دس ہزار سے زائد لوگوں کی نوکریاں ختم ہوچکیں یا پھر۔ ۔۔ "اہلِ ریاض" کا حکومتِ پاکستان سے احتجاج، بڑا مطالبہ کردیا

دس ہزار سے زائد لوگوں کی نوکریاں ختم ہوچکیں یا پھر۔ ۔۔ "اہلِ ریاض" کا حکومتِ ...
دس ہزار سے زائد لوگوں کی نوکریاں ختم ہوچکیں یا پھر۔ ۔۔

  

ریاض (وقار نسیم وامق) سعودی دارالحکومت ریاض میں پاکستانی سیاسی و سماجی تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم "اہلِ ریاض" نے ایک ہنگامی آن لائن پریس کانفرنس بذریعہ ویڈیو لنک منعقد کی، جس کی میزبانی کے فرائض پاکستان مسلم لیگ (ن) ریاض ریجن کے صدر خالد اکرام رانا جبکہ نظامت کے فرائض راجہ محمد یعقوب نے سرانجام دئیے.سعودی عرب میں پاکستانی تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم "اہلِ ریاض"نے حکومتِ پاکستان سے احتجاج اور محنت کشوں کی فوری داد رسی کا مطالبہ کردیا۔

 اس مشترکہ پریس کانفرنس میں کورونا وائرس کی وجہ سے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو درپیش مسائل اور حکومت پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ اور خصوصاً سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیساتھ روا رکھے گئے معاندانہ سلوک پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا.شرکاء نے سعودی حکومت اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کا کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے اٹھائے گئے بروقت اقدامات اور بالخصوص اس وبائی حالات میں سعودی عرب میں مقیم تمام لوگوں کو بلا تفریق مفت علاج فراہم کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے سعودی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا.

شرکاء نے حکومت پاکستان کی طرف سے کورونا وائرس کے سبب بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کےلئے جاری کردہ فلائٹ شیڈول میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو نظرانداز کرنے پر بھرپور احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں مقیم پچیس لاکھ محنت کشوں نے پاکستان میں زلزلہ زدگان اور سیلاب متاثرین کی مدد اور مشکل کی ہر گھڑی میں حکومت پاکستان کی مدد کرنے میں ہر اول دستہ کا کردار ادا کیا ہے جبکہ بیرون ملک سے پاکستان بھیجے جانے والے زرمبادلہ میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کا حصہ 23 فیصد ہے، مشکل کی اس گھڑی میں جہاں کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے وہاں سعودی عرب میں مقیم محنت کش بھی بری طرح متاثر ہیں اور ایسے وقت میں حکومتِ پاکستان کا ان کے مسائل سے آنکھیں پھیرنا کسی المیہ سے کم نہیں۔

شرکاء نے حکومتِ پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی فوری داد رسی کیلئے درج ذیل اقدامات کئے جائیں.

1. مملکت میں موجود دس ہزار سے زائد ایسے افراد کا ڈیٹا اس وقت سفارتخانہ پاکستان کے پاس موجود ہے جن کی یا نوکریاں ختم ہو جانے سے فائنل ایگزٹ خروج لگ چکا ہے یا پھر فیملی ویزٹ ویزا ختم ہونے یا کسی دیگر ایمرجنسی یا بیماری کیوجہ سے وطن واپسی کے منتظر ہیں، حکومتِ پاکستان ان افراد کیلئے جلد از جلد سفری بندوبست کریں.

2. فلائٹ آپریشن معطل ہونے کیوجہ سے اسوقت مملکت کے مختلف ہسپتالوں میں طبعی موت مرنے والے 70 سے زائد پاکستانیوں کی میتیں پڑی ہیں جن کو دیکھنے اور پاکستان میں تدفین کے لئے انکے پیارے منتظر ہیں، ان میتوں کی ترسیل کے لئے بلا تاخیر اقدامات کئے جائیں.

3. پروٹیکٹر ، اسٹیٹ لائف انشورنس کی مد میں اوورسیز پاکستانیوں سے لئے گئے اربوں روپے کے فنڈز اور اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کے پاس موجود وسائل سے موجودہ حالات سے متاثرہ مستحق اوورسیز پاکستانیوں کی پاکستان میں موجود خاندانوں کی مالی مدد کے لیے فوری طور پر فنڈ ریلیز کیا جائے.

شرکائے پریس کانفرنس نے موجودہ مشکل حالات میں سفیرِ پاکستان اور ویلفئیر ونگ کی طرف سے کی گئی کاوشوں کو سراہتے ہوئے سفارتخانہ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اہلِ ریاض مشکل کی اس گھڑی میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی مدد کے لئے سفارتخانہ کی طرف سے کئے جانے والے تمام اقدامات کا ساتھ دینے اور انکے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں.

شرکاء نے سفیرِ پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ ایمبیسی کے زیر انتظام چلنے والے کمیونٹی سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی فیسوں میں خصوصی رعایت کے لئے بھی ہدایات جاری کریں.

 پریس کانفرس میں درج ذیل جماعتوں اور تنظیموں کے نمائندگان کے علاوہ پچاس سے زائد کمیونٹی ممبران نے شرکت کی جس کی تفصیل درج ذیل ہے،

۱۔ خالد اکرام رانا ۔ پی ایم ایل (ن)

۲۔ احسن عباسی ۔ پی پی پی

۳۔ ڈاکٹر سید مزمل شاہ ۔ اے این پی

۴۔ اقبال ودود ۔ قومی وطن پارٹی

۵۔ ممتاز خان ۔ جے یو آئی

۶۔ محمد عمر کیلانی ۔ جمعیت اہل حدیث

۷۔ حنیف بابر ۔ پاک سرزمین پارٹی

۸۔ رانا عبدالرؤف ۔ مجلس پاکستان

۹۔ محمد یوسف ۔ آپو تنظیم

۱۰۔زاہد لطیف سندھو ۔ اوورسیز پروموٹر

۱۱۔ محمد خالد رانا ۔ پاکستان تھنکرز فورم

مزید :

اہم خبریں -تارکین پاکستان -