جنت ارضی کی سیر

جنت ارضی کی سیر
 جنت ارضی کی سیر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مرتضیٰ نور ہو یا اس کا بڑا بھائی آصف نور۔ مجھے دونوں کو دیکھ کر اپنی جوانی یاد آتی ہے۔ ماشا اﷲ بڑے متحرک ہیں۔ کبھی ہم بھی اسی طرح متحرک ہوا کرتے تھے۔

مگر اب وہ دن بیت گئے۔ ان دونوں بھائیوں کا خاص کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے قائد اعظم یونیورسٹی کے پرانے طلبا کو آپس میں ملانے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔

شہر شہر پرانے ساتھیوں کو ڈھونڈھنا اور اکٹھا کرنے کے لئے تقریب کا اہتمام کرنا میرے جیسے ڈھیلے، تھکے ہوئے اور ناکارہ لوگوں پر ان کا خاص احسان ہے۔جس کے لئے میں اور میرے جیسے بہت سے پرانے طلبا ان کے ممنون ہیں۔پرانے دوستوں سے ملتے ہوئے گم گشتہ جوانی کے کچھ حسین ترین لمحے ہنستے، کھیلتے، مسکراتے اور ناچتے یوںآپ کے ہمرکاب ہوتے آپ کو جیسے کسی جنت ارضی کی سیر کرارہے ہوں۔

قائد اعظم یونیورسٹی 1967میں وجود میں آئی۔ جب کلاسز کا باقاعدہ اجرا ہوا تو پہلے سال چند طالبعلم تھے جن میں آدھے بنگالی تھے۔ یونیورسٹی راولپنڈی میں 6th روڈ پر تھی۔ ایک بڑی کوٹھی میں کیمپس تھا اور دو کوٹھیوں میں ہوسٹل تھے ، ایک مغربی پاکستانیوں کے لئے اور دوسرا مشرقی پاکستانیوں (بنگالیوں) کے لئے۔میں نے اگلے سال 1971 میں داخلہ لیا تو تقریباً ڈیڑھ ماہ بنگالی ہوسٹل میں گزارہ۔ پھر ہمیں نئے کیمپس منتقل کر دیا گیا۔ بنگالی ہوسٹل میں گزارے وہ خوشگوار لمحے آج بھی میرے لئے انتہائی یادگار ہیں۔نیا کیمپس واقعی نیا تھا۔ ویرانہ، پتھراور سانپ اس کی خاص خوبیاں تھیں۔ قریب ترین دکان جہاں سے کچھ مل سکتا تھا وہ بری امام کے مزار پر تھی۔ جہاں پہنچنے کے لئے دو بڑے نالوں کو پھلانگتے ہوئے عبور کرنا پڑتا تھا کیونکہ اس وقت تک ان پر پل نہیں بنے تھے۔1971 کی جنگ کا لطف ہم نے ہوسٹلوں کے ارد گرد بنے مورچوں میں رات رات بھر بیٹھے اٹھایا۔فقط ایک بس تھی جس کا ڈرائیور سعید اور کلینر شبیر تھا۔رات آٹھ بجے تک یہ بس مخصوص اوقات میں چلتی۔ بڑی بے رونق زندگی تھی۔ چند مہینوں میں آبادی بڑھنا اور ویرانہ ختم ہونا شروع ہو گیا۔نئے داخلے بہت بھر پور ہوئے۔انہی دنوں مجید اور چند دوسرے مقامی لوگوں کے کھوکھے وجود میں آئے اور یونیورسٹی کافی پر رونق ہو گئی۔

بہر حال لمبی داستانیں ہیں،تفصیل پھر کبھی۔ آج ملک کی اس بہترین جامعہ کو پچاس سال ہو گئے ہیں۔مرتضیٰ نور ہر شہر میں موجود اس جامعہ کے پرانے طلبا کو اس حوالے سے اکٹھا کر رہے ہیں کہ اک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق۔ لاہور میں اس سلسلے میں پچاس سالہ تقریب کا اہتمام پنجاب یونیورسٹی کے ایگزیکٹیو کلب میں کیا گیا۔چالیس کے قریب پرانے طلبا کی شرکت نے تقریب کو انتہائی خوبصورت بنا دیا۔جس طرح پارس پتھر کو چھو کر لوہا سونا بن جاتا ہے اسی طرح قائداعظم یونیورسٹی وہ مادر علمی ہے جس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اپنے تمام بچوں ، وہاں پڑھنے والے سب طالب علموں کو، اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ معاشرے میں عزت اور وقار کے ساتھ سر اونچا کرکے بڑے آدمیوں کی طرح زندگی گزار سکیں۔چنانچہ اس شب ،میں کلب میں چالیس بڑے آدمیوں کے نرغے میں اپنی پرانی یادیں تازہ کر رہا تھا۔بڑے آدمی بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ بعض اخلاق اور کردار کے حوالے سے جیسے اساتذہ، بعض دنیا داری کے حوالے سے جیسے پولیس اور بیوروکریٹ اور بعض کسی خاص شہرت کے حوالے سے جیسے سیاستدان انجینئر اورصحافی وغیرہ۔خوبصورت بات یہی ہے کہ ان چالیس پھولوں کے گلدستے میں ہر طرح کا پھول موجود تھا۔

تقریب کے دولہا سیکرٹری قائداعظم یونیورسٹی ایلومینائی ایسوسی ایشن محمد مرتضیٰ نور کی دعوت پر چےئرمین پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نظام الدین مہمان خصوصی تھے، وائس چانسلر پنجاب یونیوسٹی ظفر معین ناصر، وائس چانسلر ایجوکیشن یونیورسٹی روف اعظم، ڈاکٹر طاہر جمیل۔ ڈاکٹر اقبال چاولہ، حفیظ اﷲنیازی،منصور قاضی، امتیاز برنی، طارق چغتائی، قیوم بٹ، انیس اعوان، رانا شیر دل، اسد طور، اطہر اسماعیل، مبشر میکن، رانا گلباز، رانا شیر دل ، خالد خان، سرفراز وڑائچ اور مجھ سمیت ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ موجود تھے۔باہمی تعارف کے بعد بہت سے شرکا نے اظہار خیال کیا اور اپنے اپنے انداز میں ملک کی اس جامعہ کو ملک کی بہترین اور نمبر ایک جامعہ کے مقام تک پہنچانے میں جن اساتذہ ، انتظامیہ کے ارکان اور دیگر نے اپنا حصہ ڈالا، کو خراج تحسین پیش کیا۔وہاں موجود کچھ حضرات ایسے بھی تھے جنہیں بلا شبہ علم کا سمندر قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان لوگوں نے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔ بعض دوستوں کا اتنے عرصے بعد بھی ملنے اور گفتگو کرنے کا انداز ویسا ہی تھا جیسے وہ ابھی یونیوسٹی چھوڑنہیں پائے یا شاید اس دور میں وقتی طور پر واپس چلے گئے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین ناصر کے شرکا کو کھلائے لذیذ کھانے کی تعریف نہ کر نا بھی نا انصافی کے زمرے میں آئے گا۔ بہر حال یہ خوبصورت یونیورسٹی کے خوبصورت جوانوں کا خوبصورت اجتماع تھا جس کی یا د مدتوں دلوں میں تازہ رہے گی اور دلوں کو تروتازہ رکھے گی۔

مزید : کالم