قومی تشخص ،قومی لبا س اور قومی زبان کی اہمیت

قومی تشخص ،قومی لبا س اور قومی زبان کی اہمیت
 قومی تشخص ،قومی لبا س اور قومی زبان کی اہمیت

  

کسی بھی زندہ قوم کیلئے اپنی قومی زبان سے کتنی محبت کتنا پیار اور لگاؤ ہو تا ہے اسکی دو مثا لیں میں اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہو ں جس سے قومی زبان کی اہمیت اُجا گر ہو گی ۔ دوسری جنگ میں اتحا دی افواج نے جب چاپان کو شکست دیکر کامیابی حاصل کر لی تو اتحادیوں کے کمانڈر انچیف جنرل میکا ر تھر جاپان کے شہنشا ہ کے پاس گیا اور اسے ہتھیار پھینکنے کیلئے کہا تو شہنشا ہ نے جواب دیا کہ میں ایک شر ط پر ہتھیا ر پھینکنے کے لئے تیا ر ہو ں کہ آئندہ آپ کے حکمران جاپا ن کی زبان کو نہیں بدلیں گے اپنے حکمرانوں کو جا کر میرا پیغا م دیدیجئے اگر وہ وعدہ کرتے ہیں تو میں اپنی فوجوں سے ہتھیار پھینکنے کیلئے کہ دیتا ہوں اور اگر آپ کے حکمران میری اس شر ط پر قائم رہنے کیلئے تیا ر نہیں ہیں تو جب تک ایک بھی جاپانی زندہ ہو گا ہتھیا ر نہیں پھینکے جائیں گے ۔جنرل میکار تھر نے اپنے حکمرانوں سے مشورہ کے بعد کہا کہ ہمیں یہ شرط منظور ہے او ر ہم جاپان کی زبا ن تبدیل نہیں کرینگے ۔جس کا نتیجہ آج دنیا کے سامنے ہے کہ جاپان نے جنگ عظیم کے چند سا ل بعد ہی اپنی قومی زبان کے ذریعہ اپنے آپ کو دنیا کی ترقی یا فتہ اقوام میں شا مل کر لیا ۔

دوسری مثا ل بر طانیہ کے موجو دہ وزیر اعظم ڈیو ڈ کیمرون کی ہے جنہوں نے بر طا نیہ میں مقیم تمام ایشین برطانوی شہریو ں سے کہا کہ وہ اپنی قومی زبا ن انگریز ی سیکھیں ، بصورت دیگر انہیں بر طانیہ سے نکال دیا جائیگا چاہے وہ پچاس سا ل سے وہا ں رہ رہے ہوں اور برٹش شہریت بھی رکھتے ہوں۔ صرف اسی امیگرنیٹ کو رہنے دیا جائیگا جو انگریزی بو ل چال لکھنے پڑھنے میں مہارت رکھتا ہو گا ۔اس کے اعلا وہ چین ،بھارت ،جرمنی ، اورمریکہ غرضیکہ تمام ترقی یافتہ مما لک نے اپنی اپنی قومی زبان کے ذریعہ کامیابی حاصل کی ہے ۔

بد قسمتی سے ہمارے ملک میں بیورو کریسی نے قیام پا کستا ن کے بعد قومی زبان کو پاکستان میں رائج نہ کرنے دیا ۔ہر حکومت نے اہتما م حجت کیلئے اردو کو نافذ کرنا چاہا مگر طاقتور بیورو کریٹ کبھی ملک میں اردو کو رائج کرنے کے لئے تیا ر نہیں ہو ئے گز شتہ روز ادارہ قومی تشخص پا کستان کے صدر ڈاکٹر صدف علی نے یو م پاکستا ن کے موقع پر ایک بیان میں حکو مت سے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں بتدریج قومی زبان اردو کو نا فذ کرنیکا عہد کرے۔ ڈاکٹر صدف علی نے نئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس جواد ایس خواجہ کو نئے عہد ہ کاحلف اٹھانے پر مبارکباد دی ہے اور تو قع ظاہر کی ہے کہ وہ اپنے اس مختصر سے عہد میں تمام تر توجہ قومی زبان کے نفا ذ میں صرف کردیں تو تاریخ میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ با نی پاکستان قائداعظم کی بھی یہی خواہش تھی اور انہوں نے پاکستان کے الگ قومی تشخص کو اجاگر کرنے کیلئے قومی لباس اور قومی زبان کو رائج کر نے پر زور دیا تھا ۔انہوں نے مزید بتایا کہ آئین پاکستا ن اور بانی پاکستا ن کے فیصلے کے احترا م میں اردو کو قومی زبان کا درجہ دیکر بیس کروڑ پا کستانیو ں کو ان کا آئینی حق ضرور دلا یا جا ئے ۔اعلیٰ تعلیم اور مقابلے کے امتحان کو ایک مراعات یافتہ طبقہ تک محدود نہ رکھا جا ئے ۔

ڈاکٹر صدف علی نے کہا کہ قومی زبان کا نفا ذ آئین کے مطابق 1988 میں ہو جانا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا تو معاملہ سپریم کورٹ تک لے جابا گیا اور سپریم کورٹ نے قومی زبان کو نافذ کرنے کا حکم دیا انہوں نے کہا کہ ہماری تعلیمی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہر بچے بچی پر لا زمی انگریز ی کا قا نو ن ہے ۔ آخر ایسا کیوں ۔ مڈل ،میٹرک ،انٹر میڈیٹ کے طلبا ء و طا لبا ت کیلئے انگریزی میں لازمی کامیابی کا جبر کیوں ۔جب عربی ،فارسی ،اختیاری ہیں تو انگیریزی کیوں نہیں ۔ڈاکٹر صدف علی نے آخر میں ایک اور بے حسی کی طرف توجہ دلا ئی ہے کہ لا رڈ میکالے کے فرمودات کے مطا بق قائم شدہ انگلش میڈیم سکولوں میں بچوں کو نشان غلا می نیکٹائی کے پھندہ سے بھی آزاد کرایا جائے ۔ با نی پاکستان قائداعظم ؒ نے حصول پا کستا ن کے بعد تمام سر کاری فرائض قومی لباس میں انجام دیکر پاکستان کے آئندہ لباس کی واضح طور پر نشا ندہی کر دی تھی ۔اگر ان کے فر مو دات پر عمل کیا جاتا تو آج وی آئی پی کلچر بھی فروغ نہ پاتا ۔جس نے ہمیں الگ الگ طبقات میں تقسیم کر رکھا ہے ۔

مزید :

کالم -