جرمنی،اتحاد کے لیے مہاجرین کی حد مقرر کرنے کا مطالبہ ختم

جرمنی،اتحاد کے لیے مہاجرین کی حد مقرر کرنے کا مطالبہ ختم

برلن(این این آئی)جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی اتحادی جماعت کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) نے جماعتوں کا اتحاد برقرار رکھنے کے لیے جرمنی میں مہاجرین کی زیادہ سے زیادہ تعداد کی حد مقرر کرنے کا اپنا دیرینہ مطالبہ واپس لے لیا ہے۔سی ایس یو وفاقی جرمن ریاست باویریا میں برسر اقتدار ہے۔ باویریا کے وزیر اعلیٰ اور حکومتی اتحادی جماعت سی ایس یو کے سربراہ ہورسٹ زیہوفر بارہا مطالبہ کر چکے ہیں کہ انگیلا میرکل اور ان کی سیاسی جماعت سی ڈی یو جرمنی میں مہاجرین کی سالانہ تعداد کی حد مقرر کرے۔ میرکل اس مطالبے کو مسترد کرتی رہی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق زیہوفر اپنے اس دیرینہ مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹ رہے تھے اور انہوں نے آئندہ انتخابات کے بعد سی ڈی یو سے اپنی جماعت کا اتحاد برقرار رکھنے کو بھی اس مطالبے سے مشروط کر رکھا تھا۔ تاہم اب انہوں نے اتحاد کے لیے اس شرط سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں اس شرط سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کرتے ہوئے زیہوفر کا کہنا تھاکہ صورت حال بدل چکی ہے اور برلن نے اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے۔ اب (ماضی کے مقابلے میں) تارکین وطن کی تعداد کافی کم ہو چکی ہے۔قدامت پسند نظریات رکھنے والی سیاسی جماعت کرسچن سوشل یونین نے جرمن انتخابات کے لیے جاری کیے گئے اپنے منشور میں بھی جرمنی میں مہاجرین کی زیادہ سے زیادہ سالانہ تعداد کی حد دو لاکھ تارکین وطن تک مقرر کرنے کا مطالبہ کر رکھا تھا۔جرمن چانسلر انگیلا میرکل ایسے مطالبوں کو مسلسل مسترد کرتی رہی ہیں۔ میرکل کا کہنا تھا کہ جرمنی میں مہاجرین کی تعداد کی حد مقرر کرنا غیر آئینی اقدام ہو گا۔ جرمن آئین کے مطابق ایسے افراد کو پناہ دی جاتی ہے جن کی زندگیوں کو ان کے آبائی وطنوں میں خطرات لاحق ہوں۔

 

مزید : عالمی منظر