جج کے حق میں نعرے بھی انصاف کے خلاف ہیں

جج کے حق میں نعرے بھی انصاف کے خلاف ہیں
 جج کے حق میں نعرے بھی انصاف کے خلاف ہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

یقینی طور پر عدالت کے فیصلوں کا احترام ہونا چاہئے اور عدلیہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بہرحال احتیاط کرنی چاہئے،مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ عمومی طور پر عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید ہوتی ہے اور کھلے عام ہوتی ہے۔ان دِنوں نواز شریف کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف نے جی ٹی روڈ کے سفر کے دوران عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جو عدالت کی توہین ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف پہلے آدمی ہیں، جنہوں نے اپنے خلاف کئے گئے عدالتی فیصلے کے حوالے سے تنقید کی یا سوال اُٹھایا ہے؟۔۔۔اگر ہم ماضی سے بات شروع کریں تو عدلیہ کے فیصلوں کے خلاف بیان بازی کا سلسلہ پیپلزپارٹی نے شروع کیا، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی پھانسی کے فیصلے کو آج تک تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اُس وقت کی عدالت نے جنرل ضیاء الحق کی خواہش پر بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا، جو سرا سر ناانصافی ہے۔پیپلزپارٹی اب بھی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیتی ہے اور بھٹو کی پھانسی کے حوالے سے پیپلزپارٹی کی قیادت نے گزشتہ دورِ اقتدار میں چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں اِس حوالے سے مذمتی قرارداد بھی منظور کرائی۔ کسی بھی عدالت کے خلاف اِس سے بڑی توہین کہیں نظر نہیں آتی۔۔۔اس قرارداد مذمت کے بعد پیپلزپارٹی نے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا اور اس وقت کے وزیر قانون بابر اعوان نے وزارت سے مستعفی ہونے کے بعد بھٹو کیس دوبارہ لڑنے کا اعلان کیا۔جس دن انہوں نے سپریم کورٹ میں پیش ہونا تھا، وہ اس تیاری کے ساتھ گھر سے نکلے، جیسے وہ عدالت میں نہیں ’’میدانِ جنگ‘‘ میں جا رہے ہیں، سو احتیاطاً انہوں نے اپنی والدہ محترمہ سے ’’دُعائیں‘‘بھی لی تھیں، بلکہ بعض اخبارات نے تو یہاں تک بتایا کہ انہوں نے دائیں بازو پر ’’امام ضامن‘‘ باندھا اور دفتر سے نکلتے ہوئے انہیں قرآن شریف کے سائلے تلے سے گزارا گیا۔۔۔ اب اگر دیکھا جائے تو یہ سب ’’توہین عدالت‘‘ تھی،قطع نظر اِس کے کہ بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ غلط تھا یا درست؟ بہرحال وہ ایک عدالت کا ہی فیصلہ تھا۔۔۔ خود بے نظیر بھٹو نے بھی عدالت کے لئے ’’چمک‘‘ کا لفظ ہزار بار استعمال کیا اور انہوں نے عدالتوں کے لئے ’’کنگروز‘‘ کورٹ کا لفظ بھی استعمال کیا۔۔۔اب بھی پیپلزپارٹی کے رہنما برملا کہتے ہیں کہ عدالتیں پی پی پی کے لئے اور طرح کے اور مسلم لیگ (ن) کے لئے اور طرح کے فیصلے دیتی ہیں۔

اب اگر دیکھا جائے تو کیا یہ توہین عدالت نہیں ہے؟ اس طرح اگر ہم وکلاء کے حوالے سے دیکھتے ہیں تو اکثر کیسوں میں وکلاء حضرات اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کے لئے ججوں پر دباؤ ڈالتے ہیں، کمرۂ عدالت میں ججوں کو گالیاں دیتے ہیں،اُن کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں اور عدالت کے کمرے میں ججوں کو ’’قیدی‘‘ بھی بنا لیتے ہیں۔ اپنی مرضی کا فیصلہ کرانے کے لئے ہر جگہ یہ سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔اب بھی ملتان میں جج اور وکلاء کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے، گزشتہ روز ہائی کورٹ میں وکلاء کے خلاف کیس میں بھی دیکھا گیا کہ امن و امان قائم رکھنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور وکلاء کو پیش نہ کیا گیا۔اس ساری گفتگو کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدالت کی توہین کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے،بلکہ مقصد یہ ہے کہ عدالتوں کا احترام ہر حال میں برقرار رہنا چاہئے اور انصاف سب کے لئے برابر ہونا چاہئے۔ میرے خیال میں سینکڑوں ایسے لوگ ہیں،جن کے دس، دس مرلہ زمین کے کیس چل رہے ہیں،مگر گزشتہ دس سال سے زیر سماعت ہیں اور مدعی اور مدعا علیہ دونوں ذلیل و خوار ہو چکے ہیں،اس طرح کئی دیگر عام کیس بھی کئی کئی برسوں سے التواء کا شکار ہیں اور ہزاروں لوگ کئی کئی برسوں سے فیصلے کے منتظر ہیں۔۔۔ مگر فیصلے نہیں ہو رہے،سو جب اِس طرح کے حالات دکھائی دیتے ہیں تو پھر عوام و خواص میں عدلیہ کے کردار پر سوال اٹھتا ہے اور عدلیہ میں کرپشن اور ناانصافی کا نعرہ بلند ہوتا ہے اور عدلیہ کے حوالے سے یہ رویہ پورے پاکستان کے لوگوں میں پایا جاتا ہے، سو ضروری ہے کہ سب سے پہلے عدلیہ اپنے احترام کو بڑھانے کے لئے ایسے تمام مسائل حل کرے، جس کی وجہ سے ہر شخص عدالت کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

عدالتوں کو ’’سیاسی‘‘ کیسوں کو سننے سے گریز کرنا چاہئے اور الزامات پر مبنی تمام کیسوں کو متعلقہ اداروں کے سپرد کر دینا چاہئے،پھر اپنی مداخلت کو کم سے کم رکھنا چاہئے،کسی بہت اہم کیس کو ضرور سننا چاہئے اور ایسے کیسوں سے دور ہو جانا چاہئے، جو خالص سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں یا بنائے جاتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اس وقت عدلیہ پر زیادہ تر سیاسی کیسوں کا دباؤ ہے، جس کی مرضی آتی ہے، وہ اُٹھ کر عدالت میں پیش ہو جاتا ہے ،پھر ’’ہنگامی‘‘ بنیادوں پر فیصلہ بھی مانگتا ہے۔ مثال کے طور پر ابھی گزشتہ روز مال روڈ کے دھرنے کے حوالے سے ایک پورا دن ضائع ہو گیا۔۔۔ اور کئی اہم کیس نہ نپٹائے جا سکے،جبکہ مال روڈ کے حوالے سے ہائی کورٹ کا حکم پہلے سے موجود تھا کہ کوئی سیاسی اجتماع مال روڈ پر نہیں ہو سکتا،سواِس حکم کی موجودگی میں کسی نئے حکم کی کیا ضرورت تھی؟حقیقت یہ ہے کہ اِس طرح کے واقعات سے عدالت کے حوالے سے بہت نچلی سطح پر بھی سوال اُٹھائے جاتے ہیں جو ظاہر ہے عدالت کے وقار کے خلاف ہے۔ عدالت کو چاہئے کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر بھی ’’ایڈوانس‘‘ پابندی لگائے کہ وہ عدالت کے حوالے سے منفی بات کرنے سے گریز کریں۔ دیکھا جائے تو شیخ رشید سب سے زیادہ توہین عدالت کرتے ہیں، وہ تمام جلسوں میں اعلیٰ عدالتوں کے معزز جج کے نام لے کر زندہ باد کے نعرے لگواتے ہیں اور اپنی ہر تقریر میں جج کا نام استعمال کرتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ جج نے اگر نواز شریف کے کیس میں انصاف کیا ہے تو پھر یہ تو ان کا فرض ہے، اس پر شیخ رشید کا نعرہ لگوانا درحقیقت عدالت کو متنازع بنانا ہے اِسی طرح اگر جے آئی ٹی کے اراکین نے اپنے فرائض منصبی بھرپور طریقے سے نبھائے ہیں تو پھر انہیں ’’قوم کے ہیرو‘‘ بنا کر پیش کرنے کا کیا مطلب ہے؟کیا انہوں نے یہ کام اپنے فرائض کے مطابق نبھائے ہیں یا نواز شریف مخالف سیاست دانوں کو خوش کرنے کے لئے ان کے ’’ایما‘‘ پر سب کچھ کیا ہے؟درحقیقت اب عدالت کو خود بھی ایسے ’’اقدامات‘‘ اٹھانے چاہئیں کہ ان کے فیصلوں پر اعتراض پر پابندی ہو، ان کے فیصلوں پر ’’واہ واہ‘‘ پر بھی پابندی ہونی چاہئے۔ ابھی جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں تو وکلاء برادری لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت میں گھسنے کی کوشش کررہی ہے اور انہوں نے اپنے ایک ساتھی کے خلاف عدالتی حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے عدالت سے قانون سے زیادہ ہاتھ ’’کے زور پر انصاف‘‘ مانگنے کا اعلان کیا ہے۔

مزید : کالم