خاتمی کا اپوزیشن رہ نماؤں کی جبری نظر بندی ختم کرنے کا مطالبہ

خاتمی کا اپوزیشن رہ نماؤں کی جبری نظر بندی ختم کرنے کا مطالبہ

تہران(این این آئی)ایران کے سابق صدر محمد خاتمی نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے گھروں میں جبری طور پر نظر بند کیے گئے تمام اپوزیشن رہ نماؤں کی نظربندی فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ ایک بیان میں محمد خاتمی نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے کہا کہ وہ اپوزیشن رہ نماؤں کی جبری نظربند ختم کرنے کے احکامات جاری کریں۔ ایران میں کسی اہم سیاسی شخصیت کی جانب سے نظر بند رہ نماؤں کی حمایت کا یہ پہلا اظہار ہے۔خیال رہے کہ ایران میں اصلاح پسند تحریک کے دو اہم رہ نما میر حسین موسوی اور مہدی کروبی 2011ء کے بعد سے مسلسل نظر بند ہیں۔ انہیں سنہ 2009ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک چلانے کی پاداش میں پہلے گرفتار کیا گیا، بعد ازاں انہیں ان کے گھروں کو سب جیل قرار دے کر انہیں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ویب سائیٹ کے مطابق سابق صدر محمد خاتمی نے عراق، ایران لڑائی کے دوران قید رہنے والے ایرانیوں سے ملاقات کے بعد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ جبری نظربندی کے تحت گھروں میں قید اپوزیشن رہ نماؤں پر پابندیاں اٹھانے کے احکامات جاری کریں۔محمد خاتمی پہلے ایرانی سابق صدر ہیں۔

جنہوں نے کھل کر اپوزیشن رہ نماؤں کی جبری نظربندی کی مخالفت کرتے ہوئے سپریم لیڈر سے اس پابندی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید : عالمی منظر