صوبائی وزیرصحت کانشتر میں لیول تھری لیب آج سے فعال کرنیکا اعلان

صوبائی وزیرصحت کانشتر میں لیول تھری لیب آج سے فعال کرنیکا اعلان

  

ملتان،رحیم یارخان (نمائندہ خصوصی، بیورو رپورٹ) صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ تبلیغی جماعت اور زائرین کے کنفرم کیسز 1859 ہیں۔ اس وقت پنجاب میں کرونا کے 19 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ پنجاب میں 140 ایسے علاقے ہیں (بقیہ نمبر10صفحہ6پر)

جن کو مکمل لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے تاکہ لوکل ٹرانسمیشن کو روکا جا سکے۔ آج سے تین دن پہلے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ نشتر ہسپتال ملتان میں مریضوں اور ڈاکٹروں کیلئے سہولیات ناکافی ہیں۔ نشتر ہسپتال کے ڈاکٹرز 27، تین نرسز اور چار پیرا میڈیکل اسٹاف کا کورونا ٹیسٹ پازیٹیو آیا تھا جن میں سے 26 ڈاکٹرز آج ڈبل نیگٹو آگئے ہیں جبکہ ایک نشتر میں زیر علاج ہے تاہم وہ بھی صحتیاب ہے۔ نشتر سپتال میں 3 ہزار 608 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ اب تک نشتر ہسپتال کی لیبارٹری سے کورونا کے 3608 مریضوں کے ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نشتر ہسپتال ملتان میں لیول تھری کی لیب بھی آج فعال ہو جائے گی جس سے ٹیسٹنگ کپیسٹی میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ بر صغیر میں پاکستان سب سے ذیادہ ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں یہ تعداد مزید بڑھائی جائے گی۔ کورونا جیسی صورتحال میں بھی بعض ڈاکٹرز کی جانب سے کام بند کیا گیا جو قابل ستائش نہیں ہے۔ اس وقت بھی 15 ہزار ڈاکٹرز اور 28 ہزار طبی عملہ صوبے میں کورونا سے جنگ لڑرہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سرکٹ ہاؤس ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد نے سرکٹ ہاؤس ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں کرونا کے کنفرم کیسز 4 ہزار 227 ہیں۔ زیادہ تر کیسز کی ٹریول ہسٹری ہے جبکہ دیگر زائرین اور تبلیغی اجتماع کے لوگ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نشتر اسپتال میں کرونا کے 30 پازیٹو کیس ہیں۔ نشتر سپتال کے 27 ڈاکٹروں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جن میں سے 26 کے ٹیسٹ ڈبل نیگٹو آگئے ہیں۔ نشتر اسپتال میں ضروری مکمل حفاظتی سامان موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ طیب اردگان ہسپتال میں 35 ونٹیلیٹرز ہیں اور نشتر سے کوئی ونٹی لیٹر منتقل نہیں کیا گیا۔ طیب اردوان 35 وینٹیلیٹر ان کے اپنے ہیں جن کو نشتر کے ڈاکٹرز چلا رہے ہیں۔ نشتر اسپتال کے تمام ڈاکٹروں کو این 95 ماسک دے دیے ہیں۔ جن علاقوں میں کرونا کے مریض ہیں اس علاقے کے لوگوں کے ٹیسٹ کریں گے۔ بزرگ افراد کسی صورت سے گھر سے نہ نکلیں اور ماسک استعمال کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی پی ایز شروع میں طیب رجب ہسپتال کو دیے گئے تھے لیکن اب نشتر ہسپتال ملتان میں بھی فراہم کردئے گئے ہیں۔ نشتر ہسپتال میں اس وقت آئندہ 2 ہفتوں کیلے تمام حفاظتی سامان موجود ہے۔ نشتر ہسپتال کے تمام ڈاکٹروں کو این 95 ماسک فراہم کردئیے گئے ہیں۔ نشتر ہسپتال ملتان میں ابھی بھی 2082 کورونا ٹیسٹ کٹس موجود ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہیلتھ سیکرٹریز نکلیں اور ملتان آئیں جبکہ اس صورتحال کے دوران سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیپٹن(ر) عثمان 2 بار ملتان آچکے ہیں۔ وزیر خارجہ جب بھی کہیں گے ہم ملتان آ جائیں گے۔ان کی شکایت دور کرنے کیلئے ہم ہر بار آجائیں گے۔ صوبائی وزیر صحت نے بتایا بر صغیر میں پاکستان سب سے ذیادہ ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں یہ تعداد مزید بڑھائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم انڈیا سے بھی زیادہ ٹیسٹ روزانہ کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔ پنجاب میں 4 ہزار سے زائد مریضوں کیلئے جگہ بنالی گئی ہے۔ ہم ٹیسٹ ان لوگوں کے کررہے ہیں جن میں علامات یا ان کی ٹریول ہسٹری ہو۔ پنجاب میں 140 سے زائد علاقے لاک ڈاؤن کئے ہوئے ہیں۔ لوکل ٹرانسمیشن کیلئے ان لاہور میں روزانہ 12 ہزار ٹیسٹ کئے جائیں گے۔ اس سلسلے میں رینڈم ٹیسٹنگ کی جائے گی اس کیلئے جیلوں، منڈیوں اور ہسپتالوں میں ٹیسٹ کئے جائیں گے۔ پی ایم اے اور ینگ ڈاکٹرز ہسپتالوں کے ملازمین ہیں جن کو وائس چانسلر نے دیکھنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت آزمائش کا وقت ہے اور اس دوران بھی کام بند کردیا گیا یہ بات قابل ستائش نہیں ہے۔جبکہصوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز نرسز پیرا میڈیکس ہمارے فرنٹ لائن سولجرز ہیں کورونا سے نمٹنے کے لئے ان ہیروز کی خدمات کو کوئی فراموش نہیں کر سکتا ان کے لئے جو کچھ بن پڑا کریں گے،نشتر ہسپتال کے تمام انتظامی افسران انتھک دن رات محنت کر رہے ہیں تاکہ مریضوں سمیت نشتر ہسپتال عملے کو سہولیات فراہم کی جا سکیں یہ نہایت خوش آئند بات ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز نشتر میڈیکل کالج کی اکیڈمک کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ان کا مزید کہنا تھا کہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال کے تمام فرنٹ لائن ہیروز کو سلام پیش کرتی ہوں یہ وقت ہے کہ قوم کی خدمت کی جائے،میری عمر کے لوگوں کو گھر بیٹھنے کا کہا جا رہا ہے لیکن میں اس وقت فیلڈ میں ہوں تاکہ عوام کو اعتماد دے سکیں،اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مصطفی کمال پاشا نے کورونا ایمرجنسی کے دوران بہترین کارکردگی دکھانے والے چار پروفیسر حضرات کو سٹیج پر بلایا اور تالیاں بجا کر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا،وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مصطفی کمال پاشا کا کہنا تھا کہ پرنسپل نشتر میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر افتخار حسین،چیف پلمونالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر انجم نوید جمال،ایم ایس ڈاکٹر شاہد بخاری،اور پتھالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر اصغر جاوید نے اس کورونا ایمرجنسی کے دوران دن رات کی پرواہ کئے بغیر جس طرح کام کیا اور کر رہے ہیں اس کی مثال بہت کم ملتی ہے ہمیں اپنے ان ہیروز کو خصوصی خراج تحسین پیش کرنے کی ضرورت ہے اس موقع پر صوبائی وزیر صحت کی جانب سے بھی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔اس کے علاوہصوبائی وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے کہا ہے کہ پاکستان اس خطہ میں سب سے زیادہ کورونا کے ٹیسٹ کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔بھارت، بنگلہ دیش، نیپال ودیگر ممالک اتنی مقدار میں کورونا کے ٹیسٹ نہیں کر رہے جتنے پاکستان کر رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی وزیر لائیو سٹاک حسنین بہادر دریشک اور پارلیمانی سیکرٹری عشر و زکواۃ پنجاب چوہدری محمد شفیق کے ہمراہ اکیڈمک میڈیکل کونسل شیخ زید میڈیکل کالج اور میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت پنجاب55ہزار سے زائد کورونا کے ٹیسٹ کر چکی ہے جس میں 4ہزار227کنفرم کیس آئے ہیں اور خوش آئند بات ہے کہ 750سے زائد کورونا مثبت مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ3ہزار ٹیسٹ روزانہ کئے جا رہے ہیں جس کی استعداد کار بڑھا کر5ہزار تک کی جائے گی جس کے لئے صوبہ میں چھ مزید کورونا ٹیسٹنگ لیبارٹیریز فنکشنل ہو چکی ہیں اور دو مزید جلد فنکشنل ہو جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کورونا کیسز سے متعلق قوم سے کوئی حقائق پوشیدہ نہیں رکھ رہی روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی پیشرفت بارے قوم کو حقائق سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔انڈیا، بنگلہ دیش، نیپال سمیت خطہ کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان سب سے زیادہ ٹیسٹ کر رہا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اپنی تمام صوبائی کابینہ کو عوامی تحفظ کے لئے متحرک کیا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائر س کے خلاف ہمارے ڈاکٹرز و پیرا میڈیکس کا کردار ناقابل فراموش ہے اور پوری قوم و حکومت کو اپنے ڈاکٹرز او رطبی عملہ کی خدمات پر فخر ہے۔کورونا وائرس کے خلاف ینگ ڈاکٹرز اپنی ذمہ داریاں قومی فریضہ سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بطور ڈاکٹرز ہم نے اس وبائی مرض سے گھبرانا نہیں بلکہ محفوظ رہتے ہوئے عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ضلع رحیم یا رخان کی انتظامیہ، ہیلتھ ٹیم دیگر محکموں کے ساتھ مل کر مثالی کام کر رہی ہے اور اس ضلع کے ٹیم ورک کی بدولت صو بائی قیادت اس کی کارکردگی سے مطمین ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع رحیم یا رخان میں کورونا ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ضلع رحیم یا رخان میں کورونا کے مثبت مریضوں کی تعداد113ہے جبکہ704کے نتائج منفی 432کے نتائج کا انتظار ہے اور 3کنفرم مریضوں کی اموات ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے 14ارب روپے شعبہ صحت کے لئے مختص کئے ہیں صوبہ بھر میں فیلد ہسپتال بنائے جا رہے ہیں جبکہ قرنطینہ مراکز میں رکھے گئے تمام مشتبہ و کنفرم مریضوں کی طبی سہولیات کے ساتھ کھانے پینے کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

دورہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -