موجودہ توانائی بحران میں صرف یورنیم سے 8800میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں، راجہ حسن اختر

موجودہ توانائی بحران میں صرف یورنیم سے 8800میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں، ...

لاہور(کامرس رپورٹر ) موجودہ توانائی بحران میں صرف یورنیم سے 8800میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں،یورنیم کی تلاش کے پانچ سالہ منصوبے کو موثر بنایا جائے۔پاکستان کا خطہ معدنی وسائل سے مالا مال علاقہ ہے اور ہم اپنے قدرتی وسائل کو خانہ جنگی میں جھونک رہے ہیں۔ ہمیں پاکستان کی سلامتی کو سامنے رکھ کر قدرتی وسائل کا بہتر طریقے سے استعمال کو یقینی بنانا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہارلاہور چیمبر (بزنس مین فرنٹ گروپ) کے صدرو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) ریجنل قائمہ کمیٹی برائے’’کان کنی و معدنیات‘‘ کے چےئرمین راجہ حسن اختر نے قدرتی وسائل کے بہتر استعمال کے حوالے سے کیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں یورنیم کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور مزید ذخائر کو تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت تک پاکستان میں ایک ہزار سے زائد ایسے مقامات دریافت ہو چکے ہیں جہاں سے 6000 ٹن سے زائد یورینم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی بحران میں ہم صرف یورنیم سے 8800میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ اس وقت پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت 2 عدد پاور پلانٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ یورنیم کی افزورگی کو بڑھا کہ ہم مزید ایٹمی پاور پلانٹ لگا سکتے ہیں۔حسن اختر نے مزید کہاکہ یورینیم کے سب سے زیادہ ذخائر ڈیرہ غازی خان کے مغر ب میں واقع سوالک کی پہاڑیوں میں ہیں البتہ یہ ذخائر بہت اچھی کوالٹی کے نہیں ہیں مگر پاکستان کی ضرورت کو پورا کرنے میں کافی حد تک کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بنو بیسن، سلیمان رینج، عیسیٰ خیل، میاں والی ڈسٹرکٹ، کرتھر رینج، کوہاٹ، سوان اور موچی دھر میں بھی یورینیم کے وسیع ذخائر موجود ہیں ۔ ڈسٹرکٹ ڈیرہ غازی خان کے شمال میں یورینیم کے درجن سے زائد چھوٹے ذخائر موجود ہیں جن میں ننگر نئی، کہا نالو، راجن پور، راکھی منہ، راکوچور اور تنوسہ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی ایٹمی صلاحیت کو پیدا شدہ تو انائی بحران کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ دنیا بھر میں پیدا ہونے والی یورنیم کا صرف ایک فیصد پاکستان پیدا کر رہا ہے۔ پاکستان اپنی پیداوار بڑھا کر یورنیم کو بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ میانوالی، بنوں کرتھر، کوہ سلیمان، راجن پور اور تونسہ کے علاوہ دیگر علاقوں میں یورنیم کی تلاش کا شروع کیا جانا ضروری ہے ۔پاکستان میں بڑھتی ہوئی کرپشن، اقراباء پروری، خانہ جنگی، سیاسی عدم استحکام اور لاء اینڈ آرڈر کی مخدوش صورتحال کے باعث ہم اپنے قدرتی وسائل کو پاکستان کی ترقی کے لیے استعمال نہیں کر پارہے، ہمیں قدرتی وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال میں لانا چاہیے۔

مزید : کامرس