شاہد حامد کی ایل ڈی اے سے رخصتی بڑا دھچکا تھا، ہم نے لاہور کا نقشہ ہی بدل دیا تھا، وہ پھر منظر عام پر آئے وزیر دفاع اورپنجاب کے گورنر کی حیثیت سے

شاہد حامد کی ایل ڈی اے سے رخصتی بڑا دھچکا تھا، ہم نے لاہور کا نقشہ ہی بدل دیا ...
شاہد حامد کی ایل ڈی اے سے رخصتی بڑا دھچکا تھا، ہم نے لاہور کا نقشہ ہی بدل دیا تھا، وہ پھر منظر عام پر آئے وزیر دفاع اورپنجاب کے گورنر کی حیثیت سے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:79
ایک دن جب میں اپنے زیر تعمیر مکان کو دیکھنے کے لیے پہنچا تو چوکیدار نے انتہائی فکرمندی سے مجھے بتایا کہ آج  ایل ڈی اے کے کچھ  لوگ آئے تھے اور یہاں سے وہ ہمارا فولادی سریا اُٹھوا کر لے گئے ہیں،جو ابھی کچھ ہی دیر پہلے وہاں پہنچا تھا۔ کچھ تحقیقات کرنے پر علم ہوا کہ یہ کام ایک مجسٹریٹ صاحب نے کیا تھا جو میرا ہی ایک ماتحت تھا۔ مجھے یہ جان کر شدید رنج ہوا اور بہت غصہ بھی آیا۔ تاہم میں نے   ایک دوسرے مجسٹریٹ کے ہاتھ اسے پیغام بھیجا کہ وہ آج شام سے پہلے یہ سریا واپس وہیں پہنچا دے جہاں سے اٹھوایا تھا۔ اور اس کو اس بات کی تاکید بھی کی کہ اس بات کا کسی کو علم نہیں ہونا چاہئے کہ یہ سریا میری ملکیت ہے۔ بہر حال اس کے ذریعے یہ پیغام متعلقہ شخص کو پہنچ گیا اور شام سے پہلے یہ کام ہو گیا۔ میں نے اپنے وعدے کا پاس رکھا اور کسی کو اس بات کی خبر نہ ہونے دی یہاں تک کہ میں ایل ڈی اے میں ملازمت مکمل کرکے چلا نہیں گیا۔
جولائی 1977 کو وزیر اعظم بھٹو کی حکومت ختم کر دی گئی اور جنرل ضیاء الحق مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن کر اس کی جگہ حاکم وقت بن کر بیٹھ گئے۔  شاہد حامد صاحب کا تقرر چونکہ بھٹو نے ایل ڈی اے کے چیئرمین کی حیثیت سے کیا تھا اس لیے سب سے زیادہ خطرہ ان ہی کی ملازمت کو تھا۔ اور پھر ایسا  ہی ہوا، چند ہفتے بعد ہی ان کی جگہ میجر جنرل ریٹائرڈ ایم ایچ  انصاری آگئے۔ شاہد حامد صاحب کی ایل ڈی اے سے رخصتی ادارے کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھا،ان کے ساتھ شروع کئے گئے منصوبے بند ہوجانیکا خطرہ تھا۔ ہم نے ان کی معیت میں لاہور کا  نقشہ ہی بدل دیا تھا۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انھوں نے ہم سب کو آزادی سے کام کرنے کے لیے ایک ساز گار ماحول مہیا کیا تھا۔ کئی برس بعد وہ ایک بار پھر منظر عام پر آئے پہلے وزیر دفاع اور پھر پنجاب کے گورنر کی حیثیت سے۔ ہمارے لیے ابھی تک ان سے ملنا ایک پُرمسرت موقع ہوتا ہے کیونکہ وہ اب بھی اسی خلوص اور خندہ پیشانی کے ساتھ ملتے ہیں جو اُن کی فطرتِ حَسنہ ہے۔
جنرل انصاری ایک بہت ہی سخت گیر اور سنجیدہ انسان تھے۔ وہ ایک دیانت دار افسر اور سادگی پسند انسان تھے۔حالانکہ ان کو ان کے عہدے کے مطابق شاہ جمال کالونی میں ڈائریکڑ جنرل کے لیے مخصوص ایک عالی شان رہائش الاٹ ہوئی تھی لیکن وہ لاہور کینٹ میں 10 مرلے کے کرائے کے ایک مکان میں رہتے تھے۔ کچھ مہینوں بعد میں نے اپنے تجسس کی خاطر ان سے پوچھا کہ وہ اپنے لیے مخصوص سرکاری رہائش گاہ میں کیوں منتقل نہیں ہو جاتے تو انھوں نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ جب بھی مجھے میرے ضمیر کے خلاف کوئی کام کرنے کو کہا جائے تو یہ سرکاری گھر میرے لیے رکاوٹ بنے۔ اور پھر انھوں نے ایسا ہی کیا۔ جنرل جیلانی کے ساتھ ان کے کچھ اختلافات پیدا ہوگئے تھے جو اس وقت پنجاب کے گورنر تھے۔ انھوں نے استعفیٰ دیا اور چپ چاپ اپنے اسی 10 مرلے کے گھر میں جا کر رہنے لگے۔ میرا بھی ان سے انتظامی امور کے کچھ معاملات پر اختلاف تھا لیکن ان کی اصول پسندی اور دیانت داری ناقابل یقین حد تک بے مثال تھی۔ انھوں نے تو فوج کی طرف سے پلاٹ اور زرعی زمین لینے سے بھی انکار کر دیا تھا جو فوج کے اعلیٰ افسروں کو ان کی ریٹائرمنٹ کے وقت ان کا حق سمجھ کر دی جاتی تھی۔ بلا شبہ وہ ہمارے بدعنوان معاشرے میں روشنی کا ایک مینار اور عظمت و دیانت کی ایک اعلیٰ مثال تھے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -