"احساس پروگرام کی سربراہ شہریوں کو لائنوں میں لگا کر۔۔۔" چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان

"احساس پروگرام کی سربراہ شہریوں کو لائنوں میں لگا کر۔۔۔" چیف جسٹس لاہور ...

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس قاسم خان نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان ظاہر کردیا۔دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ احساس پروگرام کی سربراہ شہریوں کو لائنوں میں لگا کر تصاویر بنواتی ہیں اور چند افراد کی مالی امداد کرکے بری الزمہ ہوجاتی ہیں۔

جیو نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ بارکو حکومتی فنڈز کی عدم فراہمی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے کی جبکہ اس موقع پرصدر لاہور ہائیکورٹ بار طاہر نصراللہ وڑائچ نے دلائل دیے۔ اس موقع پر  چیف جسٹس قاسم خان نے پنجاب حکومت کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کل وزیر اعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری کو طلب کرلیا۔انہوں نے  وکلا کیلئے فنڈز مختص نہ کرنے پر وفاقی وزیر قانون سے بھی کل جواب طلب کرلیا۔

اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا  بادی النظر میں وفاقی حکومت نے وکلا کو بھوکا مرنے کیلیے چھوڑ دیا ۔انہوں نے کہا وکلا کاروبار کر سکتے ہیں نہ نوکری کر سکتے ہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب سمری مسترد کرنا چاہیں تو کر دیں، چیف جسٹس قاسم خان نے کہا وکلا کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے ،کہاں ہے پنجاب حکومت کی گڈ گورننس؟ 15روز گزرگئے پنجاب حکومت وکلا کے فنڈز کیلئے سمری منظور نہیں کرسکی۔چیف جسٹس قاسم خان نے کہا جو سفید پوش افراد لائنوں میں نہیں لگ سکتے وہ کہاں جائیں ؟ حکومت وکلا کی مدد کرکے کوئی احسان نہیں کرتی۔

اس موقع پر وفاقی حکومت کے وکیل نے کہاوکلا احساس پروگرام کے تحت فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

حکومتی طریقہ کار پر ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس قاسم خان نے کہایہاں جب تک آٹے کے تھیلے کے ساتھ تصویر نہ بنے تو غریب آدمی کی مدد نہیں ہوتی، احساس پروگرام کی سربراہ شہریوں کو لائنوں میں لگا کر تصاویر بنواتی ہیں اورچند افراد کی مالی امداد کرکے بری الزمہ ہوجاتی ہیں۔کیا قوموں کے مشکل حالات میں اس طرح ریاست مدد کرتی ہے؟ ۔

مزید :

قومی -کورونا وائرس -