موروثی سیاست کا رواج

موروثی سیاست کا رواج
 موروثی سیاست کا رواج

  

پاکستان میں سیاست کرنے والے اس طبقے کے لئے یہ رواج ناپسندیدہ ہے کہ ملکی سیاست کو بھی خاندانی میراث بنا دیا گیا ہے۔ اکثر سیاسی جماعتوں میں موروثی سیاست گھر کر گئی ہے۔ سیاسی رہنماء اور کارکن اس کے خلاف آواز اٹھانا چاہتے ہیں لیکن عملاً ایسا کر نہیں پاتے۔ ہم خیال لوگ کسی ایک پلیٹ فارم پر جمع نہیں ہوتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ نیشنل عوامی پارٹی ملک بھر کی پارٹی نظر آتی تھی۔ انتخابی سیاست میں وہ کمزور ضرور تھی لیکن عوام میں اسے بڑی حد تک پذیرائی حاصل ہوا کرتی تھی۔ صوبہ خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں پارٹی کے رہنماء موجود ہوا کرتے تھے۔ صدر اگر ولی خان تھے تو جنرل سیکریٹری کراچی کے محمود الحق عثمانی ہوا کرتے تھے۔ پنجاب کے قسور گردیزی پارٹی کے بڑے رہنماء ہوتے تھے ۔ سندھ کی صدارت سید باقر شاہ کیا کرتے تھے اور حیدرآباد کی صدارت وسیم عثمانی کی ذمہ داری ہوتی تھی۔جام ساقی جیسے مخلص لوگ کارکن ہونے میں فخر محسوس کیا کرتے تھے ۔ سن ستر کے انتخابات تک تو یہی ضابطہ اور رواج تھا۔ بھٹو دور میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی کے بعد اس وقت کی قومی اسمبلی کے رکن سردار شہر باز خان مزاری اور بیگم نسیم ولی خان نے عوامی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی مہم چلائی، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی قائم کی گئی جسے بعد میں عوامی نیشنل پارٹی میں ضم کر دیا گیا اور خاندانی سیاست کا رواج ڈالا گیا۔ اب تو اسفند یار ولی نے رشتہ داروں کی بھر مار کر دی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ گزشتہ دور میں وزارت اعلیٰ بھی قریبی رشتہ دار کو دی گئی۔

پیپلز پارٹی نے سن ستر کے انتخابات میں طوفان اٹھانے کے باوجود رشتے داروں کو دور ہی رکھا۔ جب بھٹو اقتدار میں آئے تو انہوں نے اپنی پہلی تقریر میں ہی پارٹی رہنماؤں اور عام لوگوں کے اس احساس کو محسوس کیا اور تقریر میں ذکر کیا کہ حکومت میں میرے رشتہ دار نہیں ہیں سوائے میرے کزن (ممتاز بھٹو ) کے ۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد ہونے والے1988 کے انتخابات میں رشتہ داروں کو متعارف کرایا۔ بے نظیر بھٹو کی موت کے بعد تو پارٹی ایک طرح سے خاندانوں کی میراث بنا دی گئی ہے۔ قیادت اس خیال کی حامی ہوگئی ہے کہ انتخابات میں پیسے والے ہی کامیاب ہو سکتے ہیں اور یہ خیال روز بروز پختہ ہی ہوتا جارہا ہے۔

پھر بھی سوال کیا جاتا ہے کہ پارٹی غیر مقبول کیوں ہو گئی ہے۔ اسی طرح ن لیگ نے بھی اسی طریقہ کو اختیار کیا ۔ آج صورت حال یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں رشتہ داروں کی بھر مار ہے۔ نواز شریف کو نااہل قرار دئے جانے کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی نشست خالی ہوئی تو پارٹی نے ان کی اہلیہ کلثوم نواز کو امیدوار نامزد کر دیا ۔ انہیں امیدوار اس خیال سے نامزد کیا گیا کہ لوگ ہمدردی میں انہیں منتخب کرائیں گے حالانکہ ن لیگ کے پاس لاہور سے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے بھاری بھر کم امیدواروں کی کمی نہیں تھی۔ ایسا کیوں ممکن نہیں ہو سکا کہ ن لیگ کے کسی کم وسائل رکھنے والے کارکن کو نامزد کیاجاتا اور اسے پیسہ بھی دیا جاتا۔ ایم کیو ایم 1988سے 2013تک انتخابات میں اپنے امیدوار پارٹی خرچ سے ہی منتخب کراتی رہی تھی۔

ن لیگ میں دیکھیں تو پنجاب میں شہباز شریف حکومت کررہے ہیں، ان کے صاحبزادے حمزہ قومی اسمبلی کے رکن ہیں تو صوبہ بلوچستان میں پشتون علاقوں میں سیاست کرنے والی محمود خان اچکزئی کی جماعت پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کو رشتہ داروں کی پارٹی قرار دیا جا سکتا ہے۔ جس طرح محمود خان نے اپنے سسرالیوں کو سمویا ہے اسی طرح ن لیگ نے بھی نواز شریف کی اہلیہ کے کئی رشتہ داروں کو اہم حیثیتیں دی ہوئی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے بھی شریک چیئر مین آصف علی زرداری کی ہمشیراؤں اور دیگر رشتہ داروں کے علاوہ اہم ہمشیرہ فریال پالپور کے شوہر کے رشتہ داروں کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی میں منتخب کرایا ہوا ہے۔ بات صرف پارٹی قیادت کے رشتہ داروں تک محدود نہیں ہے بلکہ پیپلز پارٹی نے تو ہر ضلع کو خاندانوں کے حوالے کر دیا ہے۔ ایسے کئی گھرانے ہیں جن کو قومی اسمبلی، رکن صوبائی اسمبلی، بلدیہ اور ضلع کونسل کی سربراہی بیک وقت حاصل ہے۔ ایسے کئی خاندانوں کے نام گنوائے جاسکتے ہیں جن کے تمام افراد ہی سیاست میں ملوث ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی عہدے بھی خاندانی زرعی زمینوں کی حیثیت حاصل کر گئے ہیں جو وراثت بن گئی ہے۔ پارٹی قائدین کیوں نہیں سمجھتے کہ اس عمل کے نتیجے میں ملکی سیاست میں بڑی خرابیوں نے جنم لیا ہے۔ ان خرابیوں میں اہم خرابی یہ بنی ہے کہ عام لوگوں نے سیاسی جماعتوں کے معاملات میں دل چسپی لینا چھوڑ دی ہے۔ ملک کی انتظامیہ پر ان ہی خاندانوں کی گرفت مضبوط ہو گئی ہے۔ ضلع کے ڈپٹی کمشنر جب یہ کہنے لگیں کہ چپراسیوں کی تعیناتی کے لئے رکن قومی اسمبلی یا چیئر مین ضلع کونسل کی سفارش کی ضرورت ہے تو انتظام کیا خاک چلے گا؟

اگر رشتہ داروں کو ہی سیاست میں متعارف کرنا ہوتا تو قائداعظم، لیاقت علی خان اور تحریک پاکستان کے دیگر اکابرین اپنے رشتہ داروں کو کیوں آگے نہیں لا سکتے تھے ۔ قائداعظم نے تو اپنے رشتہ داروں کو کاروبار اور وکالت کرنے سے روک دیا۔ قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں میں بھی سیاسی رہنماؤں نے رشتہ داروں کی سیاست میں شرکت کی ہمت افزائی نہیں کی۔ انہیں علم تھا کہ رشتہ داروں کے حکومتی عہدوں پر متعین ہونے سے سرکاری کاروبار میں ان کی مداخلت بڑھے گی جو ملکی نظام کو چلانے میں مشکلات کا سبب بنے گی۔ رشتہ داروں کو سیاست میں متعارف کرانے کا پہلا مرحلہ وہ تھا جب ایوب خان کے مارشل لاء کے آغاز میں سیاست دانوں کو ایبڈو کے تحت نااہل کیا گیا۔ اکثر نااہل افراد کے بھائیوں ، بیٹوں اور دیگر رشتہ داروں کو اس وقت موقع دیا گیا جب ایبڈو زدہ لوگوں نے ایوب خان کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔

مزید : کالم