کراچی کے نئے خوبصورت شاپنگ مال کی جگمگاتی ایل ای ڈی سے آرائش

کراچی کے نئے خوبصورت شاپنگ مال کی جگمگاتی ایل ای ڈی سے آرائش

لاہور( پ ر)پاکستان: روشنی پیدا کرنے والی عالمی شہرت یافتہ فلپس لائٹنگ (یورو نیکسٹ ایمسٹرڈم ٹکر: LIGHT) نے پاکستان کے بڑے شاپنگ مالوں میں سے ایک کراچی میں واقع لکی ون کو تعمیراتی ایل ای ڈی لائٹنگ ٹیکنالوجی سے روشن کرنے کا آج اعلان کیا ہے۔متحرک ایل ای ڈی لائٹنگ جو خیرہ کن روشنی کا تاثر پیدا کرسکتی ہیں، نے مال کو شہر کی سب سے زیادہ تاریخی تمثیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ مال کے سامنے کے حصے کی روشنیوں کا تصور، اس کی شروعات اور انتظام فلپس لائٹنگ کی جانب سے کیا گیا ہے جس میں تنصیب، آغاز اور اس کی پروگرامنگ شامل ہے جو مال کے اندر اور باہر موجود آنے جانے والوں پر ایک دیر پا تاثر قائم کرتی ہے۔لکی ون گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سہیل تبہ نے کہا کہ فلپس لائٹنگ ایک بہترین شراکت دار ہے۔ ہمارا مقصد ایک ایسا شاپنگ مال تعمیر کرنا تھا جس کی برابری پاکستان میں کوئی نہ کر سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مال کے سامنے کے حصے کی لائٹنگ شاندار کمرشل مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ آنے والوں کے لیے تفریح کا باعث بھی ہے۔ یہ مال میں اس لمحے جان ڈال دیتی ہیں جس لمحے وزیٹرزدور سے مال کی طرف رخ کرتے ہیں۔ جب وہ داخل ہوتے ہیں اور اس کے اندرونی حصے کا نظارہ کرتے ہیں تو ان کی نظر براہ راست فیملی کی تفریح کے لیے بنائے گئے مرکز ’ون ڈرلینڈ‘ کی خیرہ کن روشنیوں کی جانب اٹھتی ہے۔

اس لئے حکومت نے مختلف دیہی علاقوں میں ایل پی جی کا پائپ لائنوں کے نیٹ ورک بنانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے زریعے عوام کوسستا ایندھن فراہم کیا جائے گا اورسبسڈی کے نقصان کو کراس سبسڈی کے زریعے پورا کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایل پی جی کوپائپ لائن کے بجائے دنیا بھر کی طرح سلنڈروں کے زریعے فراہم کیا جائے کیونکہ پائپ لائن کا نیٹ ورک بنانے سے اخراجات اور خطرات بڑھ جائیں گے۔ ایل پی جی قدرتی گیس کی طرح ہوا سے ہلکی نہیں بلکہ بھاری ہوئی ہے اسلئے لیک ہونے کی صورت میں زمین کی طرف جاتی ہے جس سے حادثات رونما ہو سکتے ہیں۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کا تناسب ایشیاء میں سب سے زیادہ ہے جسے ایل پی جی کی فراہمی کے زریعے کم کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ لائق تحسین ہے کیونکہ اس طرح کے منصوبوں پر بھارت میں کافی عرصہ سے عمل درامد ہو رہا ہے جس سے جنگلات کی کٹائی میں کافی کمی آئی ہے مگر مختلف علاقوں میں پائپ لائنیں بنانے کے معاملہ پر دوبارہ غور کیا جائے کیونکہ یہ دنیا میں کہیں بھی نہیں ہو رہا ہے۔

مزید : کامرس