اپنے عمل، سوچ اور گفتگو کے ذریعے دوسروں کے لیے مثال قائم کیجئے”ہم ہر قیمت پر چلیں گے“ پر مبنی فلسفے اور نظریئے کو آزمائیے اور اپنائیے

اپنے عمل، سوچ اور گفتگو کے ذریعے دوسروں کے لیے مثال قائم کیجئے”ہم ہر قیمت پر ...
اپنے عمل، سوچ اور گفتگو کے ذریعے دوسروں کے لیے مثال قائم کیجئے”ہم ہر قیمت پر چلیں گے“ پر مبنی فلسفے اور نظریئے کو آزمائیے اور اپنائیے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:66
7: اپنے عمل، سوچ اور گفتگو کے ذریعے دوسروں کے لیے مثال قائم کیجئے:
ایک مؤثر رہنما بننے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی سوچ اور گفتگو پر مبنی صحیح اور اچھی مثال قائم کریں۔ ایک کمپنی میں آفس منیجرکے طور پر 30 سال مسلسل کام کرنے والا ایک شخص میرا اچھا دوست بن گیا۔ یہ شخص 30 سال ملازمت کے بعد ریٹارئر ہوا۔ چند ہی ماہ پہلے فلوریڈا میں میرے اور اس کے درمیان ایک دلچسپ گفتگو ہوئی۔
اس نے مجھے بتایا کہ جتنے سال وہ اس کمپنی میں رہا، بے شمار منیجر (Managers) آئے اور چلے گئے۔
اس ضمن میں اس نے یوں تبصرہ کیا ”اس سلسلے میں دلچسپ بات یہ تھی کہ ہر منیجر کے ماتحت اور معاون عملے نے بہت جلد اپنے نئے منیجر کے مطلوبہ روئیے کو اپنایا۔ ماتحت اور معاون عملہ، ایک ننھے بچے کی مانند فوراً ہی یہ محسوس کر لیتا ہے کہ ان کا افسر کس بات سے خوش ہوتا ہے اور کس بات سے ناخوش ہوتا ہے، اور پھر وہ عملہ اس طریقے کے مطابق اپنا رویہ اپنا تا ہے۔“
میں نے اس سے اپنی اس بات کی وضاحت کرنے کے لیے کہا: 
اس نے جواب دیا: ”بالکل یہی بات ہے۔ اگر ایک منیجر دفتر دیر سے آنا شروع کر دیتا ہے تو پھر بہت جلد اس کے شعبے کے اہم افراد دیر سے آنے کی عادت اپنا لیتے ہیں۔ اگر ان کا منیجر یا وہ کوئی اور بے ہودہ گوئی اور خرافات بولنا شروع کر دیتا ہے تو پھر جلد ہی اس کا ماتحت اور معاون عملہ بھی غلیظ اور بے ہودہ زبان بولنا شروع کر دیتا ہے۔ اگر یہ منیجرگاہکوں کی توہین کرتا ہے تو پھر ماتحت اور معاون عملہ بھی جلد ہی گاہکوں کے ساتھ تحقیر آمیز انداز میں پیش آنا شروع کر دیتا ہے۔“
اس نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھا: ”میں نے اس ادارے کے ساتھ اپنی طویل ملازمت کے دوران صرف ایک چیز سیکھی اور وہ یہ ہے ماتحت اور معاون عملہ اپنے افسر کی بات اور حکم کو نظر انداز کر دیتا ہے لیکن اپنے افسر کے ہر فعل کو من و عن اپناتا ہے۔“
ایک مؤثر اور مضبوط رہنما اور سربراہ بننے کے ضمن میں یہ سوال اکثر سامنے آتا ہے: ”کیا میں ایسی مثال قائم کر رہا ہوں کہ جسے دوسرے لوگ اپنا سکیں؟ کیا میرا کردار اور رویہ ایسا ہے کہ لوگ اسے اپنے لیے مثال اورنمونہ سمجھیں۔“
زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل کر نے کے لیے مندرجہ ذیل اصولوں پر زیادہ سے زیادہ عمل کیجئے۔
1:آپ کی کامیابی کا انحصار اس امر پر ہے کہ آپ دوسرے لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے کے لیے کس حد تک آمادہ اور تیار کرتے ہیں۔
2:حضرت موسیٰؑ نے جو سبق اپنے سسر سے سیکھا، اسے آپ بھی یاد رکھییئ: اپنے ماتحت اور معاون کو ذمہ داریاں تفویض اور تقسیم کرتے ہی چلے جائیں۔
3:یاد رکھیں، آپ برتن ساز ہیں اور آپ کا ماتحت اور معاون عملہ، چکنی مٹی (مٹی) ہے۔
4:”ہم ہر قیمت پر چلیں گے“ پر مبنی فلسفے اور نظریئے کو آزمائیے اور اپنائیے۔ اس طریقے کے ذریعے آپ زندگی کے تمام معاملات میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔
5:یہ یقین کر لیجئے کہ آپ اس قسم کی صحیح اور اچھی مثال قائم کریں جس کو دوسرے لوگ اپنالیں۔ ہم بھی کسی بھی دیگر طریقے کی نسبت اپنی مثال کے ذریعے لوگوں کو تربیت مہیا کرتے ہیں۔
6: مندرجہ ذیل اصولوں اور طرائق پر عمل کیجئے اور ایک بہت ہی زیادہ موثر اور بہترین راہنما و سربراہ بن جایئے۔
 اپنے ماتحت اور معاون عملے کی بخوبی دیکھ بھال اور نگہداشت کیجئے۔
 اپنے عملے میں احساس برتری اور احساس تفاخر پیدا کیجئے۔
 ہر حال اور ہر قیمت پر جرأت و ہمت اور حوصلے کا مظاہرہ کیجئے۔
 اپنی غلطی کا اعتراف کر لیجئے۔
اپنے ماتحت اور معاون عملے سے رائے اور مشورہ طلب کیجئے۔
اپنے فعل، اپنی سوچ اور اپنی گفتگو میں پیشہ وارانہ انداز اپنائیے۔
 اس قسم کی اچھی اور بہترین مثال قائم کیجئے جسے لوگ اپنا سکیں۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -