لاکھوں کی نوکری کرنے والے شخص نے ایک ایسا جملہ بول دیا کہ فوراً ہی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا، یہ کوئی گالی وغیرہ نہیں بلکہ۔۔۔ جانئے اور احتیاط کیجئے

لاکھوں کی نوکری کرنے والے شخص نے ایک ایسا جملہ بول دیا کہ فوراً ہی نوکری سے ...

نیویارک (نیوز ڈیسک) امریکا جیسے ملک میں کام چوری کا تصور خاصا مشکل نظر آتا ہے لیکن نیویارک شہر میں اعلٰی سرکاری عہدے پر فائز ہونے کے باوجود بالکل فارغ بیٹھے رہنے والے شخص نے ہر کسی کو حیران کر دیا ہے۔ اس شخص کی مستقل کام چوری سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ اس کا بھانڈہ پھوڑنے والا بھی کوئی اور نہیں بلکہ یہ خود ہی ہے۔

یو ایس اے ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق ڈیوڈن بکس سٹاور کئی سال سے آفس آف کورٹ ایڈمنسٹریشن میں کمیونیکیشن ڈائریکٹر کے طور پر کام کررہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ڈیوڈ ایک اخباری رپورٹر سے فون پر گفتگو کر رہا تھا اور اسی دوران اپنے کسی ساتھی سے بھی خوش گپیاں کر رہا تھا۔ اس نے بے دھیانی میں اپنے پاس بیٹھے شخص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”میں تو ہر وقت فارغ ہی ہوتا ہوں، کم ہی کوئی کام کرتا ہوں۔“ اس کی بدقسمتی کے دوسری جانب رپورٹر تک بھی یہ الفاظ پہنچ گئے اور اس نے اگلے دن اس شخص کے بارے میں اخبار میں خبر شائع کر دی۔ جب یہ معاملہ حکام کے سامنے آیا تو ڈیوڈ کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کردیا گیا، اور یوں وہ بیٹھے بٹھائے لاکھوں ڈالر سالانہ کی پرکشش ملازمت سے برطرف ہو گیا، یعنی واقعی فارغ ہو گیا۔

’میری شادی کو 12 برس ہو گئے ایک دن اپنے شوہر کا فون چیک کیا تو یہ دیکھ کر پیروں تلے زمین نکل گئی کہ وہ تو پہلے دن سے ہی۔۔۔‘

ملازمت سے برخاست ہونے کے بعد ڈیوڈ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایک بار پھر صاف گوئی سے کام لیا اور کہا کہ ”اگر دیانتداری سے دیکھا جائے تو میرے بارے میں اخبار میں شائع ہونے والی خبر درست ہی تھی۔ میں کچھ بھی نہیں کررہا تھا۔ میں تو دفتر بھی کبھی کبھار ہی جاتا تھا، لیکن اب میں پکڑاگیا ہوں۔“

نیویارک کورٹ سسٹم کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ”اہل نیویارک اپنے کورٹ سسٹم کو اعلیٰ ترین معیار اور احتساب کا ادارہ سمجھتے ہیں۔ ہم جن معیارات اور قوانین کی پابندی کی دوسروں سے توقع کرتے ہیں وہی اپنے ملازمین پر بھی لاگو کریں گے۔ کام میں غفلت کو ہم بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور جب بھی کسی ایسے شخص کے بارے میں پتا چلے گا تو اس کے خلاف سخت ترین ایکشن لیا جائے گا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس