میٹرک کے امتحانات کے نتائج

میٹرک کے امتحانات کے نتائج

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

فیڈرل بورڈ کے بعد پنجاب بھر کے تمام تعلیمی بورڈز نے گزشتہ دنوں میٹرک سالانہ امتحان 2013ءکے نتائج کا اعلان کردیا،جس کے مطابق ملتان بورڈ کا نتیجہ 66.51 فیصد، ڈیرہ غازی خان بورڈ کا نتیجہ 66.45فیصد، بہاولپور بورڈ کا نتیجہ 64.42فیصد ،ساہیوال61فیصد، لاہور اور سرگودھا بورڈ کانتیجہ 66فیصد جبکہ راولپنڈی بورڈ کا نتیجہ 60فیصد رہا۔ان رزلٹس میں تمام کامیاب امیدواران کو مبارکباد اور روشن مستقبل کے لئے نیک تمناﺅں کا اظہار، قارئین امسال بھی میٹرک کے امتحان میں لاکھوں سٹوڈنٹس شامل ہوئے،جن میں بعض کے قدموں کو کامیابی نے چوما اور بعض کے مقدر میں ناکامی ٹھہری۔ اس موقع پر کامیاب ہونے والے سٹوڈنٹس سے گزارش ہے کہ اور آگے بڑھئے یہ منزل نہیں ہے، بلکہ منزل کو جاتا راستہ ہے۔بس اس پگڈنڈی پر اپنے گھوڑے سرپٹ دوڑاتے رہے۔انشاءاللہ ایک دن منزل آپ کے قدموں میں ہوگی اور ناکام سٹوڈنٹس سے گزار ش ہے کہ وہ حوصلہ مت ہاریں، بلکہ اپنے گریبان میں جھانکیں کہ آخر پورا سال ان سے کیا غلطیاں سرزد ہوئیں اور کن کوتاہیوں کی بناءپر انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ان تمام کوتاہیوں کو پس پردہ ڈال کر نئے عزم اور ہمت کے ساتھ آگے نکلیں اب کے ہار جیت آپ کی ہوگی۔
یہاں پر ایک واقعہ یاد آ رہا ہے،جس میں ایک بادشاہ شکست کھا کر ایک غار کے اندر پناہ لے لیتا ہے، حسرت ویاس کے عالم میں کیا دیکھتا ہے کہ ایک مکڑا غار کی چھت پر چڑھنے کی کوشش میں بار بار نیچے گر جاتا ہے۔بادشاہ انہماک کے ساتھ یہ تماشا دیکھتا رہا اور بلآخر نویں بار مکڑاجب غار کی چھت پر چڑھنے میں کامیاب ہوگیا تو بادشاہ کی سوچ نے ایک نیا جنم لیا کہ وہ پہلی شکست کے بعد ہی کیوں غار میں گل سڑ رہا ہے۔وہ باہر نکلا اپنے بکھرے فوجیوں کو اکٹھا کیا اور اس عزم کے ساتھ چڑھ دوڑا کہ دشمن کو تہس نہس کرکے رکھ دیا تو بادشاہ کی سوچ کے مصداق ناکام ہونے والے سٹوڈنٹس سے گزارش ہے کہ وہ پہلی یا دوسری ناکامی پر اپنے سروں میں مٹی ڈالنے کی بجائے عزم صمیم کے ساتھ اٹھیں، نئے جوش و جذبے اور ولولے کے ساتھ دل لگا کر محنت کریں، انشاءاللہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی، کیونکہ کامیاب سٹوڈنٹس کو سرخاب کے پر نہیں لگے ہوتے۔بس فرق صرف اتنا ہے کہ انہوں ںے سال بھر محنت کی، جس کا صلہ آج انہیں مل چکا ہے:
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

حیران نتائج میں بعض حیران کن نتائج بھی سانمے آئے،جنہیں دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا کہ یہ قوم تعلیم کی راہ پر نہ صرف چل نکلی ہے ، بلکہ مستقبل میں یہ لوگ مشعل راہ ہوں گے۔مثال کے طور پر میٹرک کے امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے اکثر بچوں کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے۔لاہور بورڈ میں آرٹس گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ سونیا نصیر کے والد ٹریکٹر مکینک ہیں، جبکہ آرٹس گروپ بوائزمیں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے حافظ محمد ہارون رشید کے والد پلمبر کا کام کرتے ہیں۔ملتان بورڈ میں پوزیشن حاصل کرنے والے ہونہار طالب علم کے والد پکوڑے سموسے بیچتے ہیں اور سب سے زیادہ داد خان پور جنوبی کے رہائشی ایاز احمد کو جو کہ گھر والوں کے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے سکول ٹائم کے بعد رکشا چلاتا ہے،جس نے جنرل گروپ میں 882نمبر حاصل کرکے ڈیرہ غازی خان بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ایاز احمد کے بقول وہ غربت کے باعث شاید اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔بشرط دیگر میاں محمد شہبازشریف پڑھائی کے سلسلے میں ان کو مدد کریں تو اس سلسلہ میں ہم ایاز احمد اور دیگر غریب طلبہ کو بتاتے جائیں کہ آپ لوگ نہ صرف صوبے کی کریم ہیں، بلکہ خادم اعلیٰ کی آنکھ کا تارا ہیں۔پنجاب حکومت نہ صرف آپ لوگوں پر تعلیم کے دروازے کھول دے گی، بلکہ آپ کو پورا پورا پروٹوکول دیا جائے گا۔اس سلسلے میں تعلیم کی اشاعت کے لئے پنجاب حکومت دن رات کوشاں ہے۔
بہرحال آخر میں ایک نہایت اہم نقطہ کی جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جناب خادم اعلیٰ ہمارا پیپرچیکنگ کا نظام انتہائی ناقص ہے، جس کا خمیازہ کئی سٹوڈنٹس بھگت رہے ہیں۔راقم کو کئی ایسے سٹوڈنٹس ملے،جن کے نمبر90فیصد سے زیادہ تھے، لیکن وہ Rechekingکی درخواستیں لے کر متعلقہ بورڈ کے چکر لگا کر ذلیل و خوار ہو رہے تھے، لیکن سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ بورڈ پیپر کوری چیک کرنے کی بجائے Recountکرتا ہے،جس سے سٹوڈنٹس کو سوائے بھاری بھرکم فیسیں ادا کرنے کے سوا کچھ خاص فائدہ نہیں ہوتا۔جناب خادم اعلیٰ اس کالے قانون کو ختم کیا جائے، تاکہ سٹوڈنٹس کی Percentageپر گہرا اثر پڑتا ہے،جو مستقبل میں ان کے لئے زہر قاتل ثابت ہوتا ہے، ایسے اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔امید ہے کہ تعلیمی دوست حکومت اس مسئلے پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے گی۔یہاں پر ایک اور نقطہ قابل غور ہے کہ ان تمام بورڈز کے پوزیشن ہولڈرز سٹوڈنٹس کا تعلق پرائیویٹ سکولز سے ہے،جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ والدین عموماً پرائیویٹ سکولز کو ترجیح دیتے ہیں، جس کی تمام تر وجہ سرکاری سکولز کے اساتذہ کی نااہلی ہے۔ان اداروں میں تعلیم جس حد تک انحطاط کا شکار ہے، خدا کی پناہ، سرکاری سکولز کے اساتذہ پر انتہائی سخت چیک اینڈ بیلنس کا نظام نافذ کیا جائے یا پھر ان اداروں کی نجکاری کردی جائے، جس سے یقینا ہمارے تعلیمی نظام کو بھرپور تقویت ملے گی۔امید ہے کہ خادم اعلیٰ تعلیمی نظام میں ضرور ایمرجنسی نافذ کریں گے، کیونکہ دنیا میں باعزت مقام حاصل کرنے کے لئے ہمارے پاس یہی واحد راستہ ہے۔آخر میں اس دعا کے ساتھ اجازت کہ اللہ رب العزت کامیاب ہونے والے تمام سٹوڈنٹس کا مستقبل روشن بنائے اور ہمارے نظام تعلیم کو مزید تقویت عطا فرمائے۔آمین  ٭

مزید :

کالم -