سبسڈی ڈرامہ، یوٹیلیٹی سٹورز پر مختلف اشیاء مزید مہنگی، شہریوں کا احتجاج

      سبسڈی ڈرامہ، یوٹیلیٹی سٹورز پر مختلف اشیاء مزید مہنگی، شہریوں کا ...

  

ہارون آباد (نامہ نگار)حکومت کی طرف سے سبسڈی کے باوجود یوٹیلٹی اسٹورز پر شیاء مزید مہنگی کر دی گئیں جبکہ مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکلوا دیں،تفصیلات ک مطابق دنیا میں 7ویں نمبر قابل کاشت زمین ہونے کے باوجود پاکستان جیسے پسماندہ اور غریب ملک کھانے کی ”دالیں“بیرون ممالک افغانستان، برما، آسٹریلیا، کنیڈا، ترکی و دیگر ممالک سے درآمد کرتا ہے، کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن ہونے کی(بقیہ نمبر11صفحہ6پر)

وجہ سے ملکی درآمدات بند ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں عدم دستیابی کی وجہ سے مہنگائی آسمانوں پر جبکہ دال غریب کیلئے خواب بن کر رہ گئی، حکومت پاکستان کی طرف سے اربوں روپے کی سبسڈی دینے کے باوجود یوٹیلٹی اسٹورز آج بھی عام مارکیٹ سے زیادہ قیمت پر اشیاء فروخت کررہا ہے، اوپن مارکیٹ میں دال چنا 140، دال مسور 150، دال مونگ 220، دال ماش 218،گھی 170، چینی 80اور بیسن 140روپے فی کلو کے حساب فروخت کیا جارہا ہے جبکہ اربوں روپے کی سبسڈی ہونے کے باوجود یوٹیلٹی اسٹورز پر یہی اشیاء مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں، 17اپریل سے یوٹیلٹی اسٹورز پر جاری کردہ نرخ کے مطابق دال چنا 160، دال مسور 135،دال مونگ دستیاب نہیں، دال ماش 255، گھی 170چینی 68جبکہ بیسن 140روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہورہا ہے، اس سلسلہ میں شہریوں ابراہیم، عثمان، ذیشان، فرحان، شعیب و دیگر نے کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے سبسڈی کے باوجود یوٹیلٹی اسٹورز پر اشیاء عام مارکیٹ کے نسبت مہنگی ہیں جس سے صاف واضع ہے کہ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت زرعی ملک ہونے کے پیش نظر محکمہ زراعت کو پابند کرے کہ وہ دالوں کی کاشت کو ممکن بنائے اور حکومتی سطح پر دالوں کی امدادی قیمت مقرر کرے اور گندم کی طرح محکمہ خوراک ان کا ذخیرہ کرے تاکہ عوام کو سستی دالیں اور زمینداروں کو مناسب قیمت ملتی رہے۔

مہنگی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -