عدالت نے خاتون کو ماں بننے سے روکنے کے لیے اس کے جسم میں زبردستی مانع حمل آلہ لگانے کا حکم دے دیا

عدالت نے خاتون کو ماں بننے سے روکنے کے لیے اس کے جسم میں زبردستی مانع حمل آلہ ...
عدالت نے خاتون کو ماں بننے سے روکنے کے لیے اس کے جسم میں زبردستی مانع حمل آلہ لگانے کا حکم دے دیا

  

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلیا میں عدالت نے ایک لڑکی کو ماں بننے سے روکنے کے لیے زبردستی اس کے جسم میں مانع حمل آلہ لگانے کا حکم دے دیا۔ دی مرر کے مطابق یہ لڑکی عمر کی 20کی دہائی میں ہے اور ذہنی عدم استحکام کا شکار ہونے کی وجہ سے اس میں سیکھنے سمجھنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ جس پر عدالت نے اسے ماں بننے سے روک دیا۔ لڑکی نے عدالت میں جج کے سامنے کہا کہ ”یہ میرا جسم ہے اور میری زندگی ہے۔ میں بچہ پیدا کرنا چاہتی ہوں یا نہیں یہ میری مرضی پر منحصر ہے۔“ لیکن کورٹ آف پروٹیکشن کی خاتون جج جسٹس گوینتھ نولز نے لڑکی کا موقف مسترد کرتے ہوئے اس کے جسم میں مانع حمل آلہ نصب کرنے کا حکم دے دیا۔

رپورٹ کے مطابق اس لڑکی نے پہلے بھی دو بچے گود لے رکھے تھے اور اپنے بچے کی ماں بھی بننے والی ہے اور جلد اس کے ہاں بچے کی پیدائش ہونے والی ہے۔ اس کے خلاف دی گئی درخواست میں کہا گیا کہ لڑکی کئی طرح کے ذہنی و جسمانی عارضوں میں مبتلا ہے اور وہ بچوں کی دیکھ بھال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ ڈاکٹروں نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ لڑکی طبی معائنہ کرانے اور مانع حمل گولیاں کھانے یا انجکشن لینے میں سنجیدہ نہیں رہتی اور اپوائنٹمنٹس پر نہیں پہنچتی چنانچہ اسے بچہ پیدا کرنے سے روکنے کے لیے اس کے جسم میں مانع حمل ڈیوائس لگانا ہی بہترآپشن ہے۔اس پر عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ڈیوائس لگانے کا حکم دے دیا۔ واضح رہے کہ عدالتی حکم کے تحت لڑکی کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -