بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکول: گیارہ ماہ سے اساتذہ کااعزازایہ بند

  بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکول: گیارہ ماہ سے اساتذہ کااعزازایہ بند

  

لیاقت پور(تحصیل رپورٹر) وفاقی حکومت کے زیر اہتمام ملک بھر میں بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکول سسٹم کے نام سے گھروں میں 12175غیر رسمی تعلیم کے ادارے گذشتہ تین عشروں سے کام کر رہے ہیں۔ ان سکولوں کے اساتذہ کو صرف آٹھ ہزار روپے ماہانہ وظیفہ جبکہ ایک ہزار روپیہ ماہانہ یوٹیلٹی بل کی مد میں دیا جاتا ہے۔گزشتہ گیارہ ماہ سے ان ہزاروں اساتذہ جن(بقیہ نمبر38صفحہ6پر)

میں اکثریت معلمات کی ہے کو انکے اعزازیہ جبکہ تین سال سے یوٹیلٹی بل کی مد میں بقایاجات ادا نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے ان اساتذہ کے معاشی مسائل میں اضافہ ہورہا تھا کہ لاگ ڈاؤن نے حالات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔مقامی بیکس ٹیچرز زاہدہ تبسم، فرحت اختر، فرزانہ خان، مسرت نیازی، نسیم اعجاز، افشین عادل، ریحانہ ظفر اوردیگرنے کہا کہ وہ گزشتہ 25 سال سے فروغ تعلیم کے لئے کوشاں ہیں لیکن ہر حکومت نے انہیں نظر انداز کیا۔انہوں نے کہا کہ ضلع رحیم یار خان کے اڑھائی سو بچوں سمیت ملک بھر میں 12 ہزار سے زیادہ ٹیچرز شدید مالی پریشانی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ حکومت انہیں کرونا کی صورتحال میں ترجیحی بنیادوں پر ان کا حق دے اور انہیں مستقل کیا جائے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -