ایران اور اسرائیل کے باہمی حملے

        ایران اور اسرائیل کے باہمی حملے
        ایران اور اسرائیل کے باہمی حملے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  ملٹری ہسٹری کا مطالعہ ایک نہایت دلچسپ اور حیرت انگیز موضوع ہے۔دلچسپ اس لئے کہ اس میں بنی نوع انسان کی تمام جبلّتوں کا اظہار ملتا ہے،ناقابل ِ یقین باتوں اور حقیقتوں کی وقوع پذیری پڑھنے کو ملتی ہے اور بعض اوقات انہیں دیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔…… اور حیرت انگیز اس لئے کہ اس میں بظاہر عالمگیر سچائیوں کی کذب بیانیاں قدم قدم پر قاری کا دامن تھامتی ہیں۔دنیا کے تمام مصلحین، ولی اولیاؤں،رسولوں اور پیغمبروں کی سوانح میں اگر جنگ و جدال کا عنصر بھی شامل کر لیا جائے تو حیرت مٹ جاتی ہے اور حقیقت سامنے آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔……اِن باتوں کو جاننے کے لئے تاریخ ِ عالم میں جنگ کی داستانیں ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ میرے نزدیک خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں جنگ کا عنصر اگر مشیت ِ خداوندی تھی تو جنگ کو بھی ایک عطائے ایزدی سمجھا لینا ناگزیر ہے،لیکن جس طرح خدا کی خدائی انسانی عقل و شعور سے باہر اور ماوراء ہے اِسی طرح جنگ کی عطائے ایزدی بھی خود خدا نے انسانی شعور کی حدود سے ماوراء یا محدود کر دی ہے۔

ہم ماضی ئ بعید و قریب کی طرف نہیں جاتے،زمانہ ئ حال کی بات کرتے ہیں۔…… ایران اور اسرائیل کی کشیدگی کوئی نئی سچائی نہیں،پرانی حقیقت ہے۔گزشتہ صدی میں عرب اور اسرائیل کے درمیان جو چار جنگیں ہوئیں وہ زیادہ دور کی داستانیں نہیں۔ 1948)ء، 1956ء، 1969ء،1973ء(لیکن ان جنگوں میں ایران کا ذکر نہیں ملتا۔ہم اس کی وجوہات میں نہیں جاتے۔ عالمی میڈیا وہی کچھ بتاتا ہے جو فریقین ِ جنگ بتانا چاہتے ہیں۔مورخ یا کالم نگار خواہ مشرق و مغرب کا ہو یا شمال و جنوب کا، وہ وہی کچھ کہتا یا لکھتا ہے جو اُس کو بتایا یا پڑھایا جاتا ہے۔

ہم یہ تو جانتے ہیں کہ فریقینِ جنگ میں سے کوئی فریق بھی اصل حقیقت نہیں بتاتا۔اسرائیل نے ایران پر حملہ کیوں کیا،اس کی حقیقت اُس وقت تک چھپی رہے گی جب تک اسرائیل کے آرکائیوز میں سے کوئی یہ راز باہر نہیں نکالتا کہ جنگ کا اصل سبب کیا تھا۔ جو سبب دنیا کو بتایا جاتا ہے وہ اوریجنل نہیں ہوتا۔ اوریجنل بات صرف متعلقہ فریق ہی جانتا ہے۔ہم سب یہ بات تو تسلیم کرتے ہیں کہ اسرائیل،امریکہ کی آؤٹ پوسٹ ہے بلکہ سارا مغربی یورپ، امریکہ کی آؤٹ پوسٹ ہے۔امریکہ چونکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے اِس لئے وہ دنیا کے دوسرے براعظموں سے بھی یہ حقیقت اُگلوانا چاہتا ہے کہ وہ واقعی دنیا کی واحد سپریم قوت ہے۔یورپ مان گیا لیکن روس،آدھا یورپ ہے، وہ نہیں مانتا۔یوکرین اور روس کی جنگ کا اصل سبب یہی نکتہ ہے۔آسٹریلیا، جنوبی امریکہ اور افریقہ سب کے سب امریکہ کے بے دام غلام ہیں۔ باقی صرف ایشیاء بچتا ہے۔وہ بھی آدھا امریکی عالمی قوت کے زیر اثر ہے۔لے دے کے صرف چین ایک ایسی نئی پاور بن کر ابھرا ہے جو امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ایشیاء کی دوسری ملٹری قوتیں مثلاً جاپان اور انڈیا بھی امریکہ کے ساتھ ہیں۔لے دے کے صرف مشرق وسطیٰ بچا ہوا تھا جس میں امریکہ نے اسرائیل کو لا کر بٹھا دیا تھا۔

مراکش سے پاکستان تک نگاہ دوڑائیں کوئی ایسا ملک آپ کو نظر نہیں آئے گا جو امریکی غلبے سے سرتابی کر سکے۔اگر کوئی کرنے کا سوچے گا بھی تو اسرائیل اس کے لئے ”کافی“ ہو گا۔…… یہی وجہ تھی کہ اسرائیل نے ایران کے سفارتخانے پر (دمشق میں) جو حملہ کیا اس کی ”پیشگی اطلاع“ امریکہ کو نہ دی۔

دنیا بدلتی رہتی ہے۔اس کی عالمی قوتیں بھی اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں۔کوئی بھی قوم سدا عالمی حکمرانی کے خواب نہیں دیکھ سکتی۔اسرائیل کو ایران کے ترکش کے بارے میں جو کچھ معلوم تھا، اس کی بناء پر اُس نے سوچا کہ دمشق میں ایرانی مفادات کو نقصان پہنچایا جائے اور اس کے جرنیلوں کو ہلاک کر دیا جائے۔

امریکی اور اسرائیلی ٹیکنالوجی پہلے بھی ایرانی جرنیلوں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ہم اس کی تفصیل میں نہیں جائیں گے۔قارئین کو معلوم ہے کہ کن کن ایرانی جرنیلوں کو امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس اور وار ٹیکنالوجی نے موت کے گھاٹ اتار دیا…… اور ایران منہ دیکھتا رہ گیا!

اسرائیل نے یکم اپریل کو یہی سوچا ہو گا کہ ایران پہلے کی طرح ”چپ“ کر جائے گا۔اُسے یہ معلوم نہ تھا کہ کوئی قوم ہمیشہ چپ کا روزہ نہیں رکھ سکتی۔

صدر بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیکہ سلیوان (Jaka Sallivan) ڈپٹی میئر جان فائز (Jon Finer) اور بہت سے دوسرے مشیروں نے بائیڈن کو خبردار کر دیا تھا کہ ایران اب وہ پہلے والا ایران نہیں رہا۔وہ جوہری قوت کے دہانے تک پہنچ گیا ہے۔چین اُس کا سب سے بڑا اتحادی پارٹنر ہے، روس نے ایران سے ڈرونوں کی کھیپ منگوا کر یوکرین کو چھٹی کا دودھ یاد دِلا دیا ہے۔اِس لئے کوئی امریکی وزیر خارجہ یا دفاع بھاگ کر یوروشلم نہیں پہنچا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر300 ڈرون اور میزائل پھینک دیئے ہیں تو یہ حقیقت ِ ثابتہ ایک بالکل نئی افتاد ہے جو امریکہ اور اس کے مفادات پر پڑنے والی ہے۔اِسی سبب بائیڈن نے مفاہمت (یا زیادہ سے زیادہ نرم لفظ استعمال کرنا ہو تو ’مصالحت‘) کا راستہ اپنایا۔

امریکہ نہیں چاہتا کہ تیسری عالمی جنگ مشرقِ وسطیٰ میں لڑی جائے۔اس کی وجوہات چند در چند ہیں۔اسرائیل نے گزشتہ جمعہ کے روز اصفہان پر جو حملہ کیا ہے اس کو بھی وہ معانی نہیں پہنائے گئے جو دو عشرے قبل کے ایران کے حملے کو پہنائے جا سکتے تھے۔

ایران،امریکہ کے مقابلے میں ایک نہایت چھوٹی ملٹری پاور ہے۔اُس نے اب تک کوئی عالمی جنگ نہیں دیکھی۔اس کا وار سٹیمنا بھی ابھی کسی آزمائش سے نہیں گزرا لیکن اگر وہ جوہری بم بنانے کے قریب پہنچ گیا ہے تو اس کی خبر شاید اسرائیل کو ہو یا نہ ہو، امریکہ کو ضرور ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ، ایران کی دو باتوں سے خائف ہے۔…… ایک یہ کہ ایران میں جذبہئ شہادت کا عروج آج بھی اوجِ کمال پر ہے۔ اور دوسرے اگر واقعی تہران نے جوہری بم بنا لیا ہے تو اس کو اسرائیل پر گرانے سے پہلے وہ بالکل نہیں سوچے گا۔وہ حضرت امام حسینؓ کے نقش ِ قدم پر چل کر یہ ثابت کرنا چاہے گا کہ اسلام کو اگر زندہ کرنا ہے  تو ایک اور ”کربلا“ کا اہتمام کرنا ہو گا۔……دنیا اس کربلا کے لئے تیار ہو نہ ہو، ایران اِس سے دریغ نہیں کرے گا۔آج تک دنیا میں آٹھ ممالک کے پاس جوہری قوت ہے (امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین،شمالی کوریا، انڈیا اور پاکستان) لیکن ان آٹھوں اقوام (یا ممالک) کا فلسفہ ئ  جنگ وہ نہیں کہ جو ایرانی قوم کا ہے۔

فی الحال ایران خاموش ہے۔اس نے اصفہان پر اسرائیلی حملے کا کوئی غوغا نہیں مچایا لیکن تہران کے ترکش میں جو تیر ہیں،ان کی آزمائش ابھی باقی ہے۔ خلیج فارس،آبنائے ہرمز، بحیرہئ روم اور بحر ہند کے سواحل پر جو اقوام بس رہی ہیں ان کو خبردار رہنا چاہئے۔

ہم پاکستانی اپنی ”دنیا“ میں مست ہیں۔ہماری یہ دنیا ایک عارضی دنیا ہے،ایک ایسی دنیا ہے جس کو عالمی قبولیت اور پذیرائی حاصل نہیں۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہم ایک خوابِ خرگوش کا شکار ہیں۔ …… جوہری بموں کی تعداد ہمارے پاس 100 سے زیادہ ہے۔لیکن دنیا کو تہہ و بالا کرنے کے لئے دو چار بم ہی کافی تھے۔ہم فی الحال اِن بموں کے سہارے ”جی“ رہے ہیں۔لیکن یہ جینا ایک عبوری مدت کا جینا ہے۔اِس سے زیادہ اگر کوئی لفظ لکھوں گا تو اُس کے معانی کسی اور طرف نکل جائیں گے۔اِس لئے اس دُعا کے ساتھ کالم کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ کریم پاکستان کو ہنستا بستا رکھے اور ہمیں آنے والی نسلوں کی پیش بندی کا سلیقہ اور طریقہ سکھلائے!

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -