لاہور چیمبر ‘ پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

لاہور چیمبر ‘ پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر ...

لاہور( کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی نے ماربل سیکٹر کی ترقی کے لیے ملکر کام کرنے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر محمد ناصر حمید خان اور پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زاہد مقصود بٹ نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ صوبائی وزیر معدنیات چودھری شیر علی اور لاہور چیمبر کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے ماربل کے کنوینر چودھری خادم حسین نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ اجلاس میں سیکریٹری مائننگ اینڈ منرل ڈاکٹر محمد ارشد، ایگزیکٹو کمیٹی رکن ذیشان خلیل اور تاجر محبوب سرکی بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر چودھری شیر علی نے کہا کہ پنجاب میں کوئلے، لائم سٹون، نمک، آئرن اور کاپر سمیت دیگر بہت سی معدنیات کے وسیع ذخائر ہیں جو مختلف صنعتوں میں استعمال ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے ری سٹرکچرنگ کی جارہی ہے، ہنرمند افرادی قوت اس شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ لہذا اس جانب خصوصی توجہ دی جارہی ہے جبکہ مائننگ ورکرز کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کیا جائے۔ لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر ناصر حمید خان نے کہا کہ پاکستان ماربل کی کان کنی کرنے والا بڑا ملک ہے ، وسیع پیمانے پر ذخائر ہونے کے باوجود ماربل کی برآمدات بہت کم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو ماربل اینڈ سٹون انڈسٹری کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ماربل انڈسٹری کی ترقی کے لیے ویلیوایڈیشن، جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور افرادی قوت کی تربیت پر توجہ دینا ہوگی۔ پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا کہ دونوں اداروں کے درمیان اشتراک کے بڑے فائدے ہونگے اور اس سے ماربل اور گرینائٹ سیکٹر کی تیز رفتار ترقی میں مدد ملے گی۔ لاہور چیمبر کی سٹینڈنگ کمیٹی کے کنوینر چودھری خادم حسین نے کہا کہ پاکستان میں بہترین معیار کا ماربل پایا جاتا ہے لیکن ماربل کی کٹنگ اور گریڈنگ کی ٹیکنالوجی نہ ہونے کی وجہ سے بھرپورفائدہ نہیں اٹھایا جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی اس شعبے میں بہترین ٹیکنالوجی رکھتا ہے اور وہاں کے تاجر پاکستانی تاجروں کے ساتھ مشترکہ منصوبہ سازی کی خواہش بھی رکھتے ہیں جس سے پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول میں مدد ملے گی۔

مزید : کامرس