پاک امریکہ تعلقات۔۔۔اعتماد کا بحران

پاک امریکہ تعلقات۔۔۔اعتماد کا بحران

امریکہ کی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹیل نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان فوجی و سفارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے اور دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے پاکستان کے عزم کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ امریکی سینٹ کام کے سربراہ نے اپنے وفد کے ساتھ پاکستان کا دورہ کیا، انہیں اس دورے میں جنوبی وزیرستان بھی لے جایا گیا جس کے بارے میں امریکیوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ یہاں حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے موجود ہیں۔ دورے کے اختتام پر سینٹ کام کے کمانڈر نے اپنے نوٹ میں پاکستان کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے سراہا اور کہا کہ امریکہ ایماندارانہ اور شفاف تعلقات کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین دہشت گردوں کے لئے استعمال نہ ہونے دے۔

امریکی کمانڈر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ افغانستان کے متعلق اپنی نئی پالیسی کی تشکیل کررہا ہے، نئی پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لئے مختلف پہلوؤں سے اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔ لگ بھگ پانچ ہزار مزید فوجی افغانستان بھیجنے کا معاملہ تو صدر ٹرمپ نے کمانڈروں کی صوابدید پر چھوڑ دیاہے اور امکان یہی ہے کہ مزید فوجی افغانستان کے لئے امریکہ میں رختِ سفر باندھ رہے ہیں تاہم نئی پالیسی کے جو نمایاں خدوخال سامنے آئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ افغان طالبان اور دوسرے دہشت گردوں کی مبینہ پناہ گاہیں پاکستان سے ختم کرنے کے لئے اسلام آباد پر دباؤ ڈالنے کے طریقے وضع کئے جائیں گے یہ پالیسی صرف افغانستان نہیں پورے جنوبی ایشیا کے لئے ہوگی جس میں پاکستان بھی شامل ہے، سینٹ کام کے کمانڈر کا دورہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا جنوبی وزیرستان بھی وہ یہی دیکھنے کے لئے گئے ہوں گے کہ شاید وہاں ان کی عقابی نگاہوں کو حقانی نیٹ ورک کے کوئی ٹھکانے نظر آجائیں اس سلسلے میں پاکستان اپنا موقف بار بار واضح کرچکا ہے کہ یہاں حقانی نیٹ ورک کا کوئی وجودنہیں، اس کے ٹھکانے افغانستان کے اندر ہیں اور اگر یہ نیٹ ورک وہاں کوئی کارروائی کررہا ہے تو اس کا سرا غ افغانستان میں لگایا جائے لیکن افغان فورسز کی اس سلسلے میں بدیہی ناکامی کے بعد صدر اشرف غنی پاکستان پر الزام تراشی پر اُتر آئے ہیں انہوں نے امریکیوں کو بھی یہی رپورٹ دی ہوگی کہ پاکستان کے اندر حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے ہیں اب معلوم نہیں امریکی کمانڈر نے جنوبی وزیرستان کے دورے کے بعد کیا محسوس کیا اور کیا وہ مطمئن ہوگئے یا نہیں ویسے انہوں نے اپنے دورے کے دوران پاکستان کی قربانیوں کی اور دہشت گردی کے خلاف اس کی کارروائیوں کو سراہا۔

افغانستان میں امریکہ سولہ سال سے موجود ہے اور بظاہر ایسے لگتا ہے کہ اس عرصے کے دوران مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہونے کی وجہ سے اسے نئی پالیسی تشکیل دینا پڑ رہی ہے، وہاں ہونے والی ہزیمتوں کی وجہ سے ہی امریکی صدر ٹرمپ کو پچھلے دنوں یہ کہنا پڑا تھا کہ وہ افغانستان میں اپنے کمانڈر کو برطرف کردیں گے یہ بیان بھی اس بات کا غماز ہے کہ انہوں نے افغانستان میں امریکی فوج کی آمد کے بعد سودوزیاں کا جو حساب لگایا اس میں انہیں ناکامیوں کا پلڑا بھاری نظر آیا، ویسے اندرونِ ملک بھی ان کے لئے حالات کوئی زیادہ سازگار نہیں ہیں صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک وہ اپنے کئی اہم مشیروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا چکے ہیں جن میں وہ بھی شامل تھے جو انہیں برسر اقتدار لانے کی مہم کامیابی کے ساتھ چلاتے رہے، امریکہ کی بعض ریاستوں میں نسلی بنیاد پر ہونے والے مظاہروں نے بھی صدر ٹرمپ کو سیخ پا کررکھا ہے اور اسی بنیاد پر ان کے مواخذے کی تحریک کی باتیں ہونے لگی ہیں کوئی امریکی صدر شاید ہی اتنے مختصر عرصے میں اتنا زیادہ غیر مقبول ہوا ہو کہ عام لوگ یہ سوچنے پرمجبور ہو جائیں کہ اقتدار نائب صدر کے حوالے کردینا چاہئے۔

ایسے محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کے لئے دہشت گردی اور حریت پسندی کے درمیان فرق کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ کشمیری حریت پسند سید صلاح الدین اور ان کی جماعت حزب المجاہدین کو بلا سوچے سمجھے اور عجلت میں دہشت گرد قرار نہ دیتا سید صلاح الدین کشمیری ہیں اور ان کی جماعت کشمیریوں پر مشتمل ہے اور آزادی کی جنگ اقوام متحدہ کے بنائے ہوئے اصولوں اور ضابطوں کی حدود میں رہ کر لڑرہی ہے کشمیر کا مسئلہ اب بھی عالمی ادارے کے ایجنڈے پر موجود ہے یہ تو بھارت ہے جو سیکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کی مخالفت کررہا ہے اور اس ادارے کی رکنیت کا امیدوار بھی ہے۔ بھارت کے رہنماؤں کو خوش کرنے کے لئے صدر ٹرمپ نے کشمیریوں کی آزادی کی خاطر جانیں قربان کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دے دیا اور اس ریاستی جبر کو سرے سے ہی نظر انداز کردیا جس کے تحت بھارتی فوجی دس دس سال کے بچوں کی آنکھوں پر فائرنگ کرکے انہیں بینائی سے محروم کررہے ہیں کشمیر میں اگر مودی صدر ٹرمپ کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے تو افغانستان میں صدر اشرف غنی انہیں گمراہ کررہا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ اس ایک نقطے پر اٹک کررہ گیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کی وجہ سے افغانستان میں دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جاسکا، اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں سردمہری آچکی ہے اور امریکہ نے پاکستان کے وہ فنڈز بھی روک لئے ہیں جو کولیشن سپورٹ کے تحت پاکستان کو ادا کرنے تھے یہ دہشت گردی کی جنگ پر اٹھنے والے اخراجات ہیں جس میں پاکستان کو امریکہ کی وجہ سے اُلجھنا پڑا، یہ کوئی امداد یا گرانٹ نہیں ہے جسے جب چاہا بند کردیا اور جب من کی موج آئی دوبارہ کھول دیا، دیکھا جائے تو پاکستان پر دہشت گردی کا جو بھی عذاب مسلط ہوا وہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کا حصہ بننے کے بعد ہی آیا، خود کش حملوں کا کوئی تصور اس سے پہلے پاکستان میں نہیں تھا، لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ اس جنگ میں پاکستان کے جسدِ قومی کو جو زخم لگے ان کی کسک امریکہ میں محسوس نہیں کی جارہی نہ ان قربانیوں کا صدق دل سے اعتراف کیا جا رہا ہے جو پاکستان نے دیں، جانی قربانیوں کا صلہ تو خیر کسی نے کیا دینا تھا، معیشت کی تباہی کا عشرِ عشیر بھی نہیں ملا، لے دے کے کولیشن سپورٹ فنڈ تھا وہ بھی بند کردیا گیا، ایسے میں پاک امریکہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی باتوں کو زیادہ سے زیادہ خوبصورت الفاظ کا اعادہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے، امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات کی تاریخ میں اونچ نیچ تو آتی رہی ہے لیکن ’’اعتماد کا یہ بحران‘‘ جو اس وقت ہے اس کا مظاہرہ شاید ماضی میں بہت کم دیکھنے میں آیا، امریکی وفد کے دورے کے بعد کیا اس میں کچھ کمی کی امید رکھی جائے؟

مزید : اداریہ