اگر آپ بھی دیر تک صوفے پر بیٹھ کر بس ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں تو اس میں آپ کی غلطی نہیں، اصل وجہ جانئے

اگر آپ بھی دیر تک صوفے پر بیٹھ کر بس ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں تو اس میں آپ کی غلطی ...
اگر آپ بھی دیر تک صوفے پر بیٹھ کر بس ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں تو اس میں آپ کی غلطی نہیں، اصل وجہ جانئے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) صوفے پر بیٹھ کر بس ٹی وی دیکھتے رہنا عموماً لوگوں کی ذاتی عادت خیال کیا جاتا ہے لیکن اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں اس کے برعکس حیران کن انکشاف کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ جو لوگ سست الوجود ہوتے ہیں اور زیادہ تر بیٹھے رہتے ہیں اور ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں، یہ عادات ان کے جینز میں موجود ہوتی ہیں۔

برطانیہ میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی اس تحقیق میں سائنسدانوں کو جینیاتی کوڈ کے ایسے 169پیس (Piece)ملے ہیں جن کا تعلق ڈرائیونگ، کمپیوٹر اور ٹی وی دیکھنے سے ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”جو لوگ دن میں اوسطاً2گھنٹے 48منٹ ٹی وی دیکھتے تھے ان کے جینیاتی کوڈ میں کئی پیس ایک جیسے تھے۔ اسی طرح کمپیوٹر کے سامنے زیادہ وقت گزارنے اور طویل وقت تک ڈرائیونگ کرتے رہنے والے افراد کے جینیاتی کوڈ کے کچھ مخصوص پیس بھی ایک جیسے تھے۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر نیک ورویج کا کہنا تھا کہ ہماری تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ یہ عادات انسانوں کے جینز میں شامل ہوتی ہیں، جنہیں بدلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔واضح رہے کہ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے 40سے 69سال کے 4لاکھ 22ہزار 218مردوخواتین پر تجربات کیے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -