اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ۔۔۔ناموس رسالتﷺ (6)

اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ۔۔۔ناموس رسالتﷺ (6)

اس حوالے سے مزید لکھتے ہیں:

"ہر شخص جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ، رسول اکرم ؐ، قرآن کریم کی ناموس اور شعائرِ دین کی حرمت مسلمانوں کے لیے انتہائی حساس مسئلہ ہے۔ پہلے ایسی فضا پیدا کی جاتی ہے کہ مسلمان مشتعل ہوں اور پھر اْن پر انتہا پسندی ، نفرت انگیزی اور جذباتیت کی چھاپ لگا دی جائے اور جی بھر کر ملامت کی جائے۔ کئی دنوں سے ان بد نصیب بلاگرز کا مسئلہ چل رہا ہے ،لیکن ان لبرل حضرات نے اس پر کوئی آواز نہیں اْٹھا ئی او ر نہ ہی مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کی۔ اگر کسی حساس ادارے کے بارے میں کوئی اس طرح کی حرکت کر بیٹھے تو اسے غائب کر دیا جاتا ہے ، لیکن ناموسِ رسالآ جن پر ہمارے ماں باپ اور ہم سب کی جانیں قربان ہوں ، کے حوالے سے اداروں کو بھی کسی کارروائی کی توفیق نہیں ہوتی۔ مذہبی انتہا پسندی کا رونا رویا جاتا ہے ، لیکن لبرل اور سیکولر انتہا پسندوں کے بارے میں کوئی آواز نہیں اْٹھا تا ، انہیں فتنہ انگیزی ، عصبیت اور انتہا پسندی کی کھلی اجازت ہے۔ پس ہماری گزارش ہے کہ قبل اس کے کہ مسلمان سڑکوں پر آ جائیں اور اْن کے جذبات بے قابو ہو جائیں ، آئی ٹی کی وزارت کے حکام ، انٹیلی جنس ادارے اوردیگر حساس مراکز فوری اقدام کر کے عوام کے جذبات مشتعل ہونے سے بچائیں۔"

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی مجلس شوریٰ جو کہ دستور کی رو سے باشندگان پاکستان کی نمائندہ اور ان کے احساسات ، منشاء4 اور خواہشات کی حقیقی ترجمان ہے ، اس اہم مسئلے سے قطعاًغافل نہ رہی۔ اس عدالت میں مقدمہ کی سماعت کے دوران جس طرح پاکستان کے باقی طبقات کے نمائندہ حضرات نے ہر فورم پر اس مسئلے کی نزاکت کو اجاگر کیا ، بعینہ مجلس شوریٰ نے بھی اپنے فرائض کو مد نظر رکھتے ہوئے غیر معمولی نوعیت کی قرار دادیں منظور کیں جن میں انتہائی شدید الفاظ میں مجرموں کیخلاف 295۔C تعزیرات پاکستان کے تحت کارروائی کے ساتھ ساتھ اْن کو نشان عبرت بنانے کا مطالبہ کیا اور سوشل میڈیا سمیت تمام ذرائع ابلاغ پر ایک سخت مانیٹرنگ سسٹم قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ پاکستان کی مجلس شوریٰ کے ایوان بالا یعنی سینٹ نے مورخہ 10 مارچ 2017 کو قرارداد نمبر 317 متفقہ طور پر منظور کی جس کا متن حسب ذیل ہے :

" پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر قائم ہوا۔ پاکستان کا قانون تمام انبیاء کرام ؑ ، بالخصوص امام الانبیاؐء خاتم الانبیاؐء والمرسلین حضرت محمدؐ ، صحابہ کرامؓ ، اہل بیت عظامؓ، تمام مقدس شخصیات اور شعائرِ اسلام کے تحفظ کی ذمہ داری لیتا ہے ، تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ C۔295 انہی مقدس شخصیات اور شعائر اسلام کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی ہے۔ جبکہ حالیہ دنوں میں کچھ ناعاقبت اندیش اس قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے شعائر اسلام کی عموماً اور امام الانبیاء ، خاتم الانبیاء والمرسلین جناب محمد مصطفےٰؐ ، صحابہ کرامؓ، اہل بیت عظامؓ کی خصوصی توہین کر کے اپنے ناپاک عزائم کو فروغ دیتے ہوئے فسادات کی آگ کو بھڑ کانے کی پوری کوشش میں مصروف ہیں۔ اور امت مسلمہ کے ایمان پر سنگین حملے کر کے پاکستان میں نئے فسادات کو جنم دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہماراآئین اور قانون جہاں ہر قسم کی آزادیِ اظہار رائے کا حق دیتا ہے وہاں تمام انبیاء کرام ؑ ، صحابہ کرامؓ ، اہل بیت عظامؓ سمیت کسی بھی مقدس شخصیت کی توہین کی قطعاًاجازت نہیں دیتا۔ اللہ ذوالجلال اور خاتم الانبیا ء و المرسلین حضرت محمدؐ کو راضی کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے گستاخانہ افعال کو روکنے کے لیے متعلقہ محکمہ دفعہ C295 کے تحت ایسے افراد اور ان کے سہولت کاروں کو نشان عبرت بنائیں اور سوشل میڈیا دیگر تمام ایسے ذرائع کے حوالے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی پر ایک سخت مانیٹرنگ سسٹم قائم کریں۔"

اسی طرح پاکستان کی مجلس شوریٰ کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی نے اتفاق رائے سے مورخہ 14 مارچ 2017 کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ : "یہ ایوان سوشل میڈیا اور دوسرے تمام ذرائع ابلاغ پر مسلسل توہین رسالت کی اشاعت کی بھرپور مذمت کرتا ہے اور حکومت سے پْر زور مطالبہ کرتا ہے کہ مملکت اسلامی میں مسلمانوں کے جذبات و احساسات اور ان کے دین اور پیغمبر خاتم النبین نبی برحقؐ کے خلاف توہین آمیز مواد کی اشاعت کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کئے جائیں۔ "

پاکستان کی مجلس شوریٰ کی قراردادیں ، اہل علم و دانش کی تحریریں ، اخبارات کے اداریے اور ملک میں عوامی اضطراب اور بے چینی اس امر کی غماز ہے کہ یہ مسئلہ پاکستان کے تحفظ، سلامتی ، دفاع اور نظریاتی اساس سے تعلق رکھتا ہے۔ آئین پاکستان عوام کو جو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے اس میں حق زندگی اورزندگی کو احسن انداز میں گزارنے کاحق بھی شامل ہے ۔ یہ عدالت سمجھتی ہے کہ پاکستان کے عوام اس حالت میں اپنے حق زندگی سے ہر گز استفادہ نہیں کر سکتے جب تک اْن کی سب سے محبوب ہستیؐ کے نامو س کی حفاظت نہ ہو۔اسی طرح آئین میں بنیادی حقوق کے باب میں دفعہ 19 میں آزادیِ تقریر کے ضمن میں اسلام کی عظمت کی حفاظت کی جو ضمانت دی گئی ہے اس پر کما حقہْ عمل درآمد میں کوتاہی اور غفلت عوام کے بنیادی حقوق پر براہ راست حملہ ہے جس پر وہ اس عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر کلی طور پر حق بجانب ہیں۔ آرٹیکل 199 کے تحت یہ عدالت اتنی اہمیت کے حامل عوامی مفاد کے مسئلے پر اپنے دائرہ کار کو سکیڑنہیں سکتی۔ یہ اختیار پاکستان کے عوام کی امانت ہے اور اسے عوامی منشاء جو کہ دستور میں واضح کی گئی ہے ، کے مطابق ہی استعمال کرنا عدالت کی ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام فریق جو اس مقدمہ میں عدالت میں پیش ہوئے کسی نے بھی عدالت کے اختیار سماعت پر اعتراض نہیں کیا۔ علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ کے بے شمار نظائر کی روشنی میں یہ ایک مسلمہ قانونی حقیقت ہے کہ پاکستان کے عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی ، حفاظت اور ادائیگی کی غرض سے عدالتِ عالیہ اپنے دستوری اختیارات کو برو ئے کار لاتے ہوئے مناسب احکامات بمطابق قانون صادر کر سکتی ہے۔

7۔نبی مہربان ؐ کی ذات گرامی ہر قسم کے عیب سے مبرا ہے ، ہر قسم کی تنقیص سے بالا تر ہے ، ہر قسم کی تنقید سے ماورا ہے ، ہر قسم کی خطا ء سے معصوم ہے ، لہٰذا اسلام کسی شخص یا گروہ کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ نبی کریم ؐ کی ذات ، صفات اور منصب کو ہدفِ تنقید و ملامت بنائے۔ (جاری ہے)

مزید : اداریہ