شفافیت کیلئے ایکرووئل اکاؤنٹنگ اختیار کر یں، اے سی سی اے

شفافیت کیلئے ایکرووئل اکاؤنٹنگ اختیار کر یں، اے سی سی اے

  

لاہور(پ ر)دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس(اے سی سی اے) اورانٹرنیشنل فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس(آئی ایف اے سی) کی جاری کردہ مشترکہ رپورٹ حکومتوں پرزور دیا گیا ہے کہ وہ شہریوں کو شفافیت کی فراہمی کے لیے ایکرووئل اکاؤنٹنگ اختیار کر یں۔ "Is cash still king? Maximising the benefits of accrual information in the public sector" کے عنوان سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ پبلک سیکٹر کی ایکوروئل اکاؤنٹنگ(accrual account) پر منتقلی سے ہی عوامی مفاد ات کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

اس رپورٹ میں 30 ایسی اہم سفارشات بھی شامل کی گئی ہیں جن پر عمل درآمد کے ذریعے ایکرووئل (accrual) پر عمل درآمد بہتر بنایا جا سکتاہے۔عمدہ فیصلہ کرنے کے لیے درست معلومات درکار ہوتی ہیں۔ سرکاری فیصلوں کے مالی اثرات بھی ہوتے ہیں، لہٰذا حکومتی سرگرمیوں کے حقیقی اقتصادی پہلوؤں کو سمجھنے سے فیصلوں کے معیار میں اضافہ کیا جا سکتاہے۔ رپورٹ میں اس بات کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے کہ سنہ 2023ء تک،اپنی مالی حالت کی رپورٹنگ ایکروئلز (accruals) کی بنیاد پرکرنے والے ممالک کی تعداد 37 سے بڑھ کر98 ہو جائے گی یعنی 25 فیصد سے بڑھ کر 65 فیصد ہو جائے گی۔ یہ تخمینہ 150 ممالک کا سروے کرنے کے بعد لگایاگیا ہے۔یہ انسانوں کے اخذ کردہ نتائج ہیں۔

کہ جب حکومت کے پاس ، اپنے شہریوں کے بارے میں طویل المیعاد فیصلے کرنے کے لیے ضرور ی معلومات دستیاب نہ ہوں۔ کیش اکاؤنٹنگ، جسے دنیا بھر میں تقریباً 75 فیصد حکومتیں استعمال کرتی ہیں، کسی بھی حکومت کی مالی صحت کے بارے میں زیادہ درست تصویر پیش نہیں کرتی ہے اور نہ ہی اس کی مدد سے ایسی خدمات، پروگراموں اور انفرااسٹرکچر کی تیاری، فراہمی اور دیکھ بھال کے لیے مناسب منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے جس پر لوگ اعتماد کر سکیں بلکہ حکومتوں پر اعتماد میں کمی واقع ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مصنف، اے سی سی اے میں ہیڈ آف پبلک سیکٹر پالیسی، ایلیکس میٹکاف (Alex Metcalfe) نے کہا:’ایکرووئل اکاؤنٹنگ کی جانب منتقلی کو محض تعمیل کی سرگرمی (activity compliance) سے زیادہ اور مالی معلومات کے زیادہ بہتر استعمال کے لیے ہونا چاہیے۔ اس رپورٹ میں اْجاگر کیے گئے فوائد کی فہرست سرکاری شعبے میں ایکرووئلز پر عمل درآمد کی واضح برتری ظاہر کرتی ہے۔جب مالی رپورٹنگ اور بجٹ سازی کا معاملہ ہو تو ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کیا نقد رقم اب بھی سب کچھ ہے؟‘انٹرنیشنل فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، کیون ڈانسی (Kevin Dancey) نے کہا:’عوامی مفادات کے حوالے سے اکاؤنٹنگ کی ذمہ داری سرکاری شعبہ میں زیادہ اہم ہے کیوں کہ وہاں سرکاری معاملات میں شفافیت اور مؤثر پبلک سروس کی فراہمی کے لیے اعلیٰ معیار کی رپورٹنگ اور بجٹ سازی لازمی ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا:’فنانس کے شعبے سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد اور سرکاری شعبے سے تعلق رکھنے والے فیصلہ ساز، جو کیش سے ایکرووئل اکاؤنٹنگ کی جانب منتقلی کی رہنمائی کر رہے ہیں، ہم اْن کی کوششوں کو سراہتے ہیں اور ان کی تائید کرتے ہیں۔‘ایکرووئلز سے حاصل ہونے والے فوائد اور پیچیدگیاں اُس کے اختیار کرنے کے مقاصد کے لحاظ سے بدل جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق،کیش اکاؤنٹنگ اوراس کی بنیاد پر بجٹ سازی اگرچہ سادہ ترین عمل ہیں لیکن یہ فیصلہ سازی کے لیے نہایت معمولی کارآمد معلومات فراہم کرتی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیاہے کہ کیش کی بنیاد پرکی جانے والی بجٹ سازی،ایکرووئل اکاؤنٹنگ کے ساتھ مل کر، زیادہ پیچیدہ بنیاد فراہم کرتی ہے لیکن یہ ایسی معلومات فراہم کرتی ہے جس سے رقم کے بدلے میں زیادہ افادیت حاصل کرنے، عوامی اسکروٹنی میں سہولت پہنچانے اور طویل المیعاد فیصلہ سازی کے لیے اعانت میں مدد ملتی ہے۔مزید برآں، ایکرووئل اکاونٹنگ اور ایکرووئل بجٹ سازی مل کر درمیانہ درجہ کی پیچیدگی لیکن تسلسل پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایکرووئل اکاؤنٹنگ پر عمل درآمد کے فوائد کا احساس کرتے ہوئے، یہ ماحول فنانس کو فیصلہ سازی کی عین مرکزیت میں رکھتا ہے اور حکومتوں کو اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ مؤثر انداز میں کارکردگی کا انتظام کر سکیں۔ یہی نہیں،ایکرووئل پر عمل درآمد کے نتیجے میں حاصل ہونے والی نئی اور فیصلہ سازی کے لیے کارآمد معلومات رقم کے بدلے افادیت کے حصول کو فروغ دیتی ہیں اور مؤثرپبلک اسکروٹنی میں مدد فراہم کرتی ہیں۔اس کے علاوہ، فیصلہ سازی کے لیے کارآمد معلومات کے حصول میں حکومتوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اہداف مقرر کریں، منصوبہ بندی کریں، فریقین کو شامل کریں، مؤثر نظام تخلیق کریں اور انٹرنل ٹریننگ سمیت، جو مستعدی سے بڑھ کر ہو، درست مہارتوں کو ترقی دیں۔رپورٹ میں حکومتوں سے سفارش کی گئی ہے کہ ایکرووئلز پر عمل درآمد کے دوران آزادانہ مالی پالیسی بنانے والے اداروں کو ہدایت کی جائے کہ وہ ہنگامی واجبات (contingent liabilities) کا جائزہ لیں اور باربار پیش آنے والے مالی خطرات پر رپورٹیں تیار کریں۔ اس رپورٹ میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ فیصلہ سازی میں فنانس کو مرکزیت دینے کی غرض سے ایکرووئل بجٹ سازی پر عمل کریں اور اسی کے ساتھ پوری حکومت میں کارکردگی کا انتظام کریں۔ اس کے علاوہ، مکمل طور پر ایسی اجتماعی بیلنس شیٹ کی تیاری کے لیے منصوبہ بندی کریں جوپبلک سیکٹر کے پاس دستیاب وسائل اور درپیش خطرات کی مکمل مالی تصویر پیش کرتی ہو۔ اس میں پوری حکومتی سطح پر سرکار کی ملکیت اداروں کو بھی شامل ہونا چاہیے۔رپورٹ میں مزید سفارش کی گئی ہے کہ سیاسی دشواریوں کو عمل درآمد کے روڈ میپ میں شروع سے ہی شامل رکھنا چاہیے -مثلاً مدت ختم ہونے کی تاریخ(sunset clause) جس کے بعد ملازم کی پنشن سے متعلق ذمہ داریوں کو تسلیم کیا گیا ہو- اورایسے گروپوں کو بھی شامل رکھنا چاہیے جو اصلاحات کے لیے تعمیری چیلنج کا کام کرتے ہوں مثلاً آڈیٹرزاور قانون ساز کمیٹیاں (مثال کے طور پر برطانیہ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی)۔ رپورٹ میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ مرکز میں ماہرین کی تعیناتی تاکہ مشاورتی اخراجات کنٹرول کیے جا سکیں اور پوری حکومت میں عمل درآمد میں مدد مل سکے۔

مزید :

کامرس -