داعش کے خلاف آپریشن میں 15جنگجو ، 3لبنانی فوجی ہلاک

داعش کے خلاف آپریشن میں 15جنگجو ، 3لبنانی فوجی ہلاک

سے کم 15 دہشت گرد ہلاک اور 3 لبنانی فوجی بھی مارے گئے ۔عرب ٹی وی کے مطابق لبنانی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ بھاری توپ خانے سے بھی حملے کیے ہیں۔ بیان کے مطابق داعش کی صفوں میں پھوٹ پڑ گئی اور جنگجو بھاگنے کی کوشش کررہے ہیں۔لبنانی وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ داعش کے خلاف آپریشن ’فجر الجرود‘ کے دو روز میں کم سے کم 15 داعشی دہشت گرد ہلاک اور تنظیم کے 12 ٹھکانے تباہ کردیئے گئے ہیں۔ ان میں زیرزمین بنکر، خندقیں اور سرنگیں شامل ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے باغیوں کے خلاف آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی قبضے میں لیا ہے جب کہ لبنانی فوج پرحملے کے لے تیار کی گئی بارود سے بھری ایک کار اور ایک موٹرسائیکل کو بھی تباہ کردیا گیاہے۔خیال رہے کہ لبنانی فوج نے دو روز پیشتر راس بعلبک کے ریب جرود عرسال اور اطراف میں 30 کلو میٹر کے علاقے پر داعشی جنگجوؤں کے خلاف آپریشن ’فجرالجرود‘ شروع کیا تھا۔ دو روز کے دوران لبنانی فوج نے قریبا 80 کلو میٹر کا علاقہ باغیوں سے چھڑا لیا ہے۔ادھرشام کی مشرقی سرحد کے قریب آپریشن کے دوران سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سیکم سے کم تین لبنانی فوجی بھی ہلاک ہوگئے۔ دوسری جانب لبنانی فوج کا کہنا تھا کہ بم دھماکے میں فوجیوں کی ہلاکتوں سے داعش کے خلاف جاری اپریشن میں رکاوٹ نہیں آئے گی۔ فوج داعش کے خلاف آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔

لبنانی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں تسلیم کیا گیا ہے کہ سڑک کنارے بچھائی گئی ایک بارودی سرنگ کے پھٹنے سے کم سے کم تین فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ دھماکے میں ایک فوجی شدید زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

مزید : عالمی منظر