شوگر مل مالکان کے ذمے کسانوں کے واجبات

شوگر مل مالکان کے ذمے کسانوں کے واجبات

ایک خبر میں شوگر مل مالکان کی طرف سے کسانوں کے اربوں روپے دبانے کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں، وہ بے حد تشویشناک ہیں کہ گزشتہ کئی سال سے کسان اپنے واجبات کی وصولی کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں، حکومت نے کسانوں کی مسلسل شکایات پر شوگر مل مالکان کو اربوں روپے کی مراعات اور سبسڈی بھی دی لیکن کسانوں کو کچھ نہیں مل سکا۔ بتایا گیا ہے کہ خزانہ، صنعت وپیداوار اور تجارت کی وزارتوں نے اس معاملے میں پر اسرار خاموشی اختیار کررکھی ہے، جس کے نتیجے میں کسان اپنی رقوم وصول کرنے میں کامیاب نہیں ہورہے۔ کسان جب شوگر ملوں کو گنا فراہم کرتے ہیں تو انہیں نقد ادائیگی کی بجائے ایک چھوٹے سے سادہ کاغذ پر مل مالکان کے ملازمین رسید دیتے ہیں، جس پر گنے کا وزن اور اس کے معاوضے کی رقم لکھی ہوتی ہے۔ ایسی رسید کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی لیکن کسانوں کو مجبوراً شوگر مل مالکان کے اس طریق کار کو قبول کرنا پڑتا ہے۔وعدے کے مطابق سیزن ختم ہونے کے بعد رقوم کی ادائیگی ہونی چاہئے لیکن کبھی یہ بہانہ بنایا جاتا ہے کہ چینی کی فراہمی کے بعد ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے فی الحال کسانوں کو گنے کا معاوضہ نہیں دیا جاسکتا۔ بعض اوقات چینی بیرون ملک سستی ہوتی ہے تو چینی کی فروخت نہ ہونے پر اگلے سیزن میں ادائیگی کا وعدہ کرکے کسانوں کو ٹرخادیا جاتا ہے۔

شوگر مل مالکان کسانوں کو ادائیگی کرنے میں پیش آنے والی مشکلات سے حکومت کو آگاہ کرکے اپنے لئے سبسڈی اور دیگر مراعات منظور کروالیتے ہیں لیکن کسانوں کوجزوی ادائیگیاں کرتے ہیں۔ یوں کسانوں کے اربوں روپے ہر سیزن میں پھنس جاتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں حکومت نے شوگر ملوں کو چھ لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت بھی دی تاکہ کسانوں کو یقینی طور پر ادائیگیاں ہوسکیں۔ اس کے علاوہ سٹیٹ بینک کی طرف سے شوگر ملز مالکان کو اربوں روپے کی ادائیگی بھی کردی گئی۔ پھر بھی کسان اپنی رقوم وصول کرنے کے لئے مارے مارے پھررہے ہیں شوگر ملز مالکان انہیں کم مالیت کی ادائیگیاں کرکے وعدے اور ادھار کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ پچھلے چار سال کے دوران چینی کی برآمد پر سبسڈی کے حوالے سے بارہ ارب روپے شوگر ملزمالکان وصول کرنے کے بعد بھی کسانوں کو مکمل ادائیگیاں نہیں کررہے۔ بنیادی طور پر خزانہ، صنعت و پیداوار اور تجارت کی وفاقی وزارتوں کا کام ہے کہ وہ شوگر ملزمالکان کو ادائیگیوں کے معاملے میں من مانی اور ناانصافی نہ کرنے دیں لیکن یہ تینوں وفاقی وزارتیں بھرپور طریقے سے کسانوں کی مدد نہیں کررہیں۔ پنجاب حکومت نے ادائیگیاں نہ کرنے پر سات شوگر ملوں کی نیلامی کا فیصلہ کیا ہے۔ ضروری ہے کہ وفاقی حکومت اس معاملے میں اپنا کردار صحیح طور پر ادا کرے تاکہ مجبور اور بے بس کسان بہتر طریقے سے اپنے زرعی معاملات کو چلا سکیں۔

مزید : اداریہ