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ مختلف الاوقات میں تاجروں کو دوکان کھولنے کی اجازت دے تاکہ عوام بھی باآسانی خریداری کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ اگر سندھ حکومت نے ڈبل سواری پر عائد پابندی ختم نہ کی تو کراچی بار کونسل کے وکلاء کے تعاون سے پٹیشن دائر کی جائے گی۔شہر میں متعد دمقامات پر خواتین کے لیے سفر کرنا مشکل کردیا گیا ہے،عوام کی زندگی مفلوج کردی گئی ہے،جگہ جگہ موٹر سائیکل سوار کو روک کران کے ٹائر کی ہوانکال دی جاتی ہے یا پھر سخت دھوپ میں کھڑا کردیا جاتا ہے،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وفاق اور صوبہ مکمل طور پر عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوچکے ہیں اور اس طرح قانون پاس کرکے عوام کو مزید آزمائش میں مبتلا کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی اور الخدمت آزمائش کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ موجود ہے اور ریلیف کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن کوئی بھی این جی او حکومت کا نعم البدل نہیں،حکومت کے پاس 12سو ارب روپے کی امداد آئی حکمران بتائیں کہ وہ امداد کہاں گئی؟ عوام کو اب تک ریلیف کیوں نہیں ملا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -