پیٹرولیم سکینڈل کی مکمل تحقیقات۔۔ وقت کا لازمی تقاضا

پیٹرولیم سکینڈل کی مکمل تحقیقات۔۔ وقت کا لازمی تقاضا
پیٹرولیم سکینڈل کی مکمل تحقیقات۔۔ وقت کا لازمی تقاضا

  

قومی خزانے کو پہنچنے والے وسیع اور ہوش رُبا مالی نقصان کے باعث وزیراعظم کا اپنے معاونِ خصوصی برائے پٹرولیم اور سیکرٹری پٹرولیم کو  ان کے عہدوں سے برطرفی کا فیصلہ قابلِ تحسین ہے۔ قومی خزانے کو جو نقصان ہوا اس کا واحد سبب ذمہ دار افراد کی نااہلی اور بددیانتی ہے۔ یہ بد عنوانی اور بددیانتی  پٹرولیم ڈویژن کے تحت  15 کمپنیوں میں جاری بدعنوانیوں کا نتیجہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ نقصان زدگی ان کمپنیوں کی مالی کارکردگی رپورٹ میں پوشیدہ رہتی ہیں اور سامنے نہیں آ سکتی۔ یہ تمام نقصان  سیکرٹری پٹرولیم کے عہدہ تعیناتی کے دوران پہنچایا گیا ہے۔ان کمپنیوں کا فارنزک آڈت خصوصاً دو کمپنیوں PPL اور OGDCLکاآڈٹ  خوفناک نقصان کی نشان دہی کرے گا ۔

اہم معاملہ یہ ہے کہ اس قدر وسیع پیمانے پر مالی نقصانات کا اصل سبب کیا ہے۔ اس کا سیدھا سادہ سا جواب یہ ہے کہ یہ نقصانات بنیادی طور پر اس لیے واقع ہوئے کہ ان کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز (BODs)  میں کسی استحقاق اور شفافیت کی بنیاد پر نمائندگی نہیں دی گئی بلکہ ذاتی پسند اور نا پسند کی بنا پر تعیناتی کی گئی جو کہ صریحاً دوست نوازی اور اقربا پروری کی ایک بدترین مثال ہے۔ اسی طرح پی ڈی  (PD) کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرزپر تعیناتی کے لیے بھی بغیر میرٹ اور استحقاق کے من پسند افراد کی تعیناتی کے باعث ان کمپنیوں میں بھاری نقصانات کئے گئے۔ یہ تمام کمپنیاں اعلی تکنیکی میدان میں حاصل ضروری تجربے اور علم کے ساتھ اعلیٰ فنی پس منظر مہارت اور تربیت کی متقاضی ہیں۔ اس کے باوجود پٹرولیم سیکرٹری کے نامزد کردہ اور منظورِ نظر ماتحت افراد میں فنی تعلیم اور پس منظر نہ ہونے کے برابر ہے اور ان کی تعلیم تجربہ، قابلیت اور کارکردگی بوجوہ صفر کے برابر ہے۔

دوسرا اہم پہلو اور معاملہ  مالی فوائد کا آسان حصول ہے۔ عام شہری اس حقیقت سے مکمل طور پر لا علم رہتے ہیں کہ PD  کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہر ایک ڈائریکٹر کو تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار روپے سے چار لاکھ روپے تک ہر میٹنگ کے لیے ادا کئے جاتے ہیں۔ یہ رقم بلا امتیاز خواہ  بورڈ میٹنگ ہو یا سب کمیٹی کی میٹنگ ہو سب ڈائریکٹروں کو ادا کی جاتی ہے۔ فرض کریں کہ ہر کمپنی ایک ماہ میں ایک  بورڈ میٹنگ اور دو سب کمیٹی   میٹنگز رکھتی ہے تو سمجھ لیں کہ فی ماہ پٹرولیم ڈویژن کے آفیسرز سرکاری سرمائے میں سے لگ بھگ ایک کروڑ روپیہ اپنے ساتھ اپنے گھر لے کر جاتے ہیں۔ یہ رقم ان کی معمول کی تنخواہوں اور مراعات کے علاوہ ہے جو انہیں ملتی ہیں۔ عوامی ملکیت میں PD  کمپنیاں اس سب خرچ کے عوض کیا حاصل کر پاتی ہیں۔ کمپنیوں کے کاروبار میں غیر ضروری مداخلت اور رکاوٹ، نااہلی اور بے انتہا نقصانات!  پٹرولیم ڈویژن کے زیرِ انتظام و انصرام اور زیرِ کنٹرول کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر پٹرولیم ڈویژن کے افسران کی تعیناتی کرنے میں ایک بنیادی نقص اور خرابی  " مفادات کا ٹکراؤ“ بھی ہے۔ مثال کے طور پر سیکرٹری پٹرولیم اپنی اس حیثیت کے لحاظ سے PARCOکا کنٹرولر اور منتظم یعنی Regulator بھی ہے اور اس کے ساتھ وہ  PARCO  کا  چیئر مین بھی ہے۔ صورتِ حال کی وضاحت کے لیے ایک مثال پر ذرا غور کریں۔

پٹرولیم کے موجودہ بحران کے دوران پٹرولیم ڈویژن نے تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں  بشمول PARCO  کو  صورتِ حال کا ذمہ دار ٹھہرایا اور ان پر جرمانے بھی عائد کیے۔ اس گنجلک بندوبست میں دیکھیں کہ جناب سیکرٹری پٹرولیم نے ان کمپنیوں سمیت نا اہلی کے باعث ان پر جرمانے عائد کر دیے جس کے کہ وہ  خود  چئیر مین ہیں۔ یعنی کہ وہ خود ہی خود کو جرمانہ کر رہے ہیں۔ یہ  Conflict of Interest  کی ایک واضح مثال ہے جو آپ کو اور کہیں نطر نہیں آئے گی۔ یہ طے شدہ بات ہے کہ صورتِ حال کی درستگی کے لیے محض معاونِ خصوصی برائے پٹرولیم اور سیکرٹری پٹرولیم کی ان کے عہدوں سے برخواستگی اور برطرفی کافی نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ پٹرولیم ڈویژن کی زمینی اور موجودہ کارکردگی اور کارگزاری کا از سرِ نو مکمل جائزہ لیا جائے۔ پہلے اور فوری مرحلے کے طور پر پٹرولیم ڈویژن کے تمام افسروں کو جو  پٹرولیم ڈویژن کی کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر تعینات ہیں ان کی ذمہ داریوں سے علیحدہ کر دیا جائے۔ اور ان کی جگہ پرائیوٹ سیکٹر میں سے  Technocratsکو تعینات کیا جائے۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ وہ اپنے کچھ افراد اس میں تعینات رکھیں تو ایسے افسران وزارتِ پٹرولیم کی بجائے دوسری وزارتوں سے لیے جائیں۔ Conflict of Interest  سے بچنے کے لیے یہ اقدام انتہائی ضروری ہے۔

سیکرٹری پٹرولیم کی نااہلی اور ناقص کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے عہدِ تعیناتی میں تمام معاملات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

1۔ان کی تعیناتی کے آغاز سے لے کر اختتام تک کے عرصے میں گردشی قرضے کی کیا صورتِ حال رہی۔

2۔اس عرصے میں یعنی  آغاز سے لے کر اختتام تک UFG ٰ یعنی Unaccounted For Gas   کے نقصانات کی کیا صورتِ حال تھی۔

3۔پروڈکشن آف آئل کی یومیہ پیداوار کی کیا صورت حال رہی۔

4۔نئی Leases   اور Bidding  کی صورتِ حال اور کامیابی کا تناسب۔

5۔نئی دریافت Discoveries  اور ان کی مزید ترقی۔

6۔SSGCL   اور SNGPL  کی مالی پوزیشن اور استحکام۔

مزید یہ کہ ریفائنریز کی استعداد  بڑھانے  اور بہتری کے لیے بالکل کوئی کام نہیں کیا گیا۔ LNG Terminal کے سلسلے میں کوئی کام نہیں کیا گیا۔ ضروری پٹرولیم سٹور یج کے لیے کوئی کام بھی نہیں کیا گیا۔ PD   کمپنیوں کے مستقل چیف ایگزیکٹو کی تعیناتی کے سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ مثال کے طور پر PPL  میں جون 2018  سے  لے کر اب تک کوئی مستقل  منیجنگ ڈائریکٹر نہیں تعینات کیا گیا اور عارضی MD  کے ذریعے کام چلایا جا رہا ہے جب کہ  SECP  رولز کے مطابق ایسی اسامی تین ماہ سے زیادہ تک خالی نہیں رکھی جا سکتی  جب کہ یہ اسامی تین سال سے خالی ہے۔

اسی طرح معاونِ خصوصی برائے پٹرولیم سے بھی یہ پوچھا جانا ضروری ہے کہ جب پٹرولیم بحران کی ابتدا ہی میں بحران کے خد و خال نمایاں ہو چکے تھے تو وہ کوئی اقدام کرنے میں ناکام کیوں رہے جب کہ سب کچھ ان کی موجودگی میں ہو رہا تھا۔ کیا یہ ان کے عہدے کی بنیادی ذمہ داری نہ تھی کہ وہ مناسب اقدامات کے لیے صورتِ حال کو وزیرِ اعظم کے علم میں لاتے اور ان سے مدد کی درخواست کرتے۔ وہ اس میں بھی ناکام رہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ سیکرٹری پٹرولیم کی نا اہلی کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت کے مرتکب ہوئے اور انہیں اپنی غفلت اور ناکامی کو قبول کرنا چاہیے۔

مزید :

رائے -کالم -