اکیسویں صدی کے بھیڑیے اور میاں نواز شریف

اکیسویں صدی کے بھیڑیے اور میاں نواز شریف
 اکیسویں صدی کے بھیڑیے اور میاں نواز شریف

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عرصہ دراز قبل میاں محمد نواز شریف کی کردار کشی کا عمل شروع ہوچکا تھا۔ کم از کم پانچ چینلز پر مشتمل اینکرز کا ایک مخصوص حلقہ جس کے ذمے مقبول سیاستدانوں پر رکیک حملے کرنا تھا، نے انہیں ملک دشمن عالمی اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ قرار دینے کی کوششیں شروع کر دیں۔یہاں اس چیز کا احساس بھی نہیں کیا گیا کہ مشرف، زرداری دور حکومت کے بعد پاکستان تقریباً تباہی کے دہانے کھڑا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب بجلی، گیس کا بحران قومی مورال کو آخری حدوں تک ڈاؤن کر چکا تھا۔ اس بات کا کریڈٹ میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو دینا چاہئے جس نے سماجی بے چینی، شورش اور جنگ کے بطن سے جنم لیتی تبدیلی کے تصور کو بھانپا۔ یہ تبدیلی مذہبی قیادتوں، عسکری قوتوں، سیاستدانوں، سول بیوروکریسی اور اشرافیہ کی کوتاہ نظریوں سے نمودار ہوئی تھی۔یقیناًاس وقت کے میاں محمد نواز شریف کو بخوبی علم تھا کہ اسی پاکستان میں وہ زمانہ بھی گذرا جب وقت کی پگڈنڈی پر کئی ایسے نظریاتی محل بھی تعمیر تھے جہاں رہائش پذیرمذہبی رہنماؤں سے سوال کرنا جرم تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب مخالفین سچ کہنے والوں کو اہراموں جیسی تاریکیوں میں دفن کروا دیتے تھے ۔ یہ وہ گھڑیاں تھیں جب عسکری قیادت بارے بولنے والوں کی ہتھیلیوں پر سیلن زدہ قلعوں کی صعوبتیں نقش کر دی جاتی تھیں۔ یہ وہ لمحات تھے جب اختیارات کے سمندر میں تیرتی نوکر شاہی منتخب نمائندوں کی تذلیل کی عادی تھی اور یہ وہ ساعتیں تھیں جب اشرافیہ منافقت کی دستار پہنے آمروں کے درباروں میں سجدہ ریز تھی۔

سوال یہ ہے غیر ملکی ہدایات کی روشنی میں پاکستانی سیاستدانوں کو بدنام کرنے والوں کو میاں محمد نواز شریف سے چڑ کیوں تھی؟۔ کیا اس لئے کہ میاں صاحب اکثریت کا نمائندہ بننے جا رہے تھے؟۔ یا اس لئے کہ وہ اپنی سمجھ کے مطابق خاموش اکثریت کی خاطر کچھ کرنے کا عزم رکھتے تھے؟۔ یا اس لئے کہ وہ ان دنوں مذہب کے نام پر چھڑی جنگ و جدل کی بساط کو امن و آشتی میں بدلنے کے متمنی تھے؟۔ یا وہ سمندر کنارے بستے وحشی جنگجوؤں کے ٹولے کو نکیل ڈالنے کا عزم کر بیٹھے تھے؟۔ آخر کوئی تو وجہ تھی جس کی بناء پر چند طبقات انہیں اقتدار کے اعلی ایوانوں میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ شائد وہ نظام کے بھیدی ہو چکے تھے؟۔

معاملہ اس وقت شروع ہوا جب گوادر پورٹ ، پاک قطر گیس،سی پیک جیسے بڑے حجم کے درجنوں بریک تھروز کا مرحلہ آن پہنچا۔ پاکستان میں موجود اربوں ڈالرز کے وسائل طویل عرصے سے پہلی رات کی دلہن کی مانند گھونگھٹ اٹھائے جانے کے منتظر تھے۔یہیں وہ نکتہ بھی چھپا تھا جس کی وجہ سے عالمی بھیڑیے نوازشریف کے مخالف ہوئے۔اور نکتہ یہ تھا کہ جہاں جہاں یہ وسائل موجود تھے وہیں عالمی طاقتوں نے عسکریت پسندوں کے ڈیرے بھی ڈلوا رکھے تھے۔ اب یہ طاقتیں خوفزدہ تھیں اس نوازشریف سے جو دباؤ قبول کرنے سے انکاری اور منصوبوں کی تکمیل میں برق رفتاری کا قائل تھا۔ دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچے پاکستان کے دشمن عناصر بخوبی جانتے تھے نواز شریف صنعتکار بھی ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا فری ٹریڈ ورلڈ پالیسیوں کی بدولت ایک صنعتکار وزیراعظم قلیل مدتی پالیسیوں کی بدولت پورے پاکستان کی کاروباری سرگرمیوں کو طوفانی بگولوں کی مانند دوڑا سکتا ہے۔ یہی نواز شریف کا جرم بھی تھا۔

عالمی اسٹیبلشمنٹ اس لئے بھی خائف تھی کہ میاں محمد نواز شریف پرائیوٹائزیشن، Economic Liberalisation اور کاروباری کلچر کے فروغ پر یقین رکھتے ہیں۔ انہیں اپر مڈل کلاس میں جنم لینے والا یہ شخص اس لئے بھی اچھا نہیں لگتا تھا کہ وہ ملکی انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل کمیونیکیشن ایج، سرمائے کے آزادانہ بہاؤ، سپلائی سائیڈ اکنامکس اور بائیو کنزرویٹزم جیسے برق رفتار ترقی کے منصوبوں میں جدت لانے کے لئے حتمی پالیسی تشکیل دے چکا تھا۔ ان طاقتوں کو میاں محمد نواز شریف سے اس لئے بھی خار تھی کہ انہوں نے 91 ء میں نہ صرف پاکستان انٹارکٹک پروگرام کی بنیاد رکھی بلکہ اس برفستان میں پاکستان کا پہلا جناح انٹارکٹک اینڈ پولر ریسرچ سنٹر بھی قائم کیا۔ ان طاقتوں کو یہ شخص اس لئے بھی چبھتا تھا کہ اس نے مذہبی دہشت گردی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے بڑی واضح حکمت عملی تشکیل دی تھی۔ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں مصر کے سفارتخانے واقع اسلام آباد پر دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ نتیجے کے طور پر پاک، مصر تعلقات سرد مہری کا شکار ہوگئے۔ ان تعلقات کی بحالی اور دہشت گرد تنظیموں کو کچلنے کے لئے میاں محمد نواز شریف نے اینٹی ٹیررسٹ ایکٹ اور اینٹی ٹیررسٹ کورٹس تشکیل دیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں پورے پاکستان کی بنیاد پرست تنظیمیں میاں محمد نواز شریف کی جانی دشمن بن گئیں۔ آج حیرت ہوتی ہے جب کوئی میاں محمد نواز شریف کو دہشت گردوں کا ہمدرد گردانے۔ستم ظریفی یہ ہوئی کہ بعدازاں دہشت گردی کی انہی کورٹس کو پرویز مشرف نے میاں محمد نواز شریف کے خلاف طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں استعمال کیا۔ کیا ایسا شخص اسٹیبلشمنٹ یا بنیاد پرستوں کا ساتھی بن سکتا تھا؟۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) برسر اقتدار آئی تو اسے اکیسویں صدی کے بھیڑیوں کے ساتھ ساتھ تیزی سے بدلتی دنیا کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر افواہوں اور جھوٹ کی جنگ دروازے پر موجود تھی، جنک فوڈ نئے مذہب کی مانند پاکستان کو لپیٹ میں لے رہا تھا۔ تھری ڈی پرنٹرز کا زمانہ چند برسوں بعد ترقی پذیر ممالک کے دروازوں پر بھی دستک دینے والا تھا۔ سٹیم سیل کی ترقی بڑی بیماریوں کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکتی نظر آ رہی تھی۔ ایج ریورسنگ ڈرگز کی بدولت ساٹھ سالہ شخص کے پچیس سے تیس سالہ نوجوان کی مانند بن جانے کے سفر پر روانہ ہونے والا تھا ۔ سمندری پانی سے فصلیں اگانے کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا تھا۔ دوسرے لفظوں میں میاں محمد نواز شریف جس قدر زیادہ ٹیکنالوجی کے دروازے پاکستان پر کھولتے اتنا ہی قوم ترقی کے زینوں کو سرعت سے طے کرنے میں کامیاب ہوتی۔ دوسرا چیلنج ریاست اور ذرائع ابلاغ میں کو آرڈینیشن پیدا کرنا تھا۔ کئی صحافی محض لاعلمی یا اوور سٹریس ہونے کے باعث ریاستی معاہدوں اور انویسٹمنٹ کے معاملات کو اس قدر مسخ کر رہے تھے کہ عوام مستقبل سے مایوس اور سرمایہ دار پاکستان سے بھاگ رہے تھے۔ ان بیچاروں کو یہ علم نہیں تھا کہ ہر ریاست کو ایم او یو سے لے کر ملک میں سرمایہ انوسٹ کرنے تک کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں۔ نہ ان صحافیوں کی کاروباری سوجھ تھی نہ انہیں مزدور، مالک تعلقات سے واسطہ پڑا ۔تاہم ان کے منفی پروپیگنڈے سے گھبرا کر پاکستانی سرمایہ دار دبئی اور بنگلہ دیش بھاگ گئے ۔

اب سوال یہ ہے لاتعداد چیلنجز سے گھری ریاست میں میاں محمد نواز شریف کا طرز حکمرانی کس قدر کامیاب رہا۔ اگر تو زرداری صاحب کی حکومت سے موازنہ کیا جائے تو یہ دور بہت حد تک کامیاب تھا۔ تاہم جو مقبولیت، اتھارٹی اور تجربہ میاں محمد نوازشریف صاحب کو دستیاب سے اس سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ انہوں نے ذمہ داریاں بانٹتے وقت مکمل اعتماد کیا۔ وزراء کی پرفارمنس اپ ٹو ڈیٹ نہ رہی۔ مطلوبہ نتائج بھی حاصل نہ ہو سکے۔ اکیلا وزیر اعظم کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ یہ وزراء کی ذمہ داری تھی وہ نئے زمانے اور نئی حقیقتوں کے پیش نظر پاکستان کو اپ گریڈ کرنے کے لئے اکیسویں صدی کی شخصی آزادیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اپنے اداروں کے اختیارات میں اضافہ اور بروقت جوابدہی کا میکنزم متعارف کرواتے۔ میاں محمد نواز شریف کا وژن وہ تھا جو عہدہ چھوڑنے کے بعد کی تقریروں میں نظر آیا۔ آئینی تبدیلیاں، نظام اپ گریڈیشن۔ اب یہیں سوال یہ ابھرتا ہے ان کے اردگرد وہ کون سا ایسا گروپ موجود تھا جس نے انہیں غیر ضروری ایشوز میں الجھا کر اس انقلابی ایجنڈے پر کام کرنے سے روکا؟۔ آنے والے دنوں میں یہ کردار بھی نظر آجائیں گے۔ یہ لاکھ نئی مسلم لیگ بنا لیں مگر مسلم لیگی ووٹروں کا جو رومانس میاں محمد نواز شریف سے ہے وہ کسی اور کے حصے میں آئے یہ ممکن ہی نہیں۔

مزید : کالم