استحصال

استحصال
استحصال

  



استحصال ہے چہار سو استحصال .... کوئی پُرسان حال نہیں، کوئی شنوائی نہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بدعنوانی کا کارواں خواص سے عوام کی جانب سفر طے کرتا ہے، جب بالادست اشرافیہ اس غلاظت میں بُری طرح لتھڑی ہوئی ہے تو عوام الناس میں بھی ہمت پیدا ہوئی کہ وہ اپنے جیسوں کا استحصال کر سکیں۔2011ءکے اوائل میں جب ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ نے اِس بات کو طشت ازبام کیا کہ پاکستان میں ہر سال تین ٹریلین بدعنوانی کی نذر ہو رہے ہیں تو پیپلزپارٹی کی حکومت نے وہ ہا ہا کار مچائی کہ الامان الحفیظ لیکن اس حقیقت کو جب آنجہانی حکومت کے مقرر کردہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین ایڈمرل(ر) فصیح بخاری نے خود تسلیم کیا تو حکومتی زعماءکے پاس اِس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کے حامی کچھ تجزیہ کار یہ دور کی کوڑی لائے کہ جب ملک کا کل بجٹ 3.2 ٹریلین (2011ءمیں اب یہ3.5ٹریلین ہے) ہے تو ہر سال 3ٹریلین کی بدعنوانی کیسے ہو سکتی ہے، حالانکہ سیدھی سی بات ہے۔ بدعنوانی کا تعلق محض بجٹ سے تو نہیں اور ساری بدعنوانی محض سرکاری محکموں میں بھی نہیں ہو رہی۔ بدعنوانی تو ہر اُس جگہ ہو رہی ہے جہاں انسانوں کا انسانوں سے تعلق ہے۔ ایک ریڑھی بان بھی سبزی اور پھل کے زیادہ نرخ وصول کر کے بدعنوانی کا مرتکب ہو رہا ہے اور عوام کا استحصال کر رہا ہے، کروڑوں اربوں کا کمیشن کھانے والا وزیر بھی فرق صرف اختیارات اور حیثیت کا ہے۔

پیپلزپارٹی کے مخالف عناصر نے ہمیشہ اس بات کا واویلا کیا کہ بدعنوانی کی جو شرح پیپلزپارٹی کے ادوار حکومت میں رہی وہ دوسرے ادوار میں نہیں ہوئی، اگرچہ اس بات کو ثابت کرنا خاصا مشکل ہو گا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت(2008-13ئ) اور موجودہ حکومت کے دمیان بدعنوانی کے معاملے کو لے کر خا صا تفاوت ہے، لیکن اس کے باوجود یہ بات تسلیم کر لینا چاہئے کہ ملک میں جاری بدعنوانی کے سیل ِ رواں کا آغاز1993ءسے1996ءکے دوران قائم رہنے والی پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران ہوا۔

2008ءسے2011 کے درمیان قائم رہنے والی پیپلزپارٹی کی حکومت کے اہم ترین عہدیداران نے بھی اس سلسلے میں خاصا نام کمایا۔

موجودہ حالات کے تناظر میں یہ بات خاصے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ بدعنوانی ہمارا قومی شعار بن چکی اور استحصال سے ہم باز نہیں آنے والے، مجھے گھانا سے تعلق رکھنے والے نیگروGreen Feelکے الفاظ بخوبی یاد ہیں، جس نے پاکستان سے متعلق اپنے ریمارکس میں کہا:

Corruption has weakend the very fabric of your state and you are near to civil war

”بدعنوانی نے تمہارے ملک کا تار تار ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب تم خانہ جنگی کے قریب ہو“۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ ہمارا شمار اب ان بدقسمت ترین ممالک میں ہونے لگا کہ گھانا جیسے پسماندہ ملک کے شہری بھی اپنے پاکستانی ہم منصبوں کی تضحیک کرسکیں۔

بالا دست طبقات جب شیرمادر کی طرح اس ملک کے و سائل کو پئے چلے جا رہیں تو عامیوں نے بھی یہ ٹھان لی ہے ان کی جتنی اوقات ہے اس کے مطابق وہ اپنے جیسوں کو نچوڑنے میں کسر اُٹھا نہیں رکھیں گے۔ سسلی کے مافیا کی طرز پر ہزار طرح کے چھوٹے بڑے مافیا یہاں جنم لے چکے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ کیا کبھی کسی نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی کہ ریلوے سٹیشنوں اور بس اڈوں پر غریب رکشے والوں سے بھتہ لینے والے کون ہیں یا شہر کے معروف ترین بازاروں کے درمیان سرکاری جگہوں پر قبضہ کروا کے پارکنگ سٹینڈ بنانے والے عوام کو کس انداز میں لوٹ رہے ہیں۔ ریلوے پلیٹ فارموں، بس اڈوں ٹرینوں اور موٹروے کے ہوٹلوں پر عوام سے کئی گنا زیادہ دام وصول کر کے انہیں مضر صحت اشیاءکیسے دھڑلے سے فروخت کی جا رہی ہیں۔ چہار سو عوام کا استحصال ہے پہلے یہ حق صرف اشرافیہ کو حاصل تھا کہ وہ اس ملک کے عوام کو مشق ستم بنا سکتے، لیکن اب ہر ایک یہ اختیار استعمال کر سکتا ہے کیونکہ اس کے ہتھے چڑھنے والے مجبور و بے کس افراد کے پاس اپنی چمڑی اتروانے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہوتا۔

گزشتہ ایک عشرے کے دوران لاہور جیسے میٹروپولیٹن شہر میں کھمبیوں کی طرح اگنے والے نجی ہاسٹلز نے غریب الوطنوں کا جس انداز میں استحصال کیا ہے اس کی نظیر دنیا کے کسی اور بڑے شہر میں نہ ملے گی۔ غصب خدا کا تنگ و تاریک گلیوں میں3،3مرلے کے گھروں کو ہاسٹلوں میں تبدیل کر کے ان میں20،20 ڈربے بنا دیئے گئے ہیں اور ان سے لاکھوں روپے ماہوار کمائے جا رہے ہیں۔ عام حالات میں زیادہ سے زیادہ دس ہزار روپے ماہوار کرائے پر جانے والی جگہ سے حاصل ہونے والا منافع اتنا زیادہ ہے کہ پورے شہر لاہور میں ہاسٹل انڈسٹری بن چکی ہے جو ٹیکس کے نام پر ایک پائی بھی حکومتی خزانے میں جمع نہیں کروا رہی۔ تعلیم کے نام پر جہالت پھیلانے والے نجی سکول ہوں، جہاں میٹرک پاس اساتذہ کو2000روپے ماہوار سے زیادہ تنخواہ نہیں دی جاتی یا صحت کے نام پر موت بانٹنے والے نجی ہسپتال جہاں سفاک مسیحا لوگوں کا قتل عام کرنے میں مصروف ہیں، کسی کا کوئی احتساب نہیں۔ جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ ترین شہر میں ایک ایسی گائناکولوجسٹ کے چرچے عام ہیں (غیر مشہور نجانے کتنی ہیں) جو حاملہ خواتین کے بزور آپریشن کرنے میں ید طولیٰ رکھتی ہے بس کوئی خاتون ایک بار اس سفاکہ کے نرسنگ ہوم میں داخل ہو جائے آپریشن کے ڈیڑھ دولاکھ روپے دیئے بغیر اس کی جان بخشی نہیں ہو سکتی، چاہے اس کے لئے آپریشن لازم ہو یا نہیں۔

عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ ریاست کے تین اہم ترین ستون نہ صرف عوام الناس کے استحصال سے لاتعلق دکھائی دیتے ہیں، بلکہ ان میں شامل بدعنوان عناصر اس عمل میں بڑھوتری کے ذمہ دار ہیں۔16مارچ2009ءکے بعد کی آزاد عدلیہ بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی، کیونکہ عدلیہ محض سپریم کورٹ پر مشتمل نہیں، ماتحت عدالتوں میں جس طرح انصاف سربازار نیلام ہو رہا ہے اس کا سدباب آزاد عدلیہ بھی کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائی، جہاں تک تعلق ہے ریاست کے چوتھے ستون میڈیا کا یہ ماضی کے مقابلے میں اپنی ذمہ داری نسبتاً بہتر طریقے سے سرانجام دیتے ہوئے عوام کے حقوق کی آواز بلند کر رہا ہے، لیکن اس کی چیخ و پکار بھی نقارخانے میں طوطی کی مانند ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔    ٭

مزید : کالم