پن بجلی ہی ترقی کا آسان طریقہ ہے

پن بجلی ہی ترقی کا آسان طریقہ ہے
 پن بجلی ہی ترقی کا آسان طریقہ ہے

  

تین مہینے ، چھ مہینے میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ محض ایک انتخابی نعرہ تھا۔ ورنہ حقائق کو جاننے اور سمجھنے والے اس وقت بھی یہ کہتے تھے کہ ناممکنات کو ممکنات بنانے کا دعویٰ صرف اور صرف عرش عظیم پر ہے پھر بھی سادہ لوح عوام کو امید تھی کہ ہمارے یہ سیاستدان ضرور کچھ کر دکھائیں گے۔ پنجاب کے خادم اعلیٰ میں تیز رفتاری سے کام کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے لاہور میں کم ترین مدت میں میٹروبس چلا کر یہ ثابت بھی کیا تھااب جبکہ وہ پاور پراجیکٹ کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے چین کے پے در پے دورے اور معاہدے بھی کئے ہیں۔ کئی پراجیکٹس پر کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ سینکڑوں میگاواٹ بجلی بھی قومی دھارے میں شامل ہو گئی ہے۔ پھر بھی لوڈشیڈنگ کا عذاب ہے جو کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ دیہات میں اٹھارہ گھنٹے اور شہروں میں بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ صنعتوں کا پہیہ مسلسل نہیں چلتا، تو معیشت کی بہتری اور ترقی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں پھر بھی معیشت کی بہتری اور ترقی کے دعوے بذات خود ایک سوالیہ نشان ہیں جس کا جواب ماہر معاشیات اور نون لیگ کے مستقل وزیر خزانہ کے عددی گورکھ دھندے میں سے اچھل کر سامنے آ رہا ہے۔ بین الاقوامی ادارے اس کے اثرات میں یہ نشاندہی بھی کر رہے ہیں کہ پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیجے زندگی گزارنے والوں کی شرح 60 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ چار کروڑ سے زائد نوجوان بے روزگار ہیں اور ان میں ہر سال تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔

سرکاری سطح پر انتخابی نعروں کے بجائے یہ دعویٰ ہو رہا ہے کہ 2018ء میں جب حکومت کی مدت ختم ہو گی اور نئے انتخابات ہونگے تو ملک سے لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ تمام زیر تعمیر پراجیکٹ مکمل ہو کر اپنا کام شروع کر دیں گے تو پاکستان کے پاس فالتو بجلی موجود ہوگی۔۔۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو کیونکہ یہی ترقی اور خوشحالی کا راستہ ہے۔ اسے جلد از جلد سفر کے قابل ہونا چاہئے، لیکن ایک تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ پاکستان میں بجلی کی ترسیل کا جو سسٹم ہے وہ پرانا ہے اور اس میں پندرہ ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی سپلائی کرنے کی صلاحیت نہیں۔ گویا اگر پیداوار موجودہ ضرورت یعنی 20 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا ہو بھی گئی تو اس کی ترسیل کیلئے اس سسٹم کو بھی مزید بہتر بنانا پڑے گا۔ کیا ہی اچھا ہو اگر اس طرف بھی فوری توجہ مرکوز کر لی جائے۔ اس پرانے سسٹم کو جدید ترین خطوط پر زیادہ باصلاحیت بنانے کی کوشش کی جائے، لیکن فی الوقت تو یہی لگتا ہے کہ تمام توجہ پیداواری صلاحیت پر مرکوز ہے جو ابھی ضرورت کے مطابق نہیں۔

اس وقت ایک اور موجود حقیقت یہ بھی ہے کہ اگر دو ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار میں سالانہ اضافہ ہو رہا ہے تو اس کی ڈیمانڈ آبادی کے اضافے اور فیکٹریوں، کارخانوں اور صنعتوں کی تعداد بڑھنے سے تین ہزار میگاواٹ بڑھ رہی ہے۔ جو یقیناًصاحب اختیار لوگوں کے بھی ذہن میں ہوگی اور وہ اس کے مطابق ہی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر رہے ہوں گے ،لیکن اس دوران میں کچھ ناگفتنی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ نندی پور پراجیکٹ جو متنازع امور کے باوجود تیزی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا تھا اور اس سے 425 میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کی امید تھی۔ افتتاح کے بعد اپنا کام شروع کرنے کے باوجود ابھی تک پوری صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہا۔ اس سے آدھی یا 230 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ اس سے پاکستان کے عوام کو پچھلے تین ماہ میں 12ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ بھول جاہیے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے اس کا الزام کس پر عائد ہوتا ہے؟؟ یا پھر جو سولر پراجیکٹ شروع ہوا تھا وہ اپنی صلاحیت کے مطابق ابھی تک کام کیوں نہیں کر رہا؟

بہرحال یہ بات خوش آئند ہے کہ ہمارے حکمران پاکستان میں توانائی کا بحران ختم کرنے پر تمام صلاحیتیں اور وسائل خرچ کر رہے ہیں۔ اس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہوں گے ،لیکن افسوسناک امر ہے توانائی کے جو پراجیکٹ لگائے جا رہے ہیں وہ مہنگی بجلی فراہم کرتے ہیں۔ حکومت اسے مہنگے داموں ہی عوام تک پہنچا رہی ہے ،لیکن وہ ذرائع جو سستی بجلی پیدا کرتے ہیں تمام دنیا میں ان ذرائع کو ہی اولیت دی جاتی ہے ہمارے ہاں ان پر توجہ نہیں دی جاتی ،بلکہ پن بجلی کے بجائے دیگر ذرائع کو ہی اولیت دی جا رہی ہے۔ پاکستان کے پاس اس کے قدرتی ذرائع بھی ہیں۔ کالاباغ ڈیم کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ اس کی ابتدائی رپورٹوں پراربوں روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ بھاشا ڈیم کے تنازع کو دیا میر بھاشا ڈیم کا نام دے کر بھی اس پر ہنوز کام شروع نہیں ہوا ،حالانکہ اس کا کئی دفعہ افتتاح بھی ہو چکا ہے۔۔۔ یوں بھی واپڈا کے ڈیم ڈیپارٹمنٹ نے دو درجن سے زائد چھوٹے بڑے ڈیموں کی نشاندہی کر کے ان کی ابتدائی رپورٹیں بھی تیار کر رکھی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ ڈیم متنازع دریاؤں پر نہیں ان پر فوری کام شروع بھی ہو سکتا ہے مگر افسوس کہ یہ اولین ترجیح نہیں ،حالانکہ اس سے عوام کو سستی بجلی فراہم ہو سکتی ہے۔ اے کاش ہمارے حکمران اور پالیسی ساز بھی اس کو اولین ترجیح بنائیں ،تاکہ ترقی اور خوشحالی کے امکانات زیادہ روشن ہوں۔

مزید :

کالم -