ہند چینی فوجی تنازعہ (1)

ہند چینی فوجی تنازعہ (1)
 ہند چینی فوجی تنازعہ (1)

  

میرا خیال تھا کہ کالم کا عنوان:’’ انڈو چائنا ملٹری سٹینڈ آف‘‘ رکھوں۔ پھر سوچا کہ اردوئے معلی کے عشّاق خواہ مخواہ برہم ہو جائیں گے کہ اگر کسی انگریزی لفظ کا اردو مترادف موجود ہو اور زبان زدِ خاص و عام بھی ہو تو ’’بدوبدی‘‘ انگریزی کو اپنانا، اردو کی کوئی خدمت نہیں۔ لیکن یہ خاکسار پیشہ اس اصول کا پیرورہا ہے کہ اگر کسی لفظ کا اردو میں کوئی برابر کی چوٹ مترادف موجود نہ ہو تو اس کو اردو میں املا کر دینا ہی بہتر ہے۔ اردو زبان کے ہزاروں الفاظ ایسے ہیں جن کو ہم اسی قاعدے کے تحت اردو۔ انگلش لغت میں داخل کرچکے ہیں۔۔۔۔ اب اس ’’ملٹری سٹینڈ آف‘‘ کو ہی لیجئے۔ چلو ملٹری کا ترجمہ تو فوجی (ایک حد تک)قابلِ قبول ہے لیکن سٹینڈ آف کا کیا ترجمہ کریں گے؟ اس کا ترجمہ نہ تنازعہ کیا جاسکتا ہے، نہ جھگڑا، نہ ٹکراؤ اور نہ ہی تصادم ۔۔۔ سٹینڈ آف کا لغوی اور مرادی مفہوم یہ ہے کہ ایسا جھگڑا یا تنازعہ جو ’’وقوع پذیر ہونے کے لئے منتظر کھڑا‘‘ ہو۔ اب ان 7,6 الفاظ کو معانی کے اعتبار سے ایک لفظ یا اصطلاح میں ڈھالئے تو آپ کو اردو زبان میں کوئی ایسا مجرد اور جامع مترادف نہیں ملے گا۔ ۔۔۔ ہاں پنجابی میں ایک لفظ ’’پھڈا‘‘ ضرور موجود ہے جو سٹینڈ آف کے مرادی مفہوم کے قریب قریب چلا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے جدیداردو۔ انگلش ڈکشنری کے مرتبین کو یہ ٹاسک سونپ دینا چاہئے کہ وہ اس طرح کے انگریزی الفاظ، محاورات، مرکبات، ضرب الامثال اور اصطلاحات کو جوں کا توں اردو میں املا کرکے اسی کے سامنے ان کی تشریح اور توضیح وغیرہ بھی لکھ دیں تو اس ایکسر سائز سے بہتوں کا بھلا ہو جائے گا!

اب آتے ہیں انڈو چائنا سٹینڈ آف کی طرف۔۔۔اس موضوع پر بہت سے سوال قاری کے ذہن میں اٹھیں گے مثلاً یہ کہ یہ سٹینڈ آف کہاں ہے، کیا ہے، اس کی تاریخ اوراس کا جغرافیہ کیا ہے، یہ امنِ عالم کے لئے کتنا خطرناک ہوسکتا ہے، اس کا ممکنہ حل کیا ہے، طرفین کے موقف کیا ہیں، بے لاگ اور غیر جانبدار مبصروں کے تجزیئے کس فریق کے حق میں جاتے ہیں، اگریہ سٹینڈ آف حل ہو جائے تو اس کا مثبت فال آؤٹ بین الاقوامی امن و سلامتی کی کوششوں پر کیا پڑے گا اور اگر حل نہ ہوا تو اس کے منفی اثرات کا کیف و کم کیا ہوسکتا ہے ؟وغیرہ وغیرہ۔۔۔

دنیا بھر میں ایسے بہت سے مسائل موجود ہیں جن پر فریقین کے دعووں میں 180 ڈگری کا اختلاف پایا جاتا ہے، یہ تنازعات ایک عرصے سے حل طلب ہیں اور یہ ایسے سوئے ہوئے فتنے ہیں کہ اگر ان کو کوئی فریق جگانے کی کوشش کرے گا تو گویا قیامت برپا ہوسکتی ہے۔۔۔ انڈو چائنا ملٹری سٹینڈ آف بھی ایک ایسا ہی ’’فتنۂ بیدار‘‘ سے جو 68برس تک خوابیدہ رہنے کے بعد اچانک جاگ اٹھا ہے اور امنِ عالم کو للکار رہا ہے۔۔۔ یہ تنازعہ، چین اور بھارت کے درمیان ہے اور چونکہ چین ہمارا بہترین دوست اور بھارت بدترین دشمن ہے اس لئے ہر پاکستانی کو اس تنازعے کی آؤٹ لائنوں کی خبرہونی چاہئے۔۔۔ اس اس آرٹیکل میں اسی مقصد کو پیش نظر رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اول یہ دیکھتے ہیں کہ یہ تنازعہ کس بات پر ہے؟۔۔۔ اس بنیادی سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ جھگڑا درحقیقت چین اور بھوٹان کے درمیان ہے، چین اور انڈیا کے درمیان نہیں۔۔۔ اور جھگڑا صرف ایک 34مربع میل کے قطعہ ء اراضی کی ملکیت پر ہے جس پر چین اور بھوٹان دونوں اپنا حقِ ملکیت جتا رہے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں یہ قطعہء اراضی 6میل لمبا اور 6میل چوڑا ہے، بھوٹان اور سکم کے درمیان واقع ہے اور اگر چین اس پر قابض ہو جاتا ہے تو اس6میل زمینی ٹکڑے کو تبت سے ملا کر سیدھا وسطیٰ بھارت میں پہنچ جاتا ہے۔۔۔ اللہ اللہ خیر سلا!۔۔۔

اب ذرا اس کے تاریخی پس منظر پر نظر ڈالتے ہیں۔۔۔۔ بھارت کی شمالی سرحد جو مغرب میں لداخ سے شروع ہو کر مشرق میں بھوٹان تک جاتی ہے اس کی کل لمبائی2000 میل ہے۔ اس سرحد پر نیپال، سکم اور بھوٹان واقع ہیں جو بھارت اور چین کے درمیان شمالی سرحد تشکیل کرتے ہیں۔ یہ تینوں زمین بند(Land Locked)ممالک ہیں۔ ان میں سے سکم تو ایک عرصے سے بھارت میں ضم کیا جاچکا ہے اور باقاعدہ بھارت کا ایک حصہ(ریاست) بن چکا ہے جبکہ دوسرا بھوٹان ہے جو اگرچہ ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور اقوام متحدہ کے ممالک میں بھی شامل ہے لیکن حقیقی معنوں میں بھارت کا دست نگر اور مطیعِ فرمان ہے۔

بھوٹان، برطانوی عہد میں بھی سلطنت برطانیہ کا حصہ نہیں تھا اور یہاں بادشاہت قائم تھی جو آج بھی ہے البتہ اب یہ جمہوری بادشاہت بن چکی ہے۔ یعنی برطانیہ کی طرح بادشاہت یہاں بھی ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ بھی ہے، وزیر اعظم بھی ہے اور الیکشن بھی ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ملک،بھارت کے چنگل میں ’’گرفتار‘‘ ہے۔ یہ گرفتاری 1949ء میں عمل میں آئی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ 1948ء میں جب چین کو آزادی ملی تھی تو اس نے تبت کو بھی چین میں شامل کرلیا تھاکیونکہ تبت عہد قدیم ہی سے چین کا حصہ تھا جسے جاپانی اور برطانوی سلطنتوں نے مل کر ایک خود مختار ریجن(Autonomous Region) کا نام دے رکھا تھا۔ لہاسہ، تبت کا دارالحکومت تھا اور یہاں ایک عجیب قسم کی طرز حکمرانی قائم تھی۔ حکمران کو دلائی لامہ کہا جاتا تھا۔ اس کا انتخاب الف لیلوی داستانوں کی طرح ایک محدود اور مخصوص طبقہ کیا کرتا تھا۔ جب کوئی دلائی لامہ مرجاتا تو یہ طبقہ ایک مقررہ دن (جسے عوام سے خفیہ رکھا جاتا تھا) علی الصبح دارالحکومت لہاسہ سے نکل کر کسی جانب چل پڑتا اور جو شخص سب سے پہلے شہر میں داخل ہوتا وہ نیا دلائی لامہ بن جاتا! موجودہ دلائی لامہ جو 1949ء میں بھاگ کر انڈیا چلا گیا تھا اور ابھی تک وہیں مقیم ہے، اس کا انتخاب بھی اسی الف لیلوی اساطیری طرز پر کیا گیا تھا۔

1949ء میں جب چین، تبت پر اپنا قبضہ مستحکم کر رہا تھا تو اس کی افواج شمال سے جنوب کی طرف بڑھیں اور لداخ، نیپال، سکم اور بھوٹان کی سرحدوں تک جا کر رک گئیں۔۔۔ ہم صرف بھوٹان کا ذکر کریں گے۔۔۔ تب بھوٹان میں بادشاہت قائم تھی اس لئے چینی افواج نے بھوٹان کو تو نہ چھیڑا لیکن جہاں تک تبت کا علاقہ تھا اس پر قبضہ کر لیا۔چینی افواج جب بھوٹان کی مغربی سرحد تک آ گئیں تو بھارت کے سفارت کار بھاگ کر بھوٹان کے دارالحکومت تِھم فو (Thimphu) پہنچے اور بادشاہ کو ورغلایا کہ چین آپ کے ملک کو ہڑپ کر لے گا اس لئے آپ ہماری بالادستی قبول کر لیجئے۔ شاہِ بھوٹان کو ناچار ماننا پڑا۔ اس کی بادشاہت بحال رہی اور بھارتی فوج بھوٹان میں داخل ہو گئی۔ تب سے لے کر آج تک یہاں بھارت کا بالواسطہ قبضہ ہے بالکل اسی طرح جس طرح مقبوضہ جموں و کشمیر پر اس کا قبضہ ہے۔

بھارت اور بھوٹان کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس پر بادشاہ نے دستخط کئے ہوئے ہیں اور اسی معاہدے کی رو سے بھوٹان کی سیکیورٹی کی ذمہ داری بھارت نے لے رکھی ہے۔ بھوٹان کا کل رقبہ 15000مربع میل ہے۔ آبادی صرف 8لاکھ ہے۔ اس کی فوج کی تعداد 16ہزار ہے جس میں زیادہ تعداد پولیس کی ہے۔ اس کی تنخواہیں بھارت ادا کرتا ہے۔ ایک ملٹری ٹریننگ اکیڈمی بھی بھارت نے یہاں تعمیر کر رکھی ہے۔ ایک گاف کورس بھی ہے اور بھوٹان کی مغربی سرحد پر پارو (Paro) کے مقام پر ایک ہوائی اڈہ بھی ہے۔ ریل نہیں ہے۔ سڑکیں تنگ ہیں۔ ایک ملٹری ہسپتال بھی ہے۔آبادی کا 80فیصد بدھ مت کا پیروکار ہے، باقی ہندو ہیں جو 1948ء کے بعد یہاں آکر بس گئے تھے۔ (مشرقی پاکستان اور اب بنگلہ دیش کو یاد کیجئے)

بھوٹان اور سکم کے درمیان ایک 6میل چوڑی وادی ہے جو تبت کا حصہ تھی۔اس کو سلی گوری کاریڈار بھی کہا جاتا ہے۔ یہی وہ وادی ہے جس پر ملکیت کا دعویٰ چین کو بھی ہے اور بھوٹان کو بھی ہے۔ اس وادی میں ایک کچی سڑک ہے جو شمال (تبت سے) سے اتر کر نشیب کی طرف جاتی اور پراپر انڈیا میں جا نکلتی ہے۔ جب چین کے انجینئروں نے اس کچی سڑک کو پختہ کرنے کا کام شروع کیا تو بھارت نے 16جون 2017ء کو اپنے فوجی، چین کا راستہ بلاک کرنے کے لئے بھیجے۔ ان فوجیوں میں وہ دستے بھی شامل تھے جو بھارت نے بھوٹان میں اس وادی کی دائیں طرف ایک گاؤں ’’حا‘‘ (Haa) میں مقیم کر رکھے تھے(نقشہ دیکھئے)۔۔۔ اب ایک طرف چینی افواج نے خندقیں کھود رکھی ہیں اور دوسری طرف بھارتی فوجی سامنے کھڑے ہیں۔ اس سٹینڈ آف کو دو ماہ سے زیادہ گزر چکے ہیں۔ دونوں کے درمیان صرف چند سو گز کا فاصلہ ہے۔ دونوں جوہری قوتیں ہیں، دونوں کے پاس میزائل ہیں اور دونوں کی آبادیاں سوا ارب نفوس سے زیادہ ہیں۔(جاری ہے)

مزید : کالم