لاہور چڑیا گھر کا شیر گائے، بیل اور بھینس سے بھی سستا

لاہور چڑیا گھر کا شیر گائے، بیل اور بھینس سے بھی سستا
لاہور چڑیا گھر کا شیر گائے، بیل اور بھینس سے بھی سستا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سفاری پارک کی انتظامیہ نے مالی بحران کا مقابلہ کرنے کیلئے 14 افریقی شیروں کو فروخت کر دیا ہے۔

بی بی سی نے سفاری چڑیا گھر لاہور کے ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اظہر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان شیروں کی فروخت فی کس ڈیڑھ لاکھ روپے اور فی جوڑا تین لاکھ کے حساب سے ہوئی ہے۔محکمہ وائلڈ لائف پنجاب کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان شیروں کو فروخت کرنے کی مختلف وجوہات ہیں۔

نعیم بھٹی نے بتایا ’سفاری چڑیا گھر کا موجودہ رقبہ 80 ایکٹر ہے۔ جس میں ہمارے پاس 49 شیر تھے۔ ان میں اکثریت افریقی شیروں کی ہے۔ جن کی بریڈنگ چڑیا گھر ہی میں ہوئی تھی۔ یہ رقبہ اس تعداد کےلئے ناکافی تھا۔ جس وجہ سے یہ شیر اتنے آرام سے نہیں رہ رہے تھے۔‘

’اس کے ساتھ ہمیں متحدہ عرب امارات سے چار شیروں اور ٹائیگرز کے تحفے ملے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کو ان افریقی شیروں کے ساتھ بریڈ کیا جائے۔ اب اگر اسی کنال میں جب تک ان کےلئے مزید جگہ نہیں بنائی جا سکتی، اس وقت تک متحدہ عرب امارات سے آنے والوں کے ساتھ ان کی بریڈنگ ممکن نہیں۔

ترجمان محکمہ وائلڈ لائف اینڈ پارکس پنجاب نے بتایا کہ سفاری زو سے فروخت کردہ 14 شیروں کو بجٹ کی کمی کے باعث فروخت کرنے کا تاثر درست نہیں۔بتایا گیا کہ فروخت کردہ شیروں کو شیر گھرمیں جگہ کی کمی کے باعث فروخت کیا گیا اور تمام شیر لاک ڈاو¿ن سے قبل فروخت کیے گئے۔

شیروں کی فروخت کا معاملہ اس سے بھی ایک ماہ قبل سے پراسس میں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف سیاحوں کی آمد سے حاصل ہونے والی گیٹ منی سفاری کے انتظام و انصرام کےلئے ناکافی ہے۔

سفاری پارک میں لائے جانے والے نئے شیروں کے موجود شیروں سے جوڑے بنائے جائیں گے۔ چڑیا گھر کے تمام جانور مکمل طور پر صحت مند ہیں اور انہیں بہترین خوراک دی جا رہی ہے۔ترجمان محکمہ وائلڈ لائف اینڈ پارکس پنجاب کا کہنا تھا کہ چڑیا گھر کے ویٹرنری ڈاکٹرز اور رفاہ یونیورسٹی کے ماہرین نے سفاری زو کے جانوروں کی چیک کر کے اپنے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ویٹرنری ڈاکٹرز اور ماہرین نے بگ کیٹس سمیت تمام جانوروں کو مکمل صحت مند اور کرونا فری قرار دیا ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -