امریکی ریاست نے چین کے خلاف مقدمہ دائر کردیا،بڑا الزام بھی لگادیا

امریکی ریاست نے چین کے خلاف مقدمہ دائر کردیا،بڑا الزام بھی لگادیا
امریکی ریاست نے چین کے خلاف مقدمہ دائر کردیا،بڑا الزام بھی لگادیا

  

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)کورونا وائرس سےجانی و مالی نقصان کے ساتھ سیاسی رنجشیں بھی بڑھنے  لگیں۔ امریکا اور چین کی جانب سے الزام تراشیوں کے بعد ایک امریکی ریاست چین کے خلاف کھل  کر میدان میں آگئی۔امریکی اخبارنیویارک ٹائمزکے مطابق ریاست میسوری نے  چین اور اس کی کمیونسٹ پارٹی کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔

 سی این این  کے مطابق وفاقی عدالت میں دائر درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ چینی حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے مناسب اقدامات نہیں اٹھائے جس کی وجہ سے یہ وبا پوری دنیا میں پھیل گئی جس کی وجہ سے ریاست میسوری کی معیشت بھی  بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

مقدمہ ریاست میسوری کے اٹارنی جنرل ایرک شمٹ  کی جانب سے درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں چین پر الزام عائد کیا ہے کہ چین نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے بہت کم اقدامات کیے جس کی وجہ سے ریاست میسوری کے شہریوں کو تقریباً 10 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔

میسوری کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ ریاست میں عالمگیر وبا کے اثرات حقیقی ہیں، وائرس سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے اور متعدد ہلاک بھی ہوئے، مرنے والے کے پیاروں کو تدفین کے وقت علیحدہ رکھا گیا، چھوٹے کاروبار بند ہو گئے اور جو لوگ حکومتی امداد پر گزارہ کر رہے ہیں ان کے لیے بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چینی حکومت نے کووڈ 19 کی حساسیت اور اس کے اعداد و شمار کے حوالے سے دنیا سے جھوٹ بولا اور وائرس کے بارے میں بتانےوالوں کو خاموش کر دیا، انھیں اس پر ضرور کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی ریاست کی جانب سے دائر مقدمے میں چین کی حکومت، کمیونسٹ پارٹی ، چینی حکام اور اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔

قانونی ماہرین ریاست میسوری کی جانب سے دائر مقدمےکے حوالے سے گومگو کیفیت کا شکار ہیں کہ اس حوالے سے انہوں نے سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا ایک ریاست کس طرح کسی ملک کے خلاف قانونی مقدمہ دائر کر سکتی ہے اور یہ کس حد تک کارآمد ثابت ہو سکتی ہے اور اس مقدمے پر سماعت کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے؟

مزید :

کورونا وائرس -