کرونا،حکومت نے ہر سطح پر بہترین اقدامات کئے،فوزیہ تبسم

کرونا،حکومت نے ہر سطح پر بہترین اقدامات کئے،فوزیہ تبسم

  

لاہور(فلم رپورٹر) ماہر تعلیم، افسانہ نگار، کالم نگار، ڈرامہ نگار،شاعرہ اور صوفی تبسم اکیڈمی کی چیئرپرسن ڈاکٹر فوزیہ تبسم نے کہا کہ کرونا کوورڈ 19 ایک جان لیوا وائرس ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اب پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آچکا ہے۔عوام بے حد مشکل میں ہے اور کاروبار زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔ حکومت نے ہر سطح پر نہایت اچھے اقدامات کیے ہیں اور ان کی کوششیں قابل ستائش ہیں مگر افسوس اس بات کا ہے کہ 40 فیصد اس کو سمجھ رہی ہے مگر 60 فیصد لوگ اس وبا کے اثرات سے ناواقف ہیں جو اپنے معصوم بچوں اور بیوی کو موٹر سائیکل پر بیٹھا کر مارکیٹوں اور باغ کی سیر پر لے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی اور دوسروں کی زندگی سے کھیل رہے ہیں جس کا ان کو خود بھی اندازہ نہیں۔ کرونا یہ نہیں دیکھتا کہ کون مسلمان ہے کون نمازی ہے۔ کرونا تو صرف انسان مانگتا ہے۔ حکومت کے لاک ڈاؤن پر ہمیں پوری طرح عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت ہماری زندگی بچانا چاہتی ہے۔

مگر قوم یہ بات سمجھ نہیں پارہی۔ اس وقت ہمیں سیاست کی نہیں ایک قوم کی ضرورت ہے۔ گلیوں، بازاروں میں لوگ بغیر ماسک کے پھرتے نظر آتے ہیں۔ ہر گلی میں سبزی والے فروٹ فروش، آئس کریم فروش پھر رہے ہیں جو صبح سے شام تک چکر لگاتے رہتے ہیں مگر یہ لوگ منہ پر ماسک نہیں پہنتے اپنے ہاتھ نہیں دھوتے ہیں۔ کرونا ہماری بد احتیاطی کی وجہ سے پھیل سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک خوبصورت زندگی دی ہے۔ ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ خدارا احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ اس لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کریں۔ ہماری صوفی تبسم اکیڈمی کے ڈائریکٹر آغا شاہد سے بھی بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اس جان لیوا بیماری سے بچنے کے لیے خود سے احتیار کریں اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ لاک ڈاؤن رکھیں تاکہ آپ اور آپ کے پیارے اس جان لیوا بیماری سے بچ سکیں۔ ہم لوگ جتنا زیادہ لاک ڈاؤن میں رہیں گے اتنی جلدی ہم اس بیماری کرونا سے بچ جائیں گے۔ آغا شاہد نے یہ بھی کہا کہ خدا کے لیے گھر میں رہ کر ضرورت مندوں کی امداد کریں اپنے اردگرد صاحب حیثیت لوگوں کا گروپ بنائیں اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کریں اس وقت غریب عوام کو ہماری ضرورت ہے دل کھول کر ذکوٰۃ دیں۔ خدارا یہ دکھاوے کا موقع نہیں ہے یہ انسانیت کی خدمت کا موقع ہے۔ اس وقت دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اپنے اللہ کو راضی کرنے کی ضرورت ہے۔ دعائیں کریں اپنے لیے انسانیت کے لیے۔

مزید :

کلچر -