رمضان میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے عزازی مجسٹریٹ مقرر کئے جائیں: کوکب اقبال

  رمضان میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے عزازی مجسٹریٹ مقرر کئے جائیں: کوکب ...

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی منافع خور سرگرم ہوگئے انہیں نا ہی کرونا وائر سے ڈر و خوف ہے اور نہ ہی اللہ کے عذاب سے منافع خوری عروج پر ہے پورے سندھ خصوصاً حیدرآباد اور کراچی ڈویژن میں صارفین کی کہیں شنوائی نہیں اعزازی مجسٹریٹ مقرر کیئے جائیں کیونکہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن پرائس کنٹرول کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی یا وہ کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے میں لگی ہے۔ یہ بات صارفین کی نمائندہ تنظیم کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے میڈیا کے نمائندوں سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کی آمد میں چند دن ہیں جبکہ ابھی تک کمشنر کراچی افتخار شلوانی کے آفس میں پرائس کنٹرول کرنے کے حوالے سے کوئی میٹنگ نہیں بلوائی گئی انہوں نے کہا کہ اجناس کی قیمتوں سمیت گائے، بکرے اور پھل کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا گیا ہے۔ کراچی سمیت پورے سندھ میں کسی بھی علاقے میں صارفین کو حکومتی نرخوں پر چیزیں دستیاب نہیں ہیں وفاقی حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر بے شمار اشیاء پر اربوں کی سبسڈی دینے کا اعلان کیا مگر ابھی تک صارفین یوٹیلیٹی اسٹورز پر کم قیمت اشیاء کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کی کم تعداد کی وجہ سے چیئرمین یوٹیلیٹی اسٹور نے کچھ دن پہلے یہ بتایا تھا کہ یوٹیلیٹی اسٹور کے موبائل یونٹ پورے پاکستان میں رمضان المبارک پر دی ہوئی سبسڈی اشیاء لیکر ہر علاقے میں جائینگے مگر ابھی تک ایسی کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ صارفین کو رمضان پیکیج سے ریلیف حاسل ہوگا۔ کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے ایک سوال کے جواب میں بتایاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں تاجروں کے ساتھ تو مشاورت کرتی ہیں مگر ابھی تک صارفین کی نمائندہ تنظیم سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور صارفین کی دادرسی کیلئے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔کوکب اقبال نے مزید کہا کہ اب جب کے عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں انتہائی کم سطح پر آگئی ہیں تو حکومت کو چاہیئے کہ پیٹرول ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں کم از کم 70 فیصد کمی کرے تاکہ صارفین کو براہ راست فائدہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہوتا تھا حکومت فوری طور پر اضافہ کردیتی تھی مگر اب تنی تیزی اور پھرتی نہیں دیکھائی جارہی۔ کوکب اقبال نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات میں کمی سے نہ صرف بجلی کی قیمتوں میں واقع کمی کی جانی چاہیئے بلکہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں خصوصاً ہوئی جہاز اور ٹرین کے کرایوں میں عالمی سطح پر کمی کے تناسب سے کمی کی جائے۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی حالیہ میں ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے حوالے سے آرڈیننس پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بہترین آرڈیننس کے نفاز سے ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی ہوگی ضرورت اس امر کی ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے اور ذخیرہ اندوزی آرڈیننس کے تحت قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٓرڈیننس کو پاس ہوئے کئی دن ہوچکے ہیں مگر ابھی تک پورے ملک میں کہیں پر بھی کوئی کارروائی دیکھائی نہیں دی۔کوکب اقبال نے کہا کہ قوانین سازی ہوجاتی ہے مگر اس پر عمل درآمد ہی اصل مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی سطح پرپرائس کنٹرول کیلئے ٹاسک فورس قائم کی، اسے مکمل اختیارات دیئے جائیں تاکہ پرائس کنٹرول کا مکنیزیم صحیح کام کرسکے۔ انہوں نے موجودہ نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ کارروائی صرف دیکھاوے کی حد تک کی جاتی ہے جب ہی منافع کور بے خوف و خطر اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ مہینے سے لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریب غریب تر ہوگیا اور جو سفید پوش تھے انکا بھی بھرم ٹوٹ گیا،ان کے پاس جمع پونجی ختم ہوگئی لوگوں کی قوت خرید ختم ہوگئی ہے۔ کوکب اقبال نے کہا کہ اب جبکہ دودھ کی ڈیمانڈ نچلی سطح پر آگئی ہے مارکیٹ میں ہول سیل کی قیمت تقریباً چودہ سو 1400روپے سے1600 روپے من پر آگئی ہے یعنی 40 روپے کلو سے 50روپے کلو تک دودھ فروخت کیا جاسکتا ہے مگر ان حالات میں بھی شہر کراچی میں دودھ کم از کم سو روپے اور کچھ دکانوں پر 110 روپے اعلان کے ساتھ فروخت ہورہا ہے جس کی اطلاع کمشنر کرچی اور ڈپٹی کمنشر کو واٹس ایپ کے ذریعے دوکانوں کی نشاندہی کرکے دی گئی مگر کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی اس کا مطلب ہے کہ منافع خوروں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے اور صارفین مجبوراً مہنگی اشیاء خریدنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے اپیل کی کہ وہ پرائس کنٹرول کمیٹی کا اجلاس طلب کریں تاکہ منافع خوروں کو لگام دی جاسکے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -