علامہ اقبالؒ کے فلسفہ خودی کو عمران خان نے عملی تعبیر دی ، گستاخ رسول کی سزا پر زیرو ٹالرنس ہے:فردوس عاشق اعوان

 علامہ اقبالؒ کے فلسفہ خودی کو عمران خان نے عملی تعبیر دی ، گستاخ رسول کی سزا ...
 علامہ اقبالؒ کے فلسفہ خودی کو عمران خان نے عملی تعبیر دی ، گستاخ رسول کی سزا پر زیرو ٹالرنس ہے:فردوس عاشق اعوان

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نےکہاہےکہ21اپریل شاعر مشرق ،مفکر پاکستان اورخودی کادرس دینےوالےفلاسفر کےساتھ تجدیدعہدکادن ہے، پاکستان تحریک انصاف اقبالؒ کا ویژن اور مشن لے کر آگے بڑھ رہی ہے،وزیراعظم عمران خان اقبالؒ کے سچے اور پکے پیروکار اور ان کے فلسفے کو آگے بڑھانے کیلئے کوشاں ہیں،اقبالؒ نے نوجوانوں کیلئے جو انقلابی پیغام دیا، آج اس پیغام کو وزیراعظم عمران خان نوجوانوں کیلئے روزگار، تعلیم اور کوالٹی ہیومن ریسورس فراہم کرکے پایہ تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔

 میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ نیا پاکستان اقبالؒ کے فلسفہ، سوچ اور امنگوں کا ترجمان ہے،جو خواب اقبالؒ نے دیکھا تھا،پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس کی تعبیر کیلئے کوشش کر رہی ہے،علامہ اقبالؒ کے فلسفہ خودی کو عمران خان نے عملی تعبیر دی ہے، وزیراعظم عمران خان علامہ اقبالؒ کے ویژن اور مشن کے مطابق پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک میں شامل کرنے کے خواب کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔

معاون خصوصی نے کہاکہ پاکستان تحریک معاشرے کے تمام طبقات کیلئے احتساب اور انصاف کے یکساں معیار رائج کر رہی ہے،احتساب کے عمل میں کوئی اپنا پرایا نہیں، ہمارے جن وزیروں کی طرف انگلی اٹھی ہے انہوں نے بھی پہلے خود کو عدالتوں میں پیش کیا ہے، ان معاملات میں نیب کے تقاضے پورے کرنے کے حوالے سے نہ پہلے حکومت نے رخنہ ڈالا نہ اب ڈالے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان جماعت کے ہر فرد کو آزادانہ بولنے کا موقع دیتے ہیں،پارٹی کی پالیسی پر تنقید کرنا صرف پی ٹی آئی میں ہی ممکن ہے اور یہ حوصلہ بھی پی ٹی آئی کے قیادت کے پاس ہی ہے،باقی پارٹیوں میں آمریت ہے اور وہاں حق آزادی رائے کی اجازت نہیں،عمران خان سمجھتے ہیں کہ ناانصافی کسی کے ساتھ نہیں ہونی چاہیے،حکومتی طاقت کے ذریعے کوئی ریلیف لینے کی کوشش کرے گا تو عمران خان اس کے راستے میں چٹان جیسی رکاوٹ بن جائیں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہر مسلمان چاہے اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہے، شمع رسالت ﷺ کا پروانہ ہے،فتوے بانٹنا اسلامی فلاسفی کے خلاف ہے،اپوزیشن تنقید برائے تنقید نہ کرے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ متبادل پالیسی بھی دے،گستاخ رسول کی سزا پر زیرو ٹالرنس ہے اور کوئی بھی مسلمان گستاخ رسول کو برداشت نہیں کرسکتا،گستاخانہ عمل مغرب کی جانب سے ہوتاہے اور ہم آپس میں لڑ پڑتے ہیں، ہمیں آپس میں نہیں لڑنا بلکہ ایسے رویوں کےخلاف سیسہ پلائی دیوار بنناہے،سیاست میں برداشت بڑاامتحان ہے،سیاستدانوں میں عدم برداشت معاشرے کو بے راہ روی کی طرف لے جا رہا ہے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ( پی ڈی ایم) اپنی موت آپ مر چکی ہے،کس طرح ٹوٹ بٹوٹ کی کھیر بٹی،سب جانتے ہیں،اپوزیشن کو اپنی چونچ اور دُم نہیں مل رہی،حکومت کا اپوزیشن کے معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں،اس وقت حکومت کے سامنے کورونا،مہنگائی،بےروزگاری کا چیلنج ہے،اپوزیشن سےکوئی لڑائی نہیں ، اپوزیشن کو چاہیے کہ آگے بڑھ کر عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے میں حکومت کا ساتھ دے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -