یوم توبہ اور یوم رحمت ...!

یوم توبہ اور یوم رحمت ...!
یوم توبہ اور یوم رحمت ...!

  

کورونا وائرس کی صورتحال کے باعث حکومت اور علمائے کرام نے جمعتہ المبارک کا دن یوم رحمت اور یوم توبہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ۔ بے شک اللہ ربّ العزت کو توبہ کرنے والوں سے خصوصی محبت ہے، اور توبہ ہی کی بدولت تمام پریشانیاں ختم ہوتی ہیں۔ جب ایک انسان گنا ہ کرتا ہے، غلطیاں کرتا ہے ،ظلم کرتا ہے، لیکن جب وہ اللہ ربّ العزت کی بارگا ہ میں جھک جاتا ہے اور توبہ کرتا ہے، عاجزی کرتا ہے، روتا ہے اور تو یقینا توبہ قبول ہوجاتی ہے۔ اور پھر یہ توبہ باعث رحمت اور باعث نجات بنتی ہے۔ محققین کے نزدیک کامل توبہ کی چند شرائط ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر ، انسان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے جملہ گناہوں، برائیوں اور نافرمانیوں سے شرمندہ اور تائب ہو کر اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کرکے دنیا اور آخرت میں عذاب الٰہی سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔

توبہ کی بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان اپنے گناہ، طور طریقوں اور برے اعمال پر شدید پشیمانی اور شرمندگی محسوس کرے، جو کہ درحقیقت برے کاموں سے کنارہ کشی کی طرف پہلا قدم ہے۔ ندامت کے صحیح ہونے کی علامات میں دل کا نرم ہو جانا اور کثرت سے آنسوئوں کا جاری ہونا ہے کیونکہ جب دل کو اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی کا احساس جکڑلے ،اور بندہ پر عذاب الٰہی کا خوف طاری ہو جائے تو یہ گریہ و زاری کرنے والا اور غم زدہ ہوجاتا ہے۔ اسی لئے حضور نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ”ندامت ہی توبہ ہے۔“ جمہور محققین کے نزدیک خالص ندامت ہی توبہ کی اصل ہے جو کہ خلوص دل سے کوشش کے بغیر ممکن نہیں۔

توبہ کی دوسری شرط ترک گناہ و معصیت ہے۔ برے فعل پر شرمندگی اور پشیمانی کے احساس کے بعد بندے کے دل میں گناہ ترک کرنے کا داعیہ جنم لیتا ہے اور بندہ شرم محسوس کرتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی ایک کمزور اور حقیر ترین مخلوق ہو کر اس کے ساتھ اپنے تعلق بندگی کی حیاءنہ کی اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا، یہ احساس ترک گناہ پر منتج ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے ”مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کر لی وہ سنور گئے اورانہوں نے اللہ سے مضبوط تعلق جوڑ لیا اور انہوں نے اپنا دین اللہ کے لیے خالص کر لیا تو یہ مومنوں کی سنگت میں ہوں گے اور عنقریب اللہ مومنوں کو عظیم اجر عطا فرمائے گا“ (سورة النساء)۔ اس آیت مبارکہ کے الفاظ بندے کی توجہ اس طرف مبذول کروا رہے ہیں کہ اس کی سابقہ زندگی میں جس قدر بھی غلطیاں اور کوتاہیاں سرزد ہوئیں وہ سچے دل کے ساتھ توبہ کا طلب گار بن کر اپنے گناہوں پر ندامت محسوس کرتے ہوئے گڑگڑا کر اللہ ربّ العزت کی بارگاہ سے عفو و درگزر کی دراخواست کرے۔

بندہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور پختہ عہد کرے کہ جن نافرمانیوں، خطاؤں اور گناہوں کا ارتکاب وہ کر چکا ہے آئندہ یہ اس کی زندگی میں کبھی داخل نہیں ہوں گے، کیونکہ توبہ کی ابدی سلامتی کا انحصار اس پر ہے کہ وہ کس قدر اپنے عہد پر پختہ رہتا ہے۔ اس لئے پکا عزم کرے کہ آئندہ یہ گناہ ہر گز نہیں کروں گا۔ اگر شیطان کان میں کہے کہ تو دوبارہ یہ گناہ کرے گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ تقوی کا عزم قبولیت توبہ کے لئے کافی ہے بشرطیکہ اس عزم کو توڑنے کا ارادہ نہ ہو۔بس توبہ کے وقت اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر لیا جائے کہ اے اللہ میں آپ کے بھروسہ پر پکا عزم کرتا ہوں کہ آئندہ یہ گناہ نہیں کروں گا، تو بندہ جب تک گناہوں پر نادم اور تائب رہے گا اللہ تعالیٰ کی رحمت اس پر سایہ فگن رہے گی۔

اس کے علاوہ حقوق العباد میں سے اگر کسی کیساتھ ناانصافی یا ظلم کر بیٹھے تو اولاً اس کے حقوق ادا کرے اور اگر یہ توفیق نہیں پاتا تو پھر اس سے معافی کا خواستگار ہو اور اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر کے لئے دست بہ دعا رہے۔آج بدقسمتی سے مذہبی اور دنیوی امور کو علیحدہ علیحدہ پلڑوں میں رکھنے کے باطل طریقہ کار نے ہمارے معاشرے میں نیکی کے تصور کو دھندلا دیا ہے، بیک وقت لوٹ کھسوٹ، ظلم و ناانصافی، حق تلفی اور مفاد پرستی بھی جاری ہے اور عبادت کے ساتھ ساتھ محض لفظی توبہ بھی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس منافقانہ طرزِ عمل کی موجودگی میں ترکِ گناہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ حدیث نبوی ہے کہ ”گناہ سے باز آئے بغیر توبہ کرنا جھوٹے لوگوں کی توبہ ہے“۔ اللہ تبارک و تعالیٰ عالم الغیب ہے اس کے علم میں ہے کہ کون اپنی توبہ میں سچا اور کون جھوٹا ہے۔ حقیقی توبہ اسی وقت ہوگی جب توبہ کے بعد گناہ کو بھی مکمل طور پر ترک کر دیا جائے۔ بلاشبہ صحیح توبہ وہی ہے جو انسان کے شب و روز، افعال و اعمال اور حالات و کیفیات کو یکسر بدل کر رکھ دے۔ بندہ عبادت و ریاضت کا پیکر بن جائے ۔ایسی کامل توبہ کے بعد زندگی کی مشکلیں آسان ہوتی ہیں ، ترقی کی نئی راہیں کھلتی ہیں ، معاشرے کو آفات سے امان ملتی ہے اور ربّ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے ، ایسی رحمت جوکہ دونوں جہانوں کے لیے خیر و برکت کا باعث بنتی ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -